Research

Know the Truth of your Faith

Sunday, 17 November 2013

خلقت حصہ اول

تالیف؛ ڈاکٹر عنبر تاجور۔ (پی ایچ ڈی- قانون )، جے ڈی ( تقابل ادیان ) خلقت: (قران کی تفسیر) تمہید: عموماً یہ خیال کیا جاتا ہےکہ پہلے پہل کچھ بھی نہیں تھا صرف عدم تھا اور پھر خدا نے کن کہا اور فوراً یہ کائنات تشکیل پاگئی اور اسی لمحے انسان اپنی موجودہ شکل لیے ہوئے آموجود ہوا۔ اور یہ پہلا انسان ہی پہلا بنی بھی تھا جو صاحب شریعت بھی تھا۔ دلیل اس امر کی یہ دی جاتی ہے کہ انسان سے قبل اس کی زندگی گذارنے کے احکام موجود ہونے چاہیں ورنہ خدا کے قائدہ لطف پر الزام آتا ہے۔ ہمیں یہاں خدا کے قائدہ لطف پر بحث نہیں کرنی اور نہ ہی ان دلائل کو باطل کرنے پر بحث مقصود ہے جو کل کائنات اور اس کی تمام اشیأ کو ایک لمحہ میں متشکل جانتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور عرض ہے کہ جو مذاہب خود کے''فطری'' ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں یا تو یہ امر تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کے ظہور سے قبل ایک فطری دور گذر چکا ہے جس کے ابتدائی تجربات کے بعد سماج میں خود رو اصولوں کی خامیوں کی اصلاح صرف خدائی قوانین سے ہی ممکن نظر آئی، تبھی وہ خود کے فطری ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ اور اگر یہ امر تسلیم کیا جائے ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا بھی جاتا ہے، کہ سماج کی تخلیق سے قبل ہی مذہب تشکیل دے دیا گیا تھا اور مذہب کے فطری ہونے کا ''علم'' چونکہ خدائے متعالﷻ کو ہی ہے اس لیے پیرویانِ مذہب بھی یہی یعقین رکھتے ہیں۔ اس صورت میں مذہب کے فطری ہونے کا دعویٰ ایمانیات کی رو سے ہوگا تجربی نہیں ہوگا۔ کیا مذہب کو تجربی ہونا چاہیے یا نہیں ایک جدا بحث ہے جس پر ہم سے قبل فلاسفہ اور علمأ بہت کچھ فرما چکے ہیں اور ان کے مباحث قابل قدر ہیں۔ علماءGenetics بتاتے ہے کہ انسان ایک روز اچانک وجود پذیر نہیں ہوگیا ہے بلکہ صدیوں کی ارتقا evolution کے بعد انسان وجود میں آیا ہے اوراُسےاپنے ابتدائی براہ راست مورث Hominin سے موجودہ شکل اختیا ر کرنے میں صدیوں کا فاصلہ طے کرنا پڑا ہے ۔ Hominin تو انسانوں اور لنگوروں کا مشترکہ مورث ہے تاہم ان کے بعد آنیوالے Afarensis اور Australopithecus afarensis میں اکھٹا رہنے کی خواہش تو پائی جاتی تھی تاہم ان میں ابھی سماج تشکیل نہیں پایا تھا۔ انسانی جسم سے بالوں کا خاتمہ Bipedalism ، کے بعد ہی انسانی سماج کی تخلیق جدید مورث Australopithecus سے ہی شروع ہوسکی ہے۔ یہی انسانوں اور لنگوروں کے درمیان ''امتیاز'' کا زمانہ ہے۔ ڈائنوساروں نے خاصے بڑے پیمانے پر australopithecus کا شکار کیا اور بعد میں آنیوالے Homohbilis انسانوں میں انسانی بقا کا شعور پیدا ہوا ہے تاہم یہ ایک طویل زمانہ ہے جس میں Homohabilis انسان اور ان کی ایک جدید ارتقائی شکل Homoerectus ساتھ ساتھ موجود رہے ہیں البتہ homohabilis زمانے کے ساتھ ساتھ ختم ہوگئے۔ دیگر جانداروں کے سامنے جسمانی کمزوری کی وجہ سے homoerectus کو سماج کی ضرورت پیش آئی جبکہ ان کی ہی نسل homohabilis اور دیگر جاندار اُن سے نبرد آزما تھے۔ میرا خیال کہ یہ وہ زمانہ نہیں ہے جسے جان لاک John Louck اور تھامس ھابز Thomas Hobbes فطری حالت کا زمانہ کہتے ہیں۔ یہ زمانہ Homoheidel اور Holotypeo سے قبل شروع نہیں ہوسکا۔ میرے ذاتی خیال میں homoheildel کا زمانہ سماج کو مظبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتا تھا اور انسانی شعور ، انسانی ذہن میں جگہ بنا چکا تھا اس لیے اب ایک نبی ،آدمؑ کی تخلیق ضروری تھی۔ چنانچہ اس صورت میں مذہب کے فطری ہونے کے دعویٰ میں بھی کوئی تجربی دلیل نظر آتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آدمؑ کی نوع homoheidel کی آخری شکل Omo1 رہی ہوگی۔ علم ارضیاتی سے ہمیں معلوم ہوا کہ ایک تخمینے کے مطابق اس کائنات کی اب تک کی کل عمر 630 ملین سال ہے جس میں ہماری زمین کو تخلیق ہوئے محض 10 کهرب سال ہوئے ہیں اور حضرت انسان کو اس دنیا میں آئیں ہیں. کہا جاتا ہے کہ اگر اس کائناتی کلینڈر کو ایک سال پر ترتیب دیا جائے تو سال کے پہلے 10 ماہ میں کائنات بنتی رہی ہے اور آخری دو ماہ میں یہ دنیا مکمل ہوئی جس میں آخری ماہ کا آخری دن ہے جس میں پہلے گیارہ گھنٹوں میں اس زمین پر زندگی وجود پذیر ہوئی. انسان آخری دن کے آخری گھنٹے میں پیدا ہوا. یعنی تمام انسانی تاریخ اس کلینڈر کا آخری گهنٹہ ہے. اس کائناتی کلینڑر کے مطابق ایک عام انسانی 60 سال کلینڑر کے ایک سیکنڈ کے برابر ہے. مذہب اس ضمن میں کیا کہتا ہے؟ اور ہمارے سامنے مذہبی بنیادی کتب کیا دعوی کرتی ہیں؟ اس کا جواب تین صورتوں میں موجود ہے۔ ایک جواب تو وہ ہے جو خود مذہبی زعما فراہم کرتے ہیں۔ صیہونی،مسیحی اور مسلمان تینوں علمأ کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان اور کائنات یکے بعد دیگرے بغیر کسی وقفہ کے وجودپذیر ہوئے۔ بائبل کے جو تراجم ، عہد نامہ قدیم، تلمود اور مشنأ اور قران کے عام تراجم کے مطابق یہ کائنات اور بنی نوع انسان کل چھ دن میں تیار ہوئے ہیں۔مزید براں یہ تینوں قسم کے تراجم اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ انسان براہ راست اسی موجودہ شکل میں زمینی مٹی سے بنا ہے۔ علمائ مذہب اس واقعہ کو مزید بیان کرتے ہوئے اس جگہ کا تعین بھی کرتے ہیں جہاں سے یہ مٹی حاصل کی گئی تھی۔ البتہ ہم یہ سوال قائم کرتے ہیں کہ کیا ان واقعات کو کوئی حسی دلیل Empirical Evidence ہے؟ چنانچہ آج کے انسان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔اور اس کا کوئی جواب ہوبھی نہیں سکتا۔ اس لیے کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب انسان خود اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہو۔ اس کا حل مذہبی زعما کی ان توجیہات سے ہوتا ہے جو وہ الوھی نمائندگان کو یا تو براہ راست خدا کی اولاد ثابت کرتے رہے ہیں یا ان نمائندگان کوہی قدیم جانتے ہیں۔ اس واقعے کی حقیقت جاننے کا ایک ہی درست طریقہ ہے کہ الہی مذاہب کی اصل بنیادی کتب، یعنی یہودیت کی تورات اور زبور، عیسائیت کی انجیل اور اسلام کی قران کا مطالعہ کیا جائے۔ شومئی قسمت سے ہمارے قارئین کے پاس عبرانی اور لاطینی کے اصل تورات، زبور اور انجیل موجود نہیں ہیں بلکہ ان کے اصل مصادر محض خاص مقدس مقامات پر محفوظ ہیں اور عوام کو ان تک رسائی نہیں ہے۔ یہاں یہ مقالہ اس بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ ہم تورات، زبور، انجیل اور قران کی جمع کی تاریخ بیان کریں۔ ممکن ہے کہ کوئی یہ دعوی کرے کہ جمع القران کی تاریخ کو تورات، زبور اور انجیل کے ساتھ مغالطہ نہ کیا جائے تاہم یہ ایک بجائے خود مغالطہ ہوگا۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ خود رسول خداﷺ نے قران جمع نہیں فرمایا۔ البتہ ان کی ہدائیت کی روشنی میں کچھ کاتبان نے قران کو تحریر کیا۔ تاہم جب پہلی خلافت کے زمانے میں قران کی سرکاری تدوین شروع ہوئی اور غیر سرکاری نسخوں کی پڑتال ہوئی تو ان کاتبان کا نام اور خود رسالت مآب ﷺ کے اس نسخہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا جو انہوں نے کتب کروایا تھا۔ البتہ بہت سے دوسرے نسخے دستیاب تھے جنہیں ، مصحف عثمان، مصحف عائشہ، مصحف عبداﷲ بن مسعود، مصحف ابوذر ، مصحف فاطمہ اور مصحف ماریہ قطبی کا نام لیا جاتا ہے۔ واضع رہے کہ یہ نسخہ جات خود رسالت مآب ﷺ کے سامنے موجود رہے ہیں۔ اگر یہ نسخہ جات موجود رہتے تو یہ اسی طرح ہوتا جیسے آج ہم لوقا ، پطرس، یونس اور یہواہ کی اناجیل دیکھتے ہیں۔ شائید اسی تجربے کا بنیاد بناتے ہوئے پہلی خلافت نے جمع القران کے دوران غیر سرکاری قران کی تدوین اور حفاظت پر پابندی عائد کی ہو۔ یہ مقالہ بہرحال ا س بحث کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس اذیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ محض عربی قران پربھروسہ کرتے ہوئے اپنے اس مقالے کو پیش کریں۔ میں اپنی کوتاہ نظری اور غفلت و نااہلی پر پیشگی معذرت خواہ ہوں اور میرا مقصد کسی نظریہ یا عقیدے کا مضحکہ ہرگز ہرگزنہیں۔ خلقت کے ضمن میں عرض ہے کہ کائنات کی خلقت اور انسان کی خلقت ایک دوسرے سے مربوط ہونے کے باوجود متصل نہیں ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ کائنات کی خلقت کا ایک تسلسل انسان کی خلقت بھی ہے۔ لہذا انسان کی خلقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ کائنات کی خلقت کا علیحدہ سے مطالعہ کیا جائے اور عربی قران سے ان آیات کا لحاظ کیا جائے جو کائنات کی خلقت سے متعلق ہیں۔ چنانچہ ہم نے پہلے کائنات کی خلقت اور پھر اس کے تسلسل میں حضرت انسان کی خلقت کا ذکر کیا ہے۔ میں سائینسی اور مذہبی علمأ کی اس بحث میں مبتلا نہیں ہوا ہوں جو وہ اپنے طریق سے فراہم کرتے ہیں یہاں یہ جاننا چاہیے کہ تاریخ نویسی، تاریخ پردازی اور تاریخ گوئی جداگانہ فنون ہیں۔ تاریخ نویسی تو ایک خاص زمانے کے حالات و حادثات اور ادب کا جمع کرنے کا نام ہے۔ اچھا ہے کہ ان واقعات کو اسی زمانے کے قریب ہی میں تحریر کرلیا جائے۔ ایسی تواریخ معتبر کہلاتی ہیں اتہم ہمیشہ ایسا نہیں ہوا۔ چونکہ تاریخ اپنے قاری کو ماضی میں لے جاتی ہے اس لیے تاریخ پردازی کو جدید زمانوں میں زیاد اہمیت حاصل ہوئی۔ تاریخ پردازی تاریخ کی تخریج کا نام ہے جس میں ایک محقق اصل حالات کے محرکات اور مفسرین کا علم حاصل کرتے ہوئے تنائج اخذ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے تاریخ نویسی اور تاریخ پردازی ایکدوسرے سے قدرے ملحق ہوتی ہیں البتہ تاریخ گوئی کا تعلق علم الاعداد اور علم الہدنسہ سے ہے۔ اس علم میں کسی خاص واقعہ کو کسی شعر یا نثر میں علم الہندسہ کے تحت تحریر کیا جاتا ہے۔ عربی رسم الخط کے عربی، فارسی اور اردو میں درج اعداد اور ان کے ہندسہ جات میں علمأ میں تناقض ہے۔ عربی رسم الخط کے ہندسے ۱ تا ۱۰، پھر ۲۰ تا ۱۰۰ اور پھر ۲۰۰ تا ۱۰۰۰ ہیں۔ رومن رسم الخط جس میں بیشتر مغربی زبانیں لکھی جاتی ہیں اعداد کے کل ۹ ہندسے بناتے ہیں۔ راقم نے تاریخ گوئی میں عربی رسم الخط کے بھی ۹ ہندسے بنائے ہیں تاہم یہ مقالہ اس فن یا تاریخ کی تاریخ کا متحمل نہیں لہذا ہم اس سے صرف نظر کرت ہیں۔ مختصرتاریخ تفسیر جو بھی کوئی کلام کرتا ہے وہ اس امر کا بھی پابند ہوتا ہے کہ اپنے کلام کی تشریح بھی کرے۔ تشریح کے اس کام میں مختلف استعداد اور قابلیت کے لوگوں سے واسطہ پڑنا ایک معمول کی بات ہے اور یہ افراد یکسان فہم اور قابلیت کے نہیں ہوتے۔ ایک جامع کلام کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرح کی صلاحیت کے افراد کی استعداد کے مطابق مواد دستیاب ہو۔ اس طرح کے کلام کی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے جملے مختصر تاہم نہایت جامع ہوں۔ چنانچہ بیشمار مطالب کو محدود فقروں میں بیان کرنے کے لیے غیر محسوس اور غیر حاضر حالات کو سامنے رکھا جائے تاکہ کلام کو موجودہ حالات اور آئندہ آنیوالے حالات کے تمام افراد کے لیے کافی ہو۔ اسی کو غیب کہتے ہیں۔ ایسے کلام میں استعارہ، مجاز، مبہم، مجمل، تشبیہ اور مرسل وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں۔ ان سب کے بغیر کلام مہمل رہ جاتا ہے اور ناقص کہلاتا ہے۔ کلام کی ان باریکیوں کو سمجھنے کے لیے زبان اور زبان کی انشأ پردازی یعنی صرف و نحو، ادب، لغت، معروف و نکر، تاریخ، جغرافیہ، وقائق وغیرہ سب کی ضرورت پڑتی ہے۔ قران کے حوالے سے آیات کے شان نزول کے ساتھ فقہ اور حدیث کا علم بھی ضروری ہوتا ہے۔ ان الجهنوں کے باوجود قران کا اسلوب ایسا ہے کہ اسے ایک ناخواندہ اور ایک عالم اپنی عقل اور ضرورت کے مطابق سمجھ لیتے ہیں۔ قران کو سمجھنے کا مطلب تفسیر القران ہے۔ تاہم ایک مفسر کو کلام سمجھنے کے لیے ان تمام شرائط سے باوصف ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ علم تفسیر کلام القران کی کیفیت، نطق کے مزاج، الفاظ کے معنی اور ان معنوں کے انفرادی اور ترکیبی زمرات اور ان کے انشقاق و تتمات سے مبحث ہوتا ہے۔ بعضے علمأ کا کہنا ہے کہ اس طرح اولین مفسر قران خود رسولﷲ صلی ﷲ علیہ و آل و سلم ہیں۔ تاہم میں اس بات سے متفق نہیں۔ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ و آل و سلم جو کچھ فرماتے تھے وہ قران کی آیات کی حقیقی توجیح اور تشریح ہوتی تھی۔کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپؐ نے انشا پردازی، تاریخ یا کسی اور خارجی ذریعے سے آیات کو سمجھایا ہو۔ کسی نے سوال کیا اور آپؐ نے فرمایا کہ اسکا یہ مطلب ہے۔ آپؐ کے علاوہ اور کوئی یہ طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔ ہم جو بھی کچھ بیان کریں گے وہ اخذ ہوگا۔ لہذا اگر کوئی اسیی حدیث بھی دستیاب ہوگی جو غیر مرسل ہوگی وہ زبان رسالت مآب صلیﷲ علہ و آل وسلم کی وجہ سے تفسیر میں شمار نہیں ہوگی اس لیے کہ وہ اخذ شدہ نہیں ہوگی، البتہ مرسل احادیث جو کسی آیت کو بیان کرتی ہو تفسیر کے ذمرے میں شامل ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اولین دور میں صحابہ نے قران کی تفسیر حدیث کے ذریعے سے کی ہے. ابتدائی دور میں قران کی آیات کی تفسیر کا یہی اصول اپنایا گیا۔ چنانچہ، "صحیفہ علویہ" (تفسیر عبدﷲ بن مسعوؓد)، "الصادقہ'' (تفسیر سعد ابن وقاصؓ) اور "تفسیر کعب" (ابی ابن کعبؓ) وغیرہ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف ہوئیں۔ اس اصول پر ہندوستان میں اسماعیل بن مالک بن دینار (متوفی ۱۰۹ ہجری) کی ایک تفسیر کا سراغ ملتا ہے۔ اسماعیل بن مالک کا مزار کولم شھر مدارس میں واقع ہے۔ ہر چند کہ یہ کتب اب ہمارے پاس نہیں ہیں تاہم دیگر کتب سے ان کا سراغ ملتا ہے۔ عموماً عربی الفاظ میں حرکات اور اعراب شامل نہیں ہوتے لیکن جب قران غیر عرب اقوام میں متعارف ہوا تو اس کے عمومی تلفظ کے لیے بھی الفاظ پر حرکات اور اعراب کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اعراب لگانے کا عمل، فاروقیؓ دور سے شروع ہوکر کم و بیش مامونی دور تک جاری رہا ہے۔ اسی دوران عربی زبان اور عرب مسلمانوں کو غیر عربی الہامی مذاہب اور غیر عرب مذاہب اور زبان و ادب سے واسطہ پڑا۔ اس دور میں بڑے بڑے جید علما، جن میں خود امام شافعی بھی شامل ہیں، عربی الفاظ اور ان کی حرکات و اعراب پر بیش قیمت تحریرں لکھتے رہے۔ چنانچہ اسی دوران علم کلام نے خوب ترقی کی اور مذہب کی دانش کدائی نے زبان پر بہت زیادہ انحصار کیا۔ چنانچہ عربی زبان کی لغات تیار ہوئیں۔ واضع رہے کہ عربی کی لغات کی ضرورت غیر عرب کو تھی لہذا یہ لغات بھی انہوں نے ہی تیار کیں۔ اس طرح تفسیر میں علم الحدیث کے ساتھ علم الکلام بھی شامل ہوگیا۔ علم الکام کو سامنے رکھتے ہوئے اس دور میں دو بڑی اور مستند تفاسیر بھی تحریرہوئِں، فغرالدین رازی کی "تفسیر رازی" اور محمود بن عمر زمخشری کی "تفسیر زمخشری"۔ ظاہر ہے کہ اس وقت کے علمأ نے ان تفاسیر پر بہت اعتراض کیا تاہم یہ سفر رکا نہیں۔ ہندوستان میں ایسی پہلی تفسیر، "تفسیر تلبینی" (عبدﷲ بن ﷲ داد تلبینی متوفی ۹۲۳ہجری) کہی جاتی ہے مولانا عبدﷲ ملتان شھرکے جوار تلبینہ کر رہاھئشی تھے۔۔ تفسیر کے ساتھ دوسرا جو پڑا علمی کام ہوا وہ قران کا "حاشیہ" ہے۔ وہ علمأ جو شروع میں تفسیر کے قائل نہیں تھے انہوں نے قران پر حاشیہ لکھنا شروع کیا۔ پہلا حاشیہ جو تاریخ میں ہمیں ملتا ہے وہ "تفسیر بیضاوی" ( قاضی ابی سعید عبدﷲ بن عمر بیضاوی کی تفسیر مرتبہ ۶۸۵ہجری) پر لکھا گیا، "حاشیہ صائع" ( شیخ ابی بکر احمد بن صائع مرتبہ ۷۱۴ ہجری) ہے۔ ہندوستان میں پہلا حاشیہ ۶۹۸ ہجری میں شیخ وجیہ الدین گجراتی نے لکھا ہے حاشیے کے ساتھ قران کا دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ غیر عرب افراد کے لیے عربی سیکھنے سے زیادہ آسان یہ تھا کہ قران کا ترجمہ کرلیا جائے۔ چنانچہ علمأ نے قران کا ترجمہ کیا۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم علمی کام تھا تاہم ان زمانوں کے علمأ نے شروع میں تراجم کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ اسے اچھا بھی نہیں سمجھا۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ قران کا سب سے پہلا ترجمہ فارسی زبان میں ہوا۔ یہ ترجمہ حضرت سلمان فارسیؓ نے سورۃ الفاتحہ کا کیا تھا۔ مکمل قران کا سب سے پہلا مستند ترجمہ سندھی زبان میں قدیم سندھ کے علاقہ الور کے ایک راجہ "مہروک" کی درخواست پر خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بیٹے عبدﷲ بن عمر نے کرایا۔ بدقسمتی سے اس مترجم کا نام پتہ نہیں البتہ سندھی زبان میں دوسرا ترجمہ ابو معشر نجیع بن عبدالرحمن نے کیا ہے۔ وہ ۱۷۰ ہجری میں فوت ہوئے۔ ۱۲۸۵ میں والیہ بھوپال نواب سکندر بیگم نے شیخ احمد داغستانی سے ہندوستان میں قران کا عربی سے ترکی زبان میں ترجمہ کرایا۔ بھوپال ہی کی ایک اور والیہ نواب شاہجہاں بیگم نے مولانا جمال الدین سے قران کا پشتو ترجمہ کروایا۔ ۱۹۳۰ میں نواب دکن میر عثمان خان نے نومسلم یورپی محمد پیکٹل سے انگریزی میں ترجمہ کروایا۔ تاہم یہ انگریزی کا پہلا ترجمہ نہیں ہے البتہ یہ مسلم عقیدے کے اعتبار سے پہلا ترجمہ تھا۔ ۱۷۳۴ میں عیسائی راہب الیگزینڈر روس نے انگلستان کے بادشاہ چارلس اول کے کہنے پر قران کا فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ براہ راست عربی سے انگریزی میں ترجمہ پادری جان رھاڈویل نے ۱۸۶۱ میں کیا۔ الیگزینڈر روس نے فرانسیسی سے قرانی ترجمہ آندرے ڈی رائیر کے ترجمے سے کیا تھا جو ۱۷۳۴ میں بذات خود قران کے لاطینی ترجمے کو سامنے رکھ کر کیا گیا تھا۔ یہ لاطینی ترجمہ براہ راست عربی زبان سے۱۱۴۳ میں لاطینی میں منتقل ہوا تھا۔ تاہم لاطینی کا یہ ترجمہ رابریٹس کیٹی نینسیس نے عیسائی لاٹ پادری پیٹر ، ایبٹ آف کلوینی کے کہنے پر" اسلام: ایک جھوٹا مذہب" کے نام سے لکھا تھا اور اس کی سب سے پڑی دلیل اس مذہب کی زبان لاطینی نہ ہونا تھا کیونکہ کلیسا کے بقول خدا کی زبان لاطینی تھی۔ اس کی دوسری اشاعت ۱۵۴۳ میں شائع ہوئی ۔اس اشاعت پر مارٹن لوتھر نے تفصیلی پیش لفظ لکھے ہیں۔ دیگر یورپی زبانوں میں اسی ترجمے کو سامنے رکھ کر تراجم تیار ہوئے۔ لاطینی زبان کا یہ ترجمہ چونکہ اسلام کو غلط ثابت کرنے کیے لیے تھا اس لیے اس میں زبان کا بامحاورہ ترجمہ کرنے کے لیے غلط بیانی کی گئی تھی اور اس لیے اپنی دوسری اشاعت کے ساتھ ہی علمی حلقوں کی طرف سے اس پر اعراضات اٹھائے گئے۔ چنانچہ ۱۶۹۸ میں لاٹ پادری اینسینٹ یازدہم کے کہنے پر سپاینزا یونیورسٹی میں عربی کے استاد لاڈیویسو مارسینی نے "قران کے تضادات" کے نام سےایک نیا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ یہ ترجمہ بہرحال زبان کے اعتبار سے درست ہے۔ اور اس پر حاشیہ بھی لکھا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلا ترجمہ ۱۷۷۰ میں حکیم محمد شریف خان صاحب نے کیا تاہم یہ ترجمہ شائح نہیں ہوا اور قلمی نسخے کے طور پر موجود ہے۔ دوسرا ترجمہ شاہ عبدالقدر دہلوی نے ۱۷۹۶ میں کیا۔ یہ ترجمہ آج تک رائج ہے اور اس ترجمہ کو ہندوستان مِن ترجمہ کرتے ہوئے سند مانا جاتا ہے۔ تاہم اس ترجمہ اور موجودہ زمانے کے تراجم میں خاصہ فرق ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ترجمہ ملاحضہ کیجیئے۔ تفسیر، ترجمہ یا حاشیہ تینوں میں ان کے مرتبین کسی ایک خاص رجحان کے حامل رہے ہیں. یعنی وہ کسی ایک مسلک سے متاثر رہے، یا تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف کی گئیں، یا خالص حدیث کو سامنے رکھا گیا، یا خالص زبان کی بنیاد پر تالیف ہوئی. علما نے ان تمام اقسام کو درست قرار دیا ہے. امام حنبل اور ان کے متاخرین میں امام غزالی، امام ابن تیمیہ، شیخ هجر مکی، شیخ عبدالوحاب جیسے جید علما قرآن کے الفاظ کا مجازی مطلب لینے کو تیار نہیں. دوسری طرف علما اسلام کی ایک اکثریت قرآن کے مجازی مطلب استعمال کرتے ہیں. چنانچہ اگر ہم قرآن کے الفاظ کے مجازی معنی استمعال کریں تو غلط نہیں ہوگا. ظاہری مطلب یہ ہوگا کہ ہم یدالله کا مطلب اس کا اعتماد نہ سمجھیں بلکہ باقائدہ اس کا ہاتھ جانیں. یہاں اسے واضع کرنا ضروری ہے کہ ہم نے خلقتت کے موضوع کا محض قرآن سے اخذ کرنا اس وجہ سے نہیں کیا کہ ہم حدیث کے منکر ہیں، ہرگز ایسا نہیں ہے. ہم اس کے قائل ہیں کہ قرآن فہمی کے لیے حدیث ازبس ضروری ہے. تاہم ایک علمی تشنگی کی وجہ سے ہم نے محض قرآن پر انحصار کیا ہے. آجکل جو رجحانات محض قرآن پر انحصار کرنے کے ایجاد ہوچکے ہیں وہ محض ناواقفیت کی بنا پر ہیں جیسے آجکل قرآن کے محض ترجمہ پر تکیہ کیا جانے لگا ہے اور محض کوئی ایک ترجمہ سامنے رکهه کر عرق ریزی کی جانے لگی ہے. یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو غلطی کی جانب کھینچ رہا ہے. ہمارا یہ مقالہ صرف ایک علمی کام ہے جس کی تکمیل علما کی رائے کی محتاج ہے. مختصر تاریخ لغت: تفسیر کی طرح جس علم پر کام ہوا وہ لغت کی تیاری ہے. ہم اب جانتے ہیں کہ اسلام کے عربی علاقوں سے باہر آنے پر غیر عربوں کے لیے عربی زبان و بیان کی باریکیاں سمجھنا آسان نہیں تھا اور خود عربوں کے لیے بھی قرآن کے استعارے آسانی سے سمجھ نہیں آتے تھے. یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کہ ایک زبان سے متعلق ہونے کے باوجود کوئی اپنی ہی زبان کے رموز سے واقف نہ ہو. اردو کی مثال لیجیئے کتنے لوگ غالب اور میر کی شاعری کے کنائیہ کو سمجھتے ہیں یا عام گفتگو میں کتنی با محاورہ زبان بولتے ہیں اور کتنے لوگ ایسی زبان سمجھتے ہیں. ایسا ہی تب بھی تھا جب قران نازل ہوا. لوگ رسالت مآبؐ سے آ کر آیات کا مطلب پوچھا کرتے تھے. اور کبھی ایسا بهی ہوتا تها کی خود ہی کوئی مطلب اخذ کرتے تھے تو وہ غلط بہی نکل آتا، جیسےکہ جب سورہ بقرۃ کی آیت ۱۸۷ نازل ہوئی تو اس میں موجود ہدائیت، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ( کھاؤ اور پیؤ اس وقت تک کہ فجر کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے علیہدہ دکھائی دینے لگے) کو مطلب ایک صحابی عدی بن حاتم ؓ کا قصہ مشہور ہےکہ انہوں نے اپنے تکیے کے نیچےدو دھاگےسفید اور سیاہ رنگ کے رکھ لیے اور صبح جب تک ان میں امتیاز نہیں ہوجاتا تھا وہ روزہ بند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ رسولؐ خدا سے پوچھنے پر انہیں رسولؐ ﷲ نے بتایا کہ اس کو مطلب 'سواد الیل و بیاض النھار' (رات کا اندھیرا اور دن کی رشنی) ہے۔ حضرت عبدﷲ ابن عباسؓ کا کہنا ہے کہ انہیں فطر السماوات و الارض کا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا یہان تک کہ ان کے پاس دو بدو آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ انا فطر تُہا یعنی اس کے کھودنے کی ابتدا میں نے کی تھی۔ تب انہیں فطر کا مطلب سمجھ آیا۔ حضرت عمرؓ نے ایک خطاب کے دوران حاضرین سے معلوم کیا کہ سورۃ النحل کی آیت ۴۷ میں أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ (ان کے خوف پر ان کا مواخذاہ کرے) میں تَخَوُّفٍ کا کیا مطلب ہے جس پر ایک بوڑھے بدو نے اس کا مطلب 'تنقض' کے معنوں میں استعمال کرنا بتایا اور دلیل میں یہ شعر پڑھا، تخوف الرجل منھا تا مکاً قردا کما تخوف عو و النبعۃ السفن اس بات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عربی زبان کی باریکیاں خود عربوں کے لیے مشکل تھیں تو غیر عربوں کے لیے تو انہیں سمجھنا اور مشکل تھا۔ اس لیے عجمیوں نے عربی کی لغات تیار کیں۔ اس ضمن میں جس کا نام سب سے پہلے آتا ہے وہ خلیل بن احمد ہے۔ خلیل احمد نے ابو الاسود دوائلی کے اعراب و حرکات لگانے کے کام کو انتہا تک پہنچایا ہے۔ آخری ہارونی دور اور مامونی دور میں اس نے شاعری کے اوزان مقرر کیے ہیں ان اوزان سے شاعری اجتک فیضیاب ہوتی ہے۔ اس کی لغت دراصل لغت نہیں ہے بلکہ معجم ہے جو کتاب العین کے نام سے مشہور ہے۔ لغت میں الفاظ کے معنی درج ہوتے ہیں۔ عربی لغت میں لفظ کو اس کے پہلے حرف سے تلاش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے اس کے مادہ کے پہلے حرف میں تلاش کیا جاتا ہے۔ مثلاً لفظ مکان کو حرف م میں تلاش نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ حرف ک کے نیچے ملے گا اس لیے کہ مکان کا مادہ ک ن ن ہے۔ معجم حروف تہجی پر لکھی جاتی ہے جس میں اس حرف کی تاریخ، مصدر، مستشقیات، وقائع اور قرأت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔ خلیل احمد کی معجم حروف کے اعتبار سے نہیں بلکہ قرأت کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ یعنی منہ سے حروف کے مخرج کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ اس میں زبان کی نوک سے ادا ہونے والے الفاظ سے تالو، درمیان زبان، آخر زبان، حلق کا اوپری حصہ اور حلق کے کوئے سے حروف کی ادائیگی کے اعتبار سے مخرج بتائے گئےہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مشکل ہے کہ پہت سے اقوام وہ الفاظ ادا ہی نہیں کرسکتیں جو عرب استعمال کرتے تھے جیسے خود عرب پہت سے حروف ادا نہیں کرسکتے۔ لہذا بعد کی معجم محض حروف کی بنیاد پر تالیف ہوئیں ہیں۔ مشہور اور معتبر لغات اور معاجم کو گنا جائے تو ان کی تعداد بہت بن جائگی تاہم معتبر ترین لغات اور معجم میں مرتضی الزبیدی ہندی کی تاج العروس ۱۰ جلدوں میں ہے جس میں ۱۲۰ ہزار مواد ہیں اور یہ محمد بن یعقوب فیروزآبادی کی لغات قاموس المحیط کی شرح اور اضافہ ہے جس میں ۶۰ہزار مواد ہیں۔ شیخ جمال الدین ابوالفضل کی لسان العرب ہے جس میں ۸۰ ہزار مواد ہیں۔ راغب اصفہانی کی مفردات القران ہے، اسماعیل جوہری کی الصحح فی الغۃ ہے جس میں ۴۰ہزار مواد (مادہ کی جمع) مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ ابی حیان محمد بن یوسف اندلسی کی تحاف الادیب فی القران من الغریب کے نام سے پہلی مفصل لغت ہے جو عربی کے شاذ معنوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح کی اور بی لغات ہیں۔ مصطفی بن محمد خسروزادہ کی غلطات العوام ایک شاندار لغت ہے جس میں عربی زبان کے ان الفاظ کا ذخیرہ ہے جو عجم سے عربی میں شامل ہوئے ہیں نیز ان الفاظ کی نشاندہی بھی کی ہے جو عوام میں مشہور ہیں اور اغلاط پر مشتمل ہیں۔ ان کے علاوہ صرف قران پر مشتمل لغات القران ہیں جو کشاف (اصطلاحی لغت) کا کام دیتی ہیں۔ ان میں علامہ وحید الزمان کی لغات الحدیث نہایت شاندار لغت ہے ط معجم کی طرز پر ہے اور کشاف قران کو احادیث کی روشنی میں بیان کرتی ہے۔ پھر پرویز کی لغات القران ہے جو قران کا ایک شاندار معجم ہے۔ بادری لوئیس معلوف کی المنجد ایک اعلی عربی لغت ہے۔ اس کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے اور مترجم نے جہاں اس لغت کو "مسلمان'' کرنے کا دعوی کیا وہاں انہوں نے اس کے دیباچہ میں عربی لغات اور ماجعم کی ایک مختصر فہرست بھی دی ہے جس میں انہوں نے ۸۰ کتب کو درج کیا ہے۔ جناب John E. Hinton عربی اور عربی سے دیگر زبانوں کے لغات کی ایک فہرست ۱۹۹۵ میں تیار کی تھی جس میں انہوں نے کل ۳۱۳ لغات جمع کی ہیں۔ یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قران فہمی کے لیے بالخصوص اور عربی کے لیے بالعموم لغت کا استعمال ضروری ہے۔ موضوع جیسا ہم نے پہلے عرض کی کہ خلقت کے موضوع میں اشیأ کی خلقت اور انسانی خلقت کو جدا کرنا ضروری ہے۔ اس واقعہ کو اب تمام لوگ تسلیم کرچکے ہیں کہ انسان سے قبل کائنات کی تشکیل ہوچکی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کائنات کی اس تشکیل سے بھی پہلے ختمی مرتبت صلیﷲ علیہ و آلہ و سلم کی خلقت ہوئی تھی یا بعضے افراد کے مطابق انک پاک آلؑ یا کم از کم پنجتن پاکؑ کی خلقت بھی کائنات کی خلقت سے قبل ہوچکی تھی۔ ان احادیث قدسیہ کی بحث میں ملوث ہوئے بغیر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ یہ بھی مجازی خلقت کی بات ہورہی ہے اسلیے کہ رسالت مآبؐ کی یہ فرمانا کہ میںؐ اس وقت بھی نبی تھا جب آدمؑ ابھی آب وگل کی منزل میں تھے شدت سے مجاز کی تصدیق کررہی ہے اور آخری نبوؐت کی اہمیت اور ضرورت پر تاکید کررہی ہے نا کہ خلقت کی۔ چنانچہ ہم پہلے خلقت پر ثبوت پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد انسانی خلقت پر۔ اس ضمن ضمن میں مندرجہ ذیل دلائل پیش ہیں۔ مزید یہ عرض ہے کہہ ہم نے آیات اور اس کے ترجمے کو رنگوں سے امتیاز کیا ہے تکہ عمومی الفاظ اوت ان کا مطلب آسانی سے سمجھ آجائے۔ اس کے علاوہ ہمارے موضوع کے اعتبار سے جن الفاط کی تشریح مقصود تھی ان الفاظ کا مادہ، ان کے مصادر اور مستشقیات عربی زبان اور قران کی آیات کے دلائل سے پیش کردی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر میں اپنی کوتاہی اور علمی بصیرت کی کمی پر پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ مشکل کی وجہ سے آسان کو چھوڑا نہیں کرتے۔ امید ہے قارئین معذرت قبول کریں گے اور ﷲ تعالی مجھے معاف فرمائیں گے۔ خلقت ارض و سمأ؛ ۱ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿يس: ٨٢﴾ بس کرتا ہے حکم وہ جب ارادہ کسی چیز کے بارے میں تب وہ صرف کہتا ہے اس چیز سے، ہوجا، چنانچہ وہ ویسی ہوجاتی ہے مادہ: ک ن ن مصادر: كنن كنن كن الكِنُّ وصوص القائِلَة وصص بكا حشا كون لغات: کن کا مادہ ہے، ک ن ن۔ الکن، الکنتہ، الکنان ہر چیز کا خلاف یا پردہ کہا جاتا ہے۔ تاج العروس نے لکھا ہے کہ الکین وہ جگہ ہے جہاں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ الکن کی جمع اکنان اور الکنان کی جمع اکنتہ آتی ہے۔ جیسے سورۃ کہف کی آیت ۵۷ ،۰۰۰۰۰۰۰۰۰إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰{بیشک ہم نے ان کے عقلوں پرپردہ ڈال دیا ہے}یا سورۃ اسرأ ( بنی اسرائیل) کی آیت ۴۶، وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً {اور ہم نے ان کے دلوں پر بھی پردے ڈال دیئے ہیں} اور سورۃ فصلات کی آیت ۵،وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ {اور وہ کہتےہیں کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف پڑے ہیں} یا سورۃ نحل کی آیت ۸۱، وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا{ اور ہم نے تمہارے لیے پہاڑوں میں حفاظت کے پناہ گاہیں بنائیں} کنتہ، اکنتہ،کو تاج العروس نےلکھا ہے، ''اسے چھپا دیا''۔ جیسے سورۃ النمل کی آیت ۷۴، وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ {بیشک آپؐ کا ربﷻ ان باتوں کو جانتا ہے جو یہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں} واضع ہو کہ یہاں تُكِنُّ کے مقابلہ میں يُعْلِنُونَ آیا ہے جس کا مادہ علم ہےیعنی جاننا۔ اس آیت میں خدا کا جاننا اور کافروں کے جاننے کی تکرار زبان کا ایک شاہکار ہےجس کے بیان کا یہ موقع نہیں۔ مکنون کو لغات المحیط اور لطائف اللغۃ نے''حفاظت سے رکھا ہوا'' لکھا ہے۔ جیسے سورۃ الصفات کی آیت ۴۷ میں ، كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ {گویا وہ حفاظت سے رکھے ہوئے انڈے ہیں} یا جیسے قران کو کتاب مکنون میں محفوظ کہا گیا ہے۔ ملاحضہ ہو سورۃ واقعہ کی آیات۷۷ اور ۷۸ ، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ۔ واضع ہو کہ کلمہ'' کن'' ضمیر کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضمیر منصوب متصل ہے اور جمع حاضر مونث کے لی آتی ہے۔ کہتے ہیں ضربکن یعنی اس نے تم سب عورتوں کو مارا۔ جیسے سورۃ تحرین کی آیت ۵ میں آیا ہے، عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا {اگر وہؐ تمہیںؓ طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ انؐ کا ربﷻ اس کے بدلے میں انہیؐں بہتر بیویاں دے دے}بعض مرتبہ یہ کلمہ ضمیر مجرور متصل کے طور پر بھی آتا ہےجیسے سورۃ یوسف میں آیا ہے، إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ  ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ{بیشک یہ تم عورتوں کو لبھاؤ ہے اور تم عورتوں کا لبھاؤ ہوتا بھی بے پناہ ہے} لسان العرب نے لکھا؛ " الكِنُّ والكِنَّةُ والكِنَانُ: وِقاء كل شيءٍ وسِتْرُه" الکن، الکنۃ اور الکنان سب کا مطلب تمام اشیا کا پردے میں چپھا لینا ہے۔ مقائیس اللغتہ نے لکھا؛ "الكاف والنون أصلٌ واحدٌ يدلُّ على سَتْرٍ أو صون. يقال كنَنْتُ الشيءَ في كِنِّهِ، إذا جعلتَه فيه وصُنتَه" یعنی کاف اور نون بالترتیب بنانا اور ترتیب دینا ہےجیسا کہ کہا جاتا ہے کہ تم نے بنایا اور حفاظت کی۔ انشقاق: كُن --------کون----- واقعہ، حادثہ، (کائنات)، ہوجانا، بہتر تبدیلی، مکان كُن فَيَكُونُ---- امر سے شہ تک سفر، ارتقا مقصد: اس آیت میں بہت بڑے کائناتی واقعہ کی ابتدا کا ذکر کیا جارہا ہے اور اس کی ابتدا سے اس کے ارتقا اور پھر اس کی تکمیل کے سفر کا تذکرہ انتہائی مناسب اور مختصر مگر انتہائی جامع الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کی ابتدا کی کہانی محض حکم دینے اور پھر اس حکم کی تعمیل ہے۔ حکم دینے کا مطلب مقصد کی بجا آوری ہے، جو فوراً شروع ہوجاتی ہے اور ایک مقصد کی بجا آوری مسلسل جاری رہتی ہے۔ چنانچہ اس آیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا، '' اس کا حکم ہر شہ کو مشیت میں بدل دیتا ہے اوروہ شہ اپنے مقصد کی طرف گامزن ہوجاتی ہے'' ۲ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿البقرة: ١١٧﴾ موجد آسمانوں اور زمین کا اور جب طے کردیتا ہے کسی فیصلے کو تو بس کہہ دیتا ہے اس شہ کو کہ ہوجا چنانچہ وہ ہوجاتی ہے مادہ: ب د أ مصادر: بدو بدا بَدَا بدأَ بدا مثل دوا كشر نجح الخُضْرَةُ بلل خضر يجَبَى جبأ جَبَأَ لغات: صاحب المنجد نے لکھا ہے کہ مفتوح 'بدا بہہ'، 'بد'اً، وابتداً، کسی چیز کے ساتھ شروع کرنے کو کہتے ہیں۔ جس طرح کہتے ہیں بدا الشئیی یعنی اس چیز کو شروع کردیا یا اس نے پہل کی۔ کہا جاتا ہے فلان ما یبدی وما یعید یعنی وہ آدمی نہ ازخود کوئی بات کرتا ہےاورنہ کسی بات کا جوب دیتا ہے۔ لہذا 'البدی' اولین سردار کو کہا جاتا ہے۔ بدا من ارضیہ الی اخری یعنی اپنی زمین سے دوسری زمیں کی طرف نکل کھڑا ہوا، اپنا ملک چھوڑ گیا۔ تاج العروس نے لکھا ہے البدءُ یا الابداءُ کسی چیز کے غیر کو اس چیز پر مقدم کرنے کو کہتے ہیں۔ سورۃ توبہ کی آیت ۱۳ میں آیا ہے وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (انہوں نے ہی پہلی مرتبہ تمہارے ساتھ ابتدا کی ہے) مطلب پہل انکی طرف سے ہوئی ہے۔ سورۃ سبا کی آیت ۳۴ میں آیا ہے کہ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ (اعلان کردیجئے کہ حقیقت نے جھوٹ کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اب یہ واپس تبدیل نہیں ہوسکے گی) بدو (مفتوح- زبر کے ساتھ) اور مدو (مضموم-پیش کے ساتھ) کے معنی ہیں ظاہر ہونا۔ لسان العرب میں لکھا ہے وهو ظُهور الشيء یعنی کسی شہ کا ظاہر ہوجانا۔ مقائیس اللغتۃ نے لکھا یقال بدا الشيءُ يَبدُو، إذا ظَهَر، فهو بادٍ یعنی جیسے کہتے ہیں اگر وہ شہ ظاہر ہوگئی تو برا ہوگا۔ سورۃ بقرہ کی آیت ۳۳ میں تبدون (ظاہر) کے مقابلے میں تکتمون ( چھپانا) آیا ہے،وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ( میں وہ سب سمجھتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو)۔ اسی طرح اسی سورۃ کی آیت ۷۱ میں تبدو ( ظاہر) کے مقابلے میں تخفو (باہرلے آنا) وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (ﷲ نے وہ ظاہر کردیا جو تم چھپاتے تھے) سورۃ نور کی آیت ۳۱ میں آیا ہے وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ (اپنی نمائش زبردستی نہ کریں البتہ اگر غیر ارادی طور پر ایسا ہوجائے) چنانچہ بادی الرای وہ رائے ہے جو ابتدا ہی میں قائم کرلی جائے۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ بادی الرای وہ رائے ہے جو بالکل ظاہر ہو۔ سورۃ ہود کی آیت ۲۷ میں آیا ہے فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ ( چنانچہ وہ علمائے قوم جنہوں نے انکار کیا تھا کہنے لگے کہ سوائے اس کے کہ تم ہمارے جیسے آدمی ہو کیا خصوصیت ہے کہ ہم تمہاری پیشوائی مانیں بلکہ ہماری ابتدائی رائے میں تم چھوٹے دکھائی دیتے ہو۔) البدو ( صحرائی- دیہاتی)، البادیۃ ( صحرا- دیہات) ، البداوۃ (صحرائی- دیہاتی زندگی) ، صحرا کو بادیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ کھلا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ افراد جو صحرائی زندگی گذارتے ہیں یعنی دیہات میں رہتے تھے انہیں بدو کہا جاتا تھا۔ بدو یا بادیہ کسی علاقے کے مستقل رھائشی کو بھی کہتے ہیں جیسے سورۃ الحج کی آیت ۲۵ میں بدو، عاکف کے مقابلے میں آیا ہے الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ (باہر سے آنیوالے [مہمان] یا مقامی افراد۔ ابن فارس نے لکھا ہے کہ البدع ایسے کام کو کہتے ہیں جو پہلے پہل ہوا ہو اور پہلے اس کی کوئی مثال موجود نہ ہو چنانچہ البدیع وہ نئی بٹی ہوءی رسی ہوتی ہے جسے تازہ ریشے سے بنا گیا ہو۔ مفردات میں راغب نے لکھا ہے کہ رکی بدیعتہ نیا کھودا گیا کنواں ہے۔ العلم الخفاق میں نواب صدیق حس خان نے واضع کیا ہے کہ جن الفاظ میں باء کے ساتھ دال آئے ان میں ظہور اور ابتدا کا مفھوم شامل ہوتا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ الابداع کے معنی ہیں کہ کسی کی تقلید کے بغیر کسی چیز کو ازخود ظاہر کردینا۔ جیسے سورۃ احقاف کی آیت ۹ میں درج ہے مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ( میں کوئی پہلا رسول تو ہوں نہیں) انشقاق: بَدِيعُ----بدا----- يُعِيدُ-----عود--- بے اندازہ بنانا، تدبیر کرنا،پہلی دفعہ وجود میں لانا، ترقی دینا، آگے بڑھانا۔ مقصد: لہزا اس آیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا کہ، اس موجد نے بہت سارے آسمانوں اور ایک زمین کو اپنی مشیت سے ایسے ایجاد کیا کہ اس نے حکم دیا کہ ہوجا اور ہجانے کا عمل شروع ہوگیا۔ ۳ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ﴿الأنعام: ٧٩﴾ پہلی دفعہ پیدا کیے ہیں شق کرکے بہت ساری کائناتیں اور ایک زمین مادہ: ف ط ر مصادر: فطر فطر الفَطْرُ فطر طرر علا بزل عمل خلق ضب فصح خَلْفُ عدد لبن شقق لغات: تاج العروس نے لکھا ہے کہ فطر کے معنی ہیں شق کرنا۔ پہلی مرتبہ پھاڑنا۔ واضع رہے کہ پہلی مرتبہ کی خصوصیت اس کے بنیادی معنوں میں داخل ہے۔ صاحب الغات القران نے درج کیا ہے کہ ابن عباسؓ سے روائیت ہے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ فطر السماوات والارض کیا ہوتا ہے حتی کہ انکے پاس دو بدو آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ انا فطر تُہا یعنی اس کے کھودنے کی ابتدا میں نے کی تھی۔ ابن عربیؒ نے فتوحات مکیہ میں تحریر کیا ہے کہ انا اول من فطر ھذا یعنی میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس کی ابتدا کی ہے۔ چنانچہ سورۃ اسرا (بنی اسرائیل) کی آیت ۵۱ میں آیا ہے قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ( کہہ دو کہ وہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا) جیسے سورۃ انفطار کی آیت ۱ میں آیا ہے کہ إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ ( جب آسمان شق ہوجائگا) جیسے سورۃ مریم کی آیت ۹۰ میں آیا ہے تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ (کچھ بعید نہیں کہ اس وجہ سے آسمان پھٹ جائیں یا زمین شق ہوجائے) جیسے سورۃ مزمل کی آیت ۱۸ میں آیا ہے السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ (جس وجہ سے آسمان پھٹ جائگا) جیسے سورۃ ملک کی آیت ۲ میں وارد ہوا ہے هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ (کیا تم اس میں کوئی شگاف دیکھتے ہو) سورۃ روم کی آیت ۳۰ میں فرمایا ہے فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (ﷲ کی فطرت وہی ہے جس پر انسان کی فطرت ہے) یعنی اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان کی فطرت ﷲ کی فطرت پر ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔ یہاں ایک مغالطہ پیدا ہوا ہے کہ اسلام کو ایک ایسا دین سمجھا گیا ہے جو اپنے ماحول سے کوئی اثر نہیں لیتا چنانچہ اگر کسی بچے کو اپنے ماحول سے علحیدہ کردیا جائے تب بھی وہ دین فطرت یعنی اسلام پر ائے گا۔ اسی موضوع کو ثابت کرنے کے لیے علما نے کثرت سے ضغیم کتابیں تحریر کی ہیں۔ ابن طفیل کی مشہور کتاب حئی بن یقضان اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ تاہم یہ ایک مغالطہ ہے۔ آج یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اگر انسان کو کسی معاشرے کے بغیر آذاد چھوڑ دیا جائے تو محض جنگلی بنتا ہے۔ اسی بات کی تائید خود قران سے بھی ہوتی ہے۔ یعنی اگر انسان کی تربیت نہ ہو تو وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ (وہ بھلائی کی کوششوں کی بجائے شر کو آوازیں دیتا رہتا ہے) اسی سورۃ بنی اسرائیل کی اسی آیت ۱۱ کا اگلا حصہ ہے کہ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ( وہ ہر چیز میں عجلت چاہتا ہے) اسی طرح سورۃ احزاب کی آیت ۷۱ میں درج ہے کہ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (جاھلت کی حد تک ظالم واقع ہوا تھا) اور سورۃ عبس کی آیت ۸۰ میں وارد ہوا ہے کہ قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ( ہلاک ہوا انسان کہ ہر حقیقت کا انکار کرتا ہے) اور سورۃ کہف کی آیت ۵۴ میں کہا گیا وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ( انسان زیادہ تر معاملات میں چھگڑالوتھا)۔ یہ ہے حالت جب انسان کومعاشرے سے دور کردیا جائے۔ یہ جاننا چاہیے کہ حرف 'كَان' ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر انسان کی فطرت ﷲ کی فطرت پر تھی تو اسے ماضی میں بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اور آج بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آیات شریفہ جہاں اس واقعہ کی تردید کررہی ہیں کہ انسان ﷲ کی فطرت پر نہیں ہے وہاں ہمارے اس دعوی کی تصدیق بھی کرتی ہیں کہ انسان کی موجودہ شکل، جنیاتی اور تہذیبی دونوں، ارتقا کی پیداوار ہیں جو"کن" کی تومیل میں واقع ہوئی ہے اور جاری ہے۔ انشقاق: فَطَرَ-----فطرت-----فطرہ--- پھاڑنا، چیرنا، پہلی دفعہ نئی چیز وجود میں لانا۔ وسعت دینا مقصد: اس آیت میں کائناتی حادثے کی عملی شکل بتائی گئی ہے کہ ایک حکم دینے کی بجآوری میں اس وقت موجود اشیا پھٹ گئیں اور پہلی دفعہ آسمانوں اور زمیں کو ذرات کو شق کرتے ہوئے ظاہر کیا گیا۔ چنانچہ اس آیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا، آسمانوں اور زمیں کو ایکدوسرے سے شق کرکے وسعت دی گئی ہے ۴ إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ﴿ یونس: ٧﴾ بے شک وہی ہے جس نے شروع میں پیدا کیا اور پھر وہی انہیں لوٹائے گا۔ مادہ: خ ل ق۔ ب د أ مصادر: خلق؛ خلق خلق الخَلْقُ خلق ألق قال فطر جبل سبت عجل ذرأَ روح برأ سوا جدد یعید؛ عود عود العَوْدُ عود وأل وأل قال ألَّ خلل ندل عقب عجم ألا ضرا بدأَ لغات: خلق مفتوح (خ پر زبر) کے بنیادی معنی کسی چیز کو بنانے یا کاٹنےکے لیے اسے نپائی کرنا ہیں۔ یعنی اس چیز کا اندازہ لگانا۔ صاحب لغات القران کا کہنا ہے کہ قدر کا بھی یہی معنی ہیں یا کسی چیز کے توازن اور تناسب کو دیکھنا یا کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے مطابق بنانا۔ تاج العروس اور لین الغات نے کسی چیز کو نرم اور ہموار بنانا لکھا ہے۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ 'خلق الادیم'کچھ بنانے کی لیے چمڑے کی پیمائش کا اندازہ لگانا ہے یعنی کسی ایک چیز سے دوسری چیز کا بنانا ہوتا ہے۔ محیط نے قاموس میں لکھا ہے کہ 'رجل تام الخلق' (خلق کی ق مکسور ہے۔ ق پر زیر) اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی جسمانی ساخت میں اعتدال ہو۔ صاحب لغات القران نے لکھا ہے کہ خلیق اسی معنی میں آتا ہے۔ چنانچہ خلقۃ کے معنی ہیں چکنا پن، ہمواری یا برابر ہونا۔ لسان العرب نے لکھا ہے کہ اس کے معنی کسی چیز کا بے شگاف اور ہموار ہونا ہیں۔ ابن فارس نے اس کے دو لوازم درج کیے ہیں، ایک کسی چیز کا مکمل اندازہ کرنا اور دوسرے کسی چیز کے استعمال کے بعد اس کا ہموار اور چکنا ہوجانا۔ یعنی ہمواری اور چکنا پن اس کی بنیادی خصوصیت نہیں ہے۔ اس لیے پرانی اور استعمال شدہ چیز کو خلق کہتے ہیں کیونکہ وہ کثرت استعمال سے گھس کر سپاٹ ہوجاتی ہے۔ بقول ابن فارس المخق وہ تیر ہوتا ہے جسے درست کردیا جائے یعنی اس کو سدھار دیا جائے تکہ نشانہ صحیح بیٹھے۔ محیط نے لکھا کہ اس کا مطلب مکمل شدہ ہوگا۔ غریب القران میں ابوالفضل نے اسکے معنی پرانے رسم و رواج کے لیے ہیں جیسے سورۃ شعرا کی آیت ۱۳۷ میں آیا ہےکہ إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (یہ گزشتہ لوگوں کی پرانی عادت ہے)۔ تاج العروس نے خلق ( خائے مضموم ہے۔ خ پر پیش) کا مفہوم کسی کی طبیعی حالت یعنی کہنگی کا لیا ہے جیسے سورۃ آل عمران کی آیت ۷۶ میں ہے کہ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ ( آخرت میں انکا کوئی حصہ نہیں)۔ خلاق کے معنی ہیں اندازے سے مقرر کیا ہوا جیسے سورۃ ص کی آیت ۷ میں آیا، إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ (یہ تو اندازوں کے سوا کچھ نہیں)۔ صحاح الغات نے غریب القران کے حوالے سے لکھا ہے کہ خلاق کا مطلب ٹھیک اندازہ لگانا ہے جیسے سورۃ اعراف کی آیت ۵۴، أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ( اندازہ اور اس کا حکم صرف ﷲ ہی دیتا ہے) سورۃ یسن کی آیت ۸۱ میں آیا بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ہاں وہی اپنے اندازوں کو خوب جانتا ہے۔ سورۃ حاشر کی آیت ۲۴ میں ہے هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ (ﷲ وہ ہے جو چیزوں میں اپنے اندازوں کو نافذ کرتا ہے)۔ اس لیے جناب رسالت مآبؐ سے سورۃ القم کی آیت ۴ میں فرمایا، وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (اور بےشک آپ انداز اور تناسب کا عظیم مرکب ہیں)۔ یعید، عود سے ہے۔ عود کا بنیادی مطلب ہے لوٹنا یا کسی کام کو بار بار کرنے کو کہتے ہیں تاہم راغب اور زمخشری کو بقول یہ لفظ محض ابتداً کسی کام کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ محیط نے قاموس میں اس کی تائید میں سورۃ اعراف کی آیت ۸۹ میں حضرت شعیبؑ کا قول نقل کیا ہے قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ( اس طرح تو ظاہر ہے کہ ہم ﷲ پر بہتان باندھیں گے کہ ہم تمہارے مذہب میں پلٹ جائیں جبکہ ﷲ نے ہمیں وہاں سے نجات دے دی ہے ہاں اگر ﷲ کی مشیت یہ ہو کہ ہم واپس پلٹ جا ئیں تو وہ ہمارا پروردگار ہے۔) تاہم تاج العروس نے یہ دلیل اس بنا پر تسلیم نہیں کی کہ چونکہ حضرت شعیبؑ پہلے بھی قوم عاد کے مسلک پر نہیں تھے اس لیے یہ لوٹ کر جانا نہیں ہے بلکہ پہلی بار شامل ہونا ہے، یعنی اس آیت شریفہ کامطلب ہوگا کہ ہم تمہارے مسلک کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ لیکن صاحب الغات القران نے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس آیت شریفہ میں جمع تثلیث کا صیغہ استعمال ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جواب حضرت شعیبؑ کےسابقہ کافر ساتھیوں کی جانب سے دیا گیا ہے نہ کہ خود حضرت شعیبؑ کی جانب سے البتہ اس جواب کو قران نے منسوب آپ حضرتؑ سے ہی کیا ہے لہذا زمخشری اور راغب کی تصدیق ہوتی ہے۔ محمد مرتضی الزبیدی نے تاج العروس میں یہ بھی لکھا ہے کہ عاد کے بنیادی معنی ویسے تو پلٹنے کے ہی ہیں لیکن بعد میں صار کے معنوں میں بولا جانے لگا۔ { صار کا مادہ ہے ص ر ر۔ الصح فی الغۃ نے لکھا ہے کہ ہذا الشدةُ مِن كرْبٍ وغيره۔ یعنی اس کے معنی میں سختی سے قائم رہنا بھی شامل ہے اور سردی سے جمنا بھی: چونکہ یہ لفظ ہمارا موضوع نہیں اس لیے ہم اس سے اکتفا کرتے ہیں} سورۃ مجادلہ کی آیت ۳ میں ہے ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا (پھر وہ اپنی کہی ہوئی واپس لے لیں) عائد لوٹ جانے والے کو کہتے ہیں جس کی جمع عائدون ہے جیسے سورۃ دخان کی آیت ۱۵ میں ارشاد ۃ ہوا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ( تم لازماً واپس پلٹ جاؤ گے)۔ تاج اور محیط نے اسے 'انجام کار منزل مقصود تک پہنچنا' بھی لکھا ہے جیسے سور قصص کی آیت ۸۵ میں آیا لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ (وہ آپؐ کو منزل مقصود تک پہنچا دے گا)۔ چنانچہ سورۃ البروج کی آیت ۱۳ میں إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ ( وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور ارتقا دیتا ہے)- انشقاق: خَلْقَ-----خلق-----بنانا، کاٹنا، نرم و ہموار کرنا، اندازہ لگانا، متوازن کرنا، ایک چیز کو دوسری چیز سے بنانا يُعِيدُ-----عود---- واپسی-- پلٹانا، گردش دینا، پہلی حالت کی طرف آنا، تکرار، ارتقا، کجھور کی پتلی شاخ۔ مقصد: ان آیات کی روشنی میں یعید کا مطلب تکرار نہیں بلکہ ارتقا ہے۔ اس لحاظ سے چیزوں کو مختلف مراحل سے گذار کر اسکی ابتدا سے آخری نقطہ تکمیل تک لے جانا ہے۔ صاحب الغات القران نے ایسا کرنے والے کو رب لکھا ہے اور اس عمل کو ربوبیت۔ چنانچہ اس آیت شرہفہ کا مطلب ہوگا کہ پوری قوت اور تدبیر سے نکتہ کمال تک پہنچانا اس لیے اس کا ترجمہ ہوگا کہ؛ بیشک وہی ہےجس نےتوازن سے ایجاد کیا اور اس کے بعد وہی انہیں ارتقا بخشتا ہے ۵ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ﴿ق: ٣٨﴾ یعقیناً ہم نے توازن بخشا آسمانوں کو اور زمین کو اور سبھوں کو جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دنوں میں اور ہمیں نہیں ہوئی تھکن مادہ: ی و م؛ م س س؛ ل غ ب مصادر: یوم يوم يوم اليَوْمُ ألّ يومٌ يَوْمٌ و غبب خمس قرر منذ ليل سبت نفر خرج مس مسس مسس مسس مس حجر ذمر لمس خبأ حجم حسا لغب لغب لغب لَغَبَ لغب زري ظهر ذرب رصف نقل برح لأم نقل وغب غبب وغب غبب وغب الوَغْبُ الغِبُّ وغب لغات: یوم کولسان العرب نے لکھا کہ معروفٌ مِقدارُه من طلوع الشمس إِلى غروبها، والجمع أَيّامٌ یعنی عام طور پر سورج نکلنے سے غروب ہونے کے وقت کو ایک دن کہا جاتا ہے اور اس کی جمع ایام ہے۔ پرویز نےلغات القران نے لکھا ہے کہ یوم ایک خاص مدت کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور صبح شام کی گردش یوم کہلاتی ہے جیسے سورۃ آل عمران کی آیت ۱۳۹ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( یہ وہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں)۔ یعنی ایک دن، ایک سال، ایک صدی، پچاس ہزار سال سب کے لیے یوم کہا جاتا ہے جیسے سورۃ سجدہ کی آیت ۵ میں آیا يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ (وہ دن تھے ہزار سال کے برابر) ابن فارس نے کہا کہ کسی اہم واقعہ (امر عظیم) کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ محیط نے تائید میں لکھا کہ چند اہم واقعات کی لڑی کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے کہتے ہیں'ایام العرب' یا جیسے سورۃ ابراہیم کی آیت ۵ میں وارد ہوا وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ (اور انہیں ﷲ کے دن یاد دلاؤ)۔ تاج العروس نے کہا ہے کہ آخری نتیجہ اور خاص حالت کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے سورۃ انفطار کی آیت ۱۹ میں آیا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ ( اس دن صرف حکم ﷲ کا چلے گا) بقول تاج العروس اس خاص دن کی مناسبت سے اعمال کی جزا و سزا ملے گی اس لیے یوم جزا و سزا کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے سورۃ الفاتحہ کی آیت ۳ میں وارد ہوا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ( وہ جزا وسزا کا مالک ہے) مس کا بنیادی مطلب ہی کسی چیز کو چھونا ہے۔ تاج اور راغب نے کسی چیز تک پہنچنے کو لکھا ہے۔ راغب نے لمس اور مس میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ لمس تلاش کرنے اور ٹٹولنے کو بھی کہتے ہیں البتہ اس میں اس چیز کا واقعتاً مل جانا شرط نہیں ہے تاہم مس کے ذریعے جسی ادراک ہونا شرط ہے۔ لسان العرب نے کہا ہے کہ کہکسی چیز کے ابتدائِ اثر کو بھی مس کہتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے وجد فلان مس الحمی یعنی اسے بخار محسوس ہوا۔ نیز ابن فارس نے کہا کہ ہر آنیوالی دقت اور اذیت کو بھی مس سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے بولتے ہیں لم یجد مسا من النصب۔ النماس ایک دوسرے کے جسم کو چھونے کو کہتے ہیں اور اس وجہ سے کنایا میں مجامعت کرنے کے لیے بولا جات ہے جیسے طہار کے ضمن میں سورۃ مجادلہ میں آیا مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ( اس سے پہلے کہ وہ حق مجامعت کریں) اور جیسے سورۃ البقرہ کی آیت ۲۳۶ میں وارد ہوا إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ ( اگر تم نے اپنی بیویوں کو مجامعت سے پہلے طلاق دے دی) تاج العروس نے لکھا ہے کہ یہ ہاتھ سے چھونے کے لیے بولا جاتا ہے۔ جیسے سورہ طہ کی آیت ۹۷ میں کہا ہے،أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ( تو یہ کہتا رہے مجھے نہ چھونا) سید مرتضی زبیدی نے تاج میں اسی آیت کے ضمن میں فیروز آبادی کی قاموس المحیط کے حوالے سے لمس اور مس میں تخصیص کی ہے۔ محیط میں لکھا ہے کہ لمس صرف ہاتھ سے چھونا ہے جبکہ مس عام ہے یعنی ہاتھ یا بدن کے کسی حصے سے چھونا جیسے سورہ ص کی آیت ۳۳ میں فَطَفِقَ مَسْحًا (وہ لگے ہاتھ پھیرنے) یا جیسے سورۃ المائدہ کی آیت ۶ میں آیا وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (مس کرلو اپنے سروں کو اور پیروں کو ٹخنوں تک)۔ علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ مس کرنا ہاتھ سے چھونے تک محدود نہیں ہے بلکہ ادراک سے چھولینا بھی مس کرنا ہے جیسے سورۃ الواقعہ کی آیات ۷۷-۷۹ میں درج ہے، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (یہ قران کریم ہے جو کتاب مکنون ہے اس کے معنی صاف ذہن ہی سمجھ سکتے ہیں) لغب، لغبا، لغوبا پہت زیادہ تھکن کو کہتے ہیں۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں النصب اور الغوب میں امتیاز کیا ہے۔ النصب جسمانی تھکن کو کہا ہے اور الغوب زہنی تھکن کو جیسے سورہ فاطر کی آیت ۳۵ میں کہا گیا ہے لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ ( نہ اس میں کوئی مشقت ہے نہ ہی کوئی تھکن)۔ انسان تھک کر پریشان ہوجاتا ہے اس لیے ضمن میں میں بیوقوف انسان کو بھی کہتے ہیں۔ محیط نے لکھا ہے جیسے بولتے ہیں اتانا ساغبا لاغبا یعنی وہ ہمارے پاس پہنچا تو تھکا ہوا ور بھوکا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک بدو نے کہا فلان لغوب احمق جاءتہ کتابی فاحتقرۃ یعنی وہ آدمی بڑا ہی احمق ہے اور دور اندیش نہیں ہے کہ اس نے میری تحریر کو اہمیت نہیں دی۔ محیط نے کہا کہ یہاں لغوب کا مطلب کمزور رائے کا حامل ہونا ہے۔ سھم الغب ایسے تیر کا لہتے ہیں جو درست ترشا ہوا نہ ہو۔ علامہ وحید الزمان نے لغات الحدیث میں درج کیا ہے اھدی الیہ صلی ﷲ علیہ و سلم سلاح فیہ سھم لغب یعنی جناب مآبؐ کو ایسا تیر ہدیہ کیا جوترشا ہوا نہیں تھا۔ یکسوم کے بھائی اشرم نے کچھ ہتھیار تحفے میں بھیجے تھے جن میں سے ایک تیر درست ترشا ہوا نہیں تھا اس کے بعد سے یہ طعنہ بن گیا۔ انشقاق: أَيَّامٍ-----یوم---- دن، دن اور رات، مدت، خاص وقت مَسَّنَا-----مسس----لمس ، چھونا، ٹٹولنا، اثر، احساس لُّغُوبٍ-----لغب---- تھکن، درماندگی، مشقت، تسلسل، عبث، بےکار، بےتکی۔ مقصد: یہ آیت واضع طور پر بتا رہی ہے کہ خلقت کا مرحلہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے اور اس زمیں اور آسمانوں کی تکمیل کو ایک مدت درکار ہوئی ہے۔ جس میں آسمان اور زمین اور ان سے متعلق تمام چیزوں کو ایک مدت میں تیار کیا گیا ہے اور یہ مدت ہمارے چھ دن نہیں ہیں بلکہ ایک دن کو ایک مرحلہ کہا گیا ہے۔ لہذا اس آیت کتیمہ کا ترجمہ کچھ یوں ہے؛ ظاہر ہے کہ ہم نے ان کائناتوں اور اس ایک زمین کو اور جو کچھ ان کائناتوں اور زمین کے کیے ضروری تھا انہیں چھ مختلف مرحلوں میں متوازن کیا ہے اور یہ تمام کا تمام لغو اور بےکار نہیں ہے ۶ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ﴿البقرة: ٢٩﴾ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہاری خاطروہ کچھ جو زمین میں ہےسب پھر توجہ کی آسمان کی جانب اور استوار کر دیئے سات آسمان۔ مصادر: ارض أرض رضرض رض سماوات سما سما سَمَا أسس منن درر سمو استوی سوا سوا خلق حتن خلق عمم طبق لهله خلق الدَّكُّ الخَلْقُ جبن حفز بلق صرح انشقاق: ارض--- رض--- زمین۔-- نیچا ہونا۔ فرش، بچھونا۔ پھیلانا سماوات----سماء---سمو--- آسمان، اونچا ہونا، اوپر، بالائی سائیہ، بلندی، چڑھائی۔ استوی--- استوا--- سیدھا، درمیان،برابری،تناسب، تسلسل، جڑا رہنا۔ لغات: ارض تاج نے لکھا ہے کہ ہر وہ چیز جو نیچے ہو ارض کہلاتی ہے چنانچہ ارض النعل جوتے کے تلے کو کہتے ہیں۔ لین الغات نے لکھا ہے کہ چونکہ گھٹنوں سے نیچے ٹانگوں کا حصہ ارض کہلاتا ہے اس لیے زمیں کو ارض کہا جاتا ہے کہ وہ پاؤں کے نیچے رہتی ہے۔ تاج نے کہا ہے کہ چونکہ زمین سے سامان خوراک حاصل ہوتا ہے اور انسان خوشحال اور شادمان رہتا ہے اس لیے الاراضۃ خوشحالی اور شادمانی کوکہتے ہیں جیسے سورہ اعراف کی آیت ۱۰ میں آیا ہے کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ(اور ترتیب دیئے ہم نے اس میں تمہارے لیے اسباب معیشت)۔ راغب نے لکھا کہ اس لیے ارضت الارض پیداواری زمین کو کہا جاتا ہے۔ فراوانی اور خوشحالی کی نسبت سے بکری کے موٹے بچے کو جدی اریض کہا جاتا ہے۔زمین میں رہنے کی نسبت سے الارضُ دیمک کو کہا جاتا ہے۔ مفردات میں راغب نے کہا کہ منکسرالمزاج شخص کو بھی اِراضۃ کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ دوسروں کے مقابل نیچا ہوجاتا ہے جیسےقران میں ارض جبل کے تقابل میں بھی آیا ہےجہاں جبال معاشرے کے طاقتور اور ارض کمزور طبقات کو کہا گیا ہے ملاحضہ ہوسورۃالکہف کی آیت ۴۷،وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً(جس دن پہاڑ ہٹا دیئے جائیں گے اور زمین ہموار ہوجائے گی) پرویز نے لغات القران میں لکھا ہے کہ سیاق و سباق سے سموات و الارض معاشرے کی ناہمواریوں سے مراد بھی ہے۔ سماوات جمع ہے سماء کی جس کا مادہ ہے سمو۔ یہ ارض کے تقابل میں بولا جاتا ہے۔ اور زمین کے اوپر ہونے کی وجہ سے آسمان کہلاتا ہے۔ فقہ اللغۃ میں آسمان کی تعریف کی گئی ہے کہ ہر وہ چیزجو ہمارے اوپر چھائی ہوئی ہو یا سائیہ کرتی ہو سماء کہلاتی ہے۔ جبکہ راغب نے کہا کہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی نچلی سطح کی نسبت ہر بلند چیز سماء اور بلندی کی نسبت سے ہر نشیبی چیز ارض کہلائے گی اس لیے بارش کو سماء کہتے ہیں جیسے سورہ نوح کی آیت ۱۱ میں وارد ہوا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿وہ تم پرمسلسل بارش بھیجے گا) تاج نے ابن قتیبہ کے حوالے سے لکھا ہے بودے اور سبزے کو بھی سماء اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زمین سے بلند ہوتے ہیں۔ چنانچہ گھر کی چھت بھی سماء کہلاتی ہے چنانچہ سورۃ الانبیأ کی آیت ۳۲ میں آیا وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا (اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا)۔ سماوات کائنات کے لیے بھی بولا جاتا ہے طاہر القادری نےسماوات کا ترجمہ کائنات کیا ہے جیسے سورہ الذاریات کی آیت ۴۷ میں آیا ہے وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ( ہم نے اس کائنات کو نہایت مربوط بنایا ہے جسے ہم وسعت دیتے جارہے ہیں) استوی کہتے ہیں کسی چیز کا اپنی ذات میں پورے اعتدال پر ہونا۔ تاج نے لکھا ہے کہ کسی چیز کا اپنی نشو و نما کے کمال تک پہنچنا استوا کہلاتا ہے۔ ابن فارس کے بقول اس کے بنیادی معنی استقامت اور پائداری کے ہیں۔ لہذا استوی الرجل جوان آدمی لے لیے آتا ہے جو اپنے شباب پر ہو جیسے سورۃالقصص کی آیت ۱۴ میں آیا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ( جب وہ جوانی کی حداعتدال پر آگئے) محیط نے کہا ہے کہ مظبوطی سے جم جانے کو بھی استوی کہتے ہیں جیسے سورہ الفتح کی آیت ۲۹ میں وارد ہوا فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ ( پہلے وہ گدرائی اور پھر مظبوطی سے سیدھی کھڑی ہوئی) صاحب لغات القران نے لکھا ہے کہ کسی چیز کے ہر اعتبار سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو اور ٹھیک ٹھیک تناسب رکھتی ہو استوی کہلاتی ہے جیسے سورہ طہ کی آیت ۱۳۵ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَىٰ ( پس تم جان لو گےکہ کون رہ راست والے ہیں اور کون ہدائیت یافتہ ہیں) لہذاتاج نے لکھا ہے کہ رجل سوی ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو جسمانی لحاظ سے متناسب اعضا رکھتا ہو اور نیک کردار بھی ہو جیسے سورہ نجم کی آیت ۶ میں کہا فَاسْتَوَىٰ (کمال خلقت) زیر نظر آیت میں فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ کے لیے راغب نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب ہے حکمت کے تقاضوں کے مطابق بنایا۔ تاج اور محیط نے اس کی تاءید کی ہے جیسے سورہ انفطار کی آیت ۷ میں آیا ہے خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ( تجھے پیدا کیا، سیدھا کیا اور تناسب دیا) مقصد: ان توضیحات کے بعد یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ کائنات کی تخلیق کے آخری مراحل میں ان امور کا ذکر کیا جارہا ہے جو زمین اور آسمان کی تخلیق کے آخری اور حیات کی ابتدائی مراحل کے لیے ضروری تھے۔ اس آیت شریفہ میں یہ بات خوب واضع ہوچکی ہے کہ انسان کی موجودگی صرف اس ایک زمین پر ہی بنائی گئی ہے اور اس لیے غور کرنے سے علم ہوتا ہے کہ زمین کے لیے ہمیشہ واحد کا صیغہ استعمال ہوا ہے جبکہ سماوات کے لیے ہمیشہ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں بھی زمین اور اس کے ساتھ واضع طور پر سات آسمانوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آسمان حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتا۔ جس نیلگوں چیز کو ہم دیکھتے ہیں وہ ہوا کا ایک غلاف ہے اگر یہ سمجھا جائے کہ ہوا کے اس غلاف کو قران آسمان کا نام دے رہا ہے اور اس غلاف کی سات پرتیں یا تحیحں ہیں تا یہ ایک خلاف حقیقیت بات ہوگی اس لیے کہ علم جغرافیہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہوا زمین کے کرؤں میں شامل ہے۔ یعنی زمین کے سطح کے مطابق کہیں ہوا کا غلاف کئی تحیحں رکھتا ہے اور کہیں بہت مہین ہے اور کہیں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان تحوں کی سطح تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جو چیز مسلسل موجود ہے اور اس میں وسعت ہورہی ہے وہ کائناتیں ہیں۔ ہم اب تک اپنی موجودہ کائنات کا مکمل علم نہیں رکھتے اور اس میں نئی نئی معلومات کا اضافہ کررہے ہیں۔ یہاں کائنات، کہکشاں اور نظام شمسی کے فرق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ لہذا اس آئیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا؛ اسی نے تمہارے لیے زمین میں وسائل پیدا کیے لہذا اس کے ساتھ لگاتار سات کائناتوں کو تشکیل دیا ۷ -- خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ-- وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ ﴿فصلت: ۹-۱۰﴾ ---خلق کی زمین دو دنوں میں---- اور بنائے اس کے اندر پہاڑ نہ ہلنے والے اور رکھ دی برکت ان میں اور ٹہرا دیا ان میں سامان خوراک مزید چار دن میں مادہ: ی و م؛ ر ب ع؛ ج ع ل؛ ق د ر مصادر: یوم يوم يوم اليَوْمُ ألّ يومٌ يَوْمٌ اربعۃ ربع ربع الرَّبْعُ ربع جعل جعل جعل جعل جَعَلَهُ مثل دكك شرك أزا نصب انف قبر زرر كفف فتق ضع لغات: یوم کے بارے میں بحث ذکر کی جاچکی ہے۔ اربعۃ ابن فارس نے کہا ہےکہ اس کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز پر قائم رہنا۔ مقائیس الغۃ میں لکھا ہے کہ کسی چیز کو اپنی سطح سے اوپر اٹھانا ہے۔ عمومی طور سےیہ چار کے عدد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اربعۃ مذکر کے عدد کے کیے آتا ہے جیسے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۰ میں ایا ہے، فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ(چنانچہ تم چار پرندے پکڑ لو)اور اربع مونث کے لیے آتا ہےجیسے سورہ نور کی آیت ۶ اور ۸ میں آیا ہے، أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ (چار کی گواہی)چالیس کےعدد کے لیے بھی آیا ہے جیسےسورۃ البقرہ کی آیت ۵۱، أَرْبَعِينَ لَيْلَةً (چالیس راتوں کے لیے) یا ایک چوتھائی کے لیے جیسے سورۃ النساء کی آیے ۱۲میں الرُّبُعُ مِمَّا (اس کا ایک چوتھائی) اورآیت۳ میں عدد کی تکرار کے لیے وَرُبَاعَ(اورچار چار) یا سورہ الکہاف کی آیت۲۲ رَّابِعُهُمْ (ان میں کا چوتھا) جعل ایک وسیع معنی لفظ ہے اور اس کے بہت سے مطالب اخذ کیے جاتے ہیں۔ یہ معنی اس لفظ کے استعمال اور سیاق و سباق کے مطابق اخذ ہوتے ہیں۔ تاہم راغب کے مطابق یہ ہر کام کے کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ تاج العروس نے جَعَلَ کو فَعَلَ (اس نے کیا) اور صَنَعَ (اس نے بنایا) سے فرق کیا ہے۔ فعل کسی ایسے کام کے لیے بولا جاتا ہے جو زمانےکا پابند ہوتا ہے جبکہ جعل میں زمانہ لازمی شامل نہیں ہوتا۔جیسے سورۃالبقرہ کی آیت ۳۰ میں وارد ہوا وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (جب آپ کے رب نے فرشتوں کو بتایا کہ میں زمین پر خلیفہ بنانے والا ہوں) یا جیسے اسی سورت کی ۱۲۴ آیت میں ارشاد ہوا إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا (میں تمہیں انسانوں کا امام بناتا ہوں) صنع محض کسی چیز کو کسی چیز میں ڈھالنے کے لیے بولا جاتا ہے جبکہ جعل میں صورت گری کے علاوہ مجاز اور استعارہ بھی شامل ہے جیسے سورہ مریم کی آیت ۳۰ میں کہا وَ جَعَلَنِي نَبِيًّا (اور مجھے نبی بنایا) جبکہ اسی سورت کی آیات ۳۱ اور ۳۲ میں بالرتیب کہا وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا(مجھے مبارک بنایا) اوروَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (اور مجھے نہیں بنایا جابر اور شقی) غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آیت ۳۰ میں جعل، صنع کے معنوں میں استعمال ہورہا ہے یا علماء کی بحث کے مطابق انزال اور قام کے معنوں میں استعمال ہورہا ہے۔ جبکہ دیگر آیات میں فعل کے معنوں میں جیسے سورہ انعام کی پہلی آیت میں فرمایا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ( آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا) یہاں خلق اور جعل جدا کیے ہیں یعنی جعل، خلق سے جدا کوئی اور عمل ہے۔ ایک نکتہ قابل غور ہے کہ یہاں رب العزت نے اپنے لیے فعل کا لفظ استعمال نہیں کیا جو زمانے کا پابند ہے حالانکہ سورۃالفیل کی پہلی ایت میں فرمایا أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے کیسا فعل کیا) اورجبکہ اسی سورت کی دوسری آیت میں فرمایا أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ (کیا انکی تدبیروں کی تذلیل نہیں کردی) چنانچہ جعل کے ساتھ فی آنے سے ایک چیز کو دوسری سے تقابل کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت ۱۹ میں وارد ہوا يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم ( وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں)۔ ذکر سوفٹ وئیر کے مطابق جعل ۳۶۰ آیات میں ۳۴۰ مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ قدر انشقاق: يَوْمَيْنِ----یومین----- دو دن رْبَعَةِ----ربع ---- چار دن جَعَلَ----- جعل--- بنانا، اختیار دینا، شکل دینا، گھڑنا، ترتیب دینا مقصد: اس جگہ خلق اور جعل ایک ہی آیت میں استعمال ہوا ہے جو بجائے خود اس مطلب کو واضع کرتا ہے کہ خق اور جعل دو جدا عمل ہیں۔ اس آیت میں واضع ہورہا ہے کہ خلق ایک مسلسل اور ارتقا کا عمل ہے جو ابھی بھی جاری ہے ممکنہ طور پر جاری رہےگا۔ البتہ بنانے کا عمل جعل جس میں ترقی اور تنزلی دونوں شامل ہیں ارتقا کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ کائناتوں کی ۶ مراحل کی تشکیل کے بعد کہ جنکا ارتقا ابھی بھی جاری ہے اس نے زمین کے ارتقا کو دو مراحل میں ارتقا بخشا اور زمین کی قابل رہائش حالت کو مزید چار مراحل میں اس طرح مکمل کردیا کہ اس میں طاقت نمو رکھ دی۔ لہذا اس آئیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا؛ زمین کی ایجاد دو دن میں مکمل ہوئی، اور اس کی ہر چیز میں طاقت نمو کا اصول بنا دیا۔ حاصل بحث پہلے تو یہ عرض ہے کہ ہم عالم قران ہونے کا ہرگز دعوی نہیں رکھتے ہم اس میدان کے شہوسوار نہیں ہیں۔ دوئم علمأ قران کا کہنا ہے کہ بعضے امور قران میں ایسے ہیں کہ راسخون فی العلم کے ماسوا کوئی ان امور کو نہیں جانتا۔ قران خود اظہار فرماتا ہے کہ اس قران میں کچھ ایسے متشابہات ہیں جنہیں صرف وہ لوگ موضوع بناتے ہیں جو بات کو توڑنا موڑنا چاہتے ہیں البتہ وہی راسخون فی العلم ہی انکا مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ وﷲ ہیمیں تو تمام کا تمام قران ہی ایسا محسوس ہوتا ہے۔ بھلا کون دعوی کرسکتا ہے کہ وہ قران کا اصل مطلب جانتا ہے؟ اس لیے کہ کسی تاویل کے لیے کچھ امور کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر عرض ہے کہ خواہ تاویل ہو یا ترجمہ، حاشیہ یا تفسیر اس کا ایک اصول تو یہ ہے کہ شارع کی اصل منشأ تک پہنچا جائے اور پھر اس منشأ کے مطابق اس امر کو اپنے الطاظ میں ظاہر کیا جائے، ظاہر ہے کہ مذہب کے حوالے سے ایسا صرف ایک نبی علیہ سلام کے لیے ممکن ہے کہ اسکا واسطہ ایک ایسے ذریعے سے ﷲ سے متعلق رہتا ہے جس کی اپنی ماہیت سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ یہ بس ایک نبی علیہ سلام کا زبانی اور بھر عملی مظاہرہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ہم اعتبار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ ہمارے موضوع سے باہر ہے اس لیے ہم صرف اس نتیجے پر انحصار کرتے ہیں کہ تاویل کے ضمن میں شارع کا بنیادی مطلب کا اظہار صرف انبیأ کا کام ہے۔ البتہ بقول محقق مسعود نوازش کہ انبیأ کے بعد اس علمی خلا کو کیسے پورا کیا جائے؟ یعنی نبی کے بعد کون وہ اشخاص ہوں جو ﷲ کی منشأ کا اظہار کرسکیں؟ یہ ایک پیچیدا معاملہ ہے اور علمأ نے اس پر بیشمار ورق سیاہ کیئے ہیں اور اسی مسلے نے مذاہب میں مختلف نکتہ ہائے نظر پیدا کیئے ہیں۔ بقول محقق ڈاکٹر مبشر نذیر ہر عملی شکل جو کسی ایک فرقے میں رائج ہو نکتہ نظر کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی البتہ وہ اظہار جو کسی ٹھوس علمی فرق کی بنیاد پیش کرے وہ نکتہ نظر کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔ چونکہ یہ بھی ایک علمی مسلہ ہے اور ہمارے موضوع سے باہر ہے لیذا ہم اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاویل کو دوسرا طریق شارع کے ادا شدہ الفاظ کو ان کے سیاق اور مخاطب افراد کے سماجی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مفہوم تک رسائی کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک محدود مفہوم تک رسائی کی کوشش ہوگی اس لیے کہ سماجی حالات انسانی ذہن کے مرہون منت ہوتے ہیں اور انسانی ذہن اپنے فطری ماحول کی تبدیلی سے متاثر ہوتا ہے۔ مثلا اسلام کی مشال ہی لی جائے تو وہ سماجی حالت جو کفار مکہ کے زمانے میں تھی خود مکہ میں آج موجود نہیں ہے جبکہ وہاں کے مستقل رہایشی آج بھی وہاں رہتے ہیں البتہ ان کی سماجی حالت یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ اگر تاویل کا محض یہی طریق کار استعمال کیا جائے تو شارع کے الفاظ محدود ہوجائیں گے۔ چنانچہ الفاظ کے مفہوم کی جانب حوالے کے لیے رجوع کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنا علمی حوالے سے نہایت ضروری ہوگا۔ چنانچہ تاویل کا تیسرا طریقہ الفاط کے معنوں تک رسائی ہے۔ اس ضمن میں آج دو علمی گروہ موجود ہیں ایک وہ جو الفاظ کے مفہوم کے محض ان بنیادی معنوں تک محدود رہتے ہیں جو سیاق و سباق سے جڑے ہوئے ہوں۔ مثلا جنت کی وہ تعریف جو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابو ہریرؓہ کو بتائی وہ ان کے ذہن اور سماجی ماحول کے مطابق تھی جسے وہ قبول کرسکتے تھے تاہم نبؐی کے الفاظ کی تخریج اور توضیع آج کے انسان کے ویسی ہی انوکھی ناقابل قبول ہوگی جیسے آج کی توجیح جناب ابو ہریرؓہ کے لیے شدید مغالطے کا باعث ہوتی۔ ایسا سمجھنا قران اور سنت دونوں کو محدود کرنا ہوگا اور جس انسانی ترقی کا خواب مذہب دکھاتاہے اس کی بیخ کنی ہوگی۔ الفاظ کے معنوں کی تشریح میں دوسرا گروہ وہ ہے جو اپنے دور کے انسانی سماجی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے شارع کی منشأ کو نبیؐ کی زبان سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ناکہ انسان کو یہ مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے دور کے تقاضوں کو چھوڑ کر کسی ماضی کے زمانے کی تہذیب کو اپنا لے ایسا کرنا تحریف کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے ہماری کتاب اصول المقارنہ کا پہلا باب، افتراق بین المذاہب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اس موضوع پر علمائے کرام اور محققین عظام نے بیش قیمت کتب تحریر کی ہیں۔ ہم خود کو اپنے تئیں اس تیسرے طریق کے دوسرے گروہ سے متعلق گردانتے ہیں۔ ہرچند کہ ہم نے اس مقالے کے منردجہ بالا حصے میں کہیں بھی روایات کا سہارا نہیں لیا تاہم اس کی وجہ صرف قاری کو مزید الجھن سے بچانا ہے اس لیے کہ روایت کے ساتھ اس کی اسناد کی تحقیق کے بغیر قاری پریشانی کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ کہنا قاری کی بے بسی اور کم علمی ہرگز نہیں ہے بلکہ ہماری بےصبری ہے۔ منرجہ بالا آیت کی تلاوت سے امر واضع ہورا ہے کہ خلقت کا مرحلہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ عام طور سے سمجھا جاتا ہے. اکیسویں صدی کے دانشوروں کی یہ بحث بالکل بجا ہے کہ بطور انسان ہم کلمہ کن اور یکن کے درمیانی وقفہ کو جاننے کی کوشش کرنے میں حق بجانب ہیں. ہم نے اپنی تربیت سے سیکھا ہے کہ اس کارخانہ قدرت میں کچھ بهی فی الفور نہیں ہوجاتا. ہر چیز ایک اصول اور قائدے کے ساتھ وارد ہوتی ہے. مغالطہ خدا کے لیے وقت کی قید سے آذادی سے ہوتا ہے اور عام انسان خلقت کے ماحول کا انطباق اپنی ذات سے کرنے لگتا ہے جو لازما ایک غلط رجحان ہے. یہ کائنات اور دنیا و ما فیہا ایک ترتیب سے وجود پذیر ہوئی ہیں تبھی ان میں ایک ربط پایا جاتا ہے. ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا نے کائنات کی ابتدا کسی شہ کو شگافتہ کرکے کی. تاہم ہم یہ نہیں جانتے کہ خود اس شہ کی خلقت کیسے اور کب ہوئی. علماء اور دانشوروں کی وہ بحثیں جو عدم اور وجود سے متعلق ہیں وہ آجتک اس اولین خلقی شہ کے بعد والے مادے کو بهی عدم سے پرے جانتے ہیں. ظاہر ہے کہ یہ ایک مغالطہ ہے. دانشوران ایتھنز اور ایلیائی مفکرین اس امر پر متفق رہے ہیں کہ کائنات کو خلق کرنے والا مادہ قدیم ہے تاہم ایلیائی سائنسدان جیسے تهلئیز اس امر کو تسلیم کرتے نظر نہیں آتے. انہوں نے کائنات کو تخلیق کرنے والے مادوں اور تخلیق ہونے والے مادوں میں امتیاز برتا ہے. کائنات تخلیق کرنے والے مادے یقینا حادث ہیں تاہم یہ موقع اس بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا. جدید علمائ مین سے جناب عقیل الغروی نے یہ امر تسلیم کیا ہے کہ عدم اور وجود دو جدا صورتحال ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے باہم تبدیل نہیں ہسکتیں. گویا انہوں نے ایلیائی مفکر دیمیکراتس کا نظریہ قبول کیا ہے. تاہم اس کے نظریہ میں جواہر کو باہم پیوست کرنے کی مقناطیسی صلاحیت کا محرک نظر نہیں آتا جبکہ علامہ غروی اس صلاحیت کا محرک خدا کی مشئیت کو قرار دیتے ہیں. غروی کے اس نظریہ میں یہ امر بحث طلب ہے اور قابل غور بهی کہ جواہر میں موجود لازمی مقناطیسی صلاحیت بدرجہ اتم موجود رہتی ہے یا اسے کسی تحریک کی ضرورت ازبس ہوتی ہے. اس موضوع پر ہمارا مقالہ اصول المقارنہ میں بحث موجود ہے. اس کے بعد انسان کی ابتدا کیسے ہوئی اور کن مراحل سے گزرا ہے وہ اس مقالے کے دوسرے حصے میں رقم ہے جس کی پہلی آیت کا ذکر درج ذیل ہے. خلقت الانسان؛ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ﴿الأنبياء: ٣٠﴾ اور ہم نے ہر زندہ چیز کی نمود پانی سے کی ہے

خلقت حصہ اول

تالیف؛ ڈاکٹر عنبر تاجور۔ (پی ایچ ڈی- قانون )، جے ڈی ( تقابل ادیان ) خلقت: (قران کی تفسیر) تمہید: عموماً یہ خیال کیا جاتا ہےکہ پہلے پہل کچھ بھی نہیں تھا صرف عدم تھا اور پھر خدا نے کن کہا اور فوراً یہ کائنات تشکیل پاگئی اور اسی لمحے انسان اپنی موجودہ شکل لیے ہوئے آموجود ہوا۔ اور یہ پہلا انسان ہی پہلا بنی بھی تھا جو صاحب شریعت بھی تھا۔ دلیل اس امر کی یہ دی جاتی ہے کہ انسان سے قبل اس کی زندگی گذارنے کے احکام موجود ہونے چاہیں ورنہ خدا کے قائدہ لطف پر الزام آتا ہے۔ ہمیں یہاں خدا کے قائدہ لطف پر بحث نہیں کرنی اور نہ ہی ان دلائل کو باطل کرنے پر بحث مقصود ہے جو کل کائنات اور اس کی تمام اشیأ کو ایک لمحہ میں متشکل جانتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور عرض ہے کہ جو مذاہب خود کے''فطری'' ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں یا تو یہ امر تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کے ظہور سے قبل ایک فطری دور گذر چکا ہے جس کے ابتدائی تجربات کے بعد سماج میں خود رو اصولوں کی خامیوں کی اصلاح صرف خدائی قوانین سے ہی ممکن نظر آئی، تبھی وہ خود کے فطری ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ اور اگر یہ امر تسلیم کیا جائے ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا بھی جاتا ہے، کہ سماج کی تخلیق سے قبل ہی مذہب تشکیل دے دیا گیا تھا اور مذہب کے فطری ہونے کا ''علم'' چونکہ خدائے متعالﷻ کو ہی ہے اس لیے پیرویانِ مذہب بھی یہی یعقین رکھتے ہیں۔ اس صورت میں مذہب کے فطری ہونے کا دعویٰ ایمانیات کی رو سے ہوگا تجربی نہیں ہوگا۔ کیا مذہب کو تجربی ہونا چاہیے یا نہیں ایک جدا بحث ہے جس پر ہم سے قبل فلاسفہ اور علمأ بہت کچھ فرما چکے ہیں اور ان کے مباحث قابل قدر ہیں۔ علماءGenetics بتاتے ہے کہ انسان ایک روز اچانک وجود پذیر نہیں ہوگیا ہے بلکہ صدیوں کی ارتقا evolution کے بعد انسان وجود میں آیا ہے اوراُسےاپنے ابتدائی براہ راست مورث Hominin سے موجودہ شکل اختیا ر کرنے میں صدیوں کا فاصلہ طے کرنا پڑا ہے ۔ Hominin تو انسانوں اور لنگوروں کا مشترکہ مورث ہے تاہم ان کے بعد آنیوالے Afarensis اور Australopithecus afarensis میں اکھٹا رہنے کی خواہش تو پائی جاتی تھی تاہم ان میں ابھی سماج تشکیل نہیں پایا تھا۔ انسانی جسم سے بالوں کا خاتمہ Bipedalism ، کے بعد ہی انسانی سماج کی تخلیق جدید مورث Australopithecus سے ہی شروع ہوسکی ہے۔ یہی انسانوں اور لنگوروں کے درمیان ''امتیاز'' کا زمانہ ہے۔ ڈائنوساروں نے خاصے بڑے پیمانے پر australopithecus کا شکار کیا اور بعد میں آنیوالے Homohbilis انسانوں میں انسانی بقا کا شعور پیدا ہوا ہے تاہم یہ ایک طویل زمانہ ہے جس میں Homohabilis انسان اور ان کی ایک جدید ارتقائی شکل Homoerectus ساتھ ساتھ موجود رہے ہیں البتہ homohabilis زمانے کے ساتھ ساتھ ختم ہوگئے۔ دیگر جانداروں کے سامنے جسمانی کمزوری کی وجہ سے homoerectus کو سماج کی ضرورت پیش آئی جبکہ ان کی ہی نسل homohabilis اور دیگر جاندار اُن سے نبرد آزما تھے۔ میرا خیال کہ یہ وہ زمانہ نہیں ہے جسے جان لاک John Louck اور تھامس ھابز Thomas Hobbes فطری حالت کا زمانہ کہتے ہیں۔ یہ زمانہ Homoheidel اور Holotypeo سے قبل شروع نہیں ہوسکا۔ میرے ذاتی خیال میں homoheildel کا زمانہ سماج کو مظبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتا تھا اور انسانی شعور ، انسانی ذہن میں جگہ بنا چکا تھا اس لیے اب ایک نبی ،آدمؑ کی تخلیق ضروری تھی۔ چنانچہ اس صورت میں مذہب کے فطری ہونے کے دعویٰ میں بھی کوئی تجربی دلیل نظر آتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آدمؑ کی نوع homoheidel کی آخری شکل Omo1 رہی ہوگی۔ علم ارضیاتی سے ہمیں معلوم ہوا کہ ایک تخمینے کے مطابق اس کائنات کی اب تک کی کل عمر 630 ملین سال ہے جس میں ہماری زمین کو تخلیق ہوئے محض 10 کهرب سال ہوئے ہیں اور حضرت انسان کو اس دنیا میں آئیں ہیں. کہا جاتا ہے کہ اگر اس کائناتی کلینڈر کو ایک سال پر ترتیب دیا جائے تو سال کے پہلے 10 ماہ میں کائنات بنتی رہی ہے اور آخری دو ماہ میں یہ دنیا مکمل ہوئی جس میں آخری ماہ کا آخری دن ہے جس میں پہلے گیارہ گھنٹوں میں اس زمین پر زندگی وجود پذیر ہوئی. انسان آخری دن کے آخری گھنٹے میں پیدا ہوا. یعنی تمام انسانی تاریخ اس کلینڈر کا آخری گهنٹہ ہے. اس کائناتی کلینڑر کے مطابق ایک عام انسانی 60 سال کلینڑر کے ایک سیکنڈ کے برابر ہے. مذہب اس ضمن میں کیا کہتا ہے؟ اور ہمارے سامنے مذہبی بنیادی کتب کیا دعوی کرتی ہیں؟ اس کا جواب تین صورتوں میں موجود ہے۔ ایک جواب تو وہ ہے جو خود مذہبی زعما فراہم کرتے ہیں۔ صیہونی،مسیحی اور مسلمان تینوں علمأ کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان اور کائنات یکے بعد دیگرے بغیر کسی وقفہ کے وجودپذیر ہوئے۔ بائبل کے جو تراجم ، عہد نامہ قدیم، تلمود اور مشنأ اور قران کے عام تراجم کے مطابق یہ کائنات اور بنی نوع انسان کل چھ دن میں تیار ہوئے ہیں۔مزید براں یہ تینوں قسم کے تراجم اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ انسان براہ راست اسی موجودہ شکل میں زمینی مٹی سے بنا ہے۔ علمائ مذہب اس واقعہ کو مزید بیان کرتے ہوئے اس جگہ کا تعین بھی کرتے ہیں جہاں سے یہ مٹی حاصل کی گئی تھی۔ البتہ ہم یہ سوال قائم کرتے ہیں کہ کیا ان واقعات کو کوئی حسی دلیل Empirical Evidence ہے؟ چنانچہ آج کے انسان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔اور اس کا کوئی جواب ہوبھی نہیں سکتا۔ اس لیے کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب انسان خود اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہو۔ اس کا حل مذہبی زعما کی ان توجیہات سے ہوتا ہے جو وہ الوھی نمائندگان کو یا تو براہ راست خدا کی اولاد ثابت کرتے رہے ہیں یا ان نمائندگان کوہی قدیم جانتے ہیں۔ اس واقعے کی حقیقت جاننے کا ایک ہی درست طریقہ ہے کہ الہی مذاہب کی اصل بنیادی کتب، یعنی یہودیت کی تورات اور زبور، عیسائیت کی انجیل اور اسلام کی قران کا مطالعہ کیا جائے۔ شومئی قسمت سے ہمارے قارئین کے پاس عبرانی اور لاطینی کے اصل تورات، زبور اور انجیل موجود نہیں ہیں بلکہ ان کے اصل مصادر محض خاص مقدس مقامات پر محفوظ ہیں اور عوام کو ان تک رسائی نہیں ہے۔ یہاں یہ مقالہ اس بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ ہم تورات، زبور، انجیل اور قران کی جمع کی تاریخ بیان کریں۔ ممکن ہے کہ کوئی یہ دعوی کرے کہ جمع القران کی تاریخ کو تورات، زبور اور انجیل کے ساتھ مغالطہ نہ کیا جائے تاہم یہ ایک بجائے خود مغالطہ ہوگا۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ خود رسول خداﷺ نے قران جمع نہیں فرمایا۔ البتہ ان کی ہدائیت کی روشنی میں کچھ کاتبان نے قران کو تحریر کیا۔ تاہم جب پہلی خلافت کے زمانے میں قران کی سرکاری تدوین شروع ہوئی اور غیر سرکاری نسخوں کی پڑتال ہوئی تو ان کاتبان کا نام اور خود رسالت مآب ﷺ کے اس نسخہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا جو انہوں نے کتب کروایا تھا۔ البتہ بہت سے دوسرے نسخے دستیاب تھے جنہیں ، مصحف عثمان، مصحف عائشہ، مصحف عبداﷲ بن مسعود، مصحف ابوذر ، مصحف فاطمہ اور مصحف ماریہ قطبی کا نام لیا جاتا ہے۔ واضع رہے کہ یہ نسخہ جات خود رسالت مآب ﷺ کے سامنے موجود رہے ہیں۔ اگر یہ نسخہ جات موجود رہتے تو یہ اسی طرح ہوتا جیسے آج ہم لوقا ، پطرس، یونس اور یہواہ کی اناجیل دیکھتے ہیں۔ شائید اسی تجربے کا بنیاد بناتے ہوئے پہلی خلافت نے جمع القران کے دوران غیر سرکاری قران کی تدوین اور حفاظت پر پابندی عائد کی ہو۔ یہ مقالہ بہرحال ا س بحث کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس اذیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ محض عربی قران پربھروسہ کرتے ہوئے اپنے اس مقالے کو پیش کریں۔ میں اپنی کوتاہ نظری اور غفلت و نااہلی پر پیشگی معذرت خواہ ہوں اور میرا مقصد کسی نظریہ یا عقیدے کا مضحکہ ہرگز ہرگزنہیں۔ خلقت کے ضمن میں عرض ہے کہ کائنات کی خلقت اور انسان کی خلقت ایک دوسرے سے مربوط ہونے کے باوجود متصل نہیں ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ کائنات کی خلقت کا ایک تسلسل انسان کی خلقت بھی ہے۔ لہذا انسان کی خلقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ کائنات کی خلقت کا علیحدہ سے مطالعہ کیا جائے اور عربی قران سے ان آیات کا لحاظ کیا جائے جو کائنات کی خلقت سے متعلق ہیں۔ چنانچہ ہم نے پہلے کائنات کی خلقت اور پھر اس کے تسلسل میں حضرت انسان کی خلقت کا ذکر کیا ہے۔ میں سائینسی اور مذہبی علمأ کی اس بحث میں مبتلا نہیں ہوا ہوں جو وہ اپنے طریق سے فراہم کرتے ہیں یہاں یہ جاننا چاہیے کہ تاریخ نویسی، تاریخ پردازی اور تاریخ گوئی جداگانہ فنون ہیں۔ تاریخ نویسی تو ایک خاص زمانے کے حالات و حادثات اور ادب کا جمع کرنے کا نام ہے۔ اچھا ہے کہ ان واقعات کو اسی زمانے کے قریب ہی میں تحریر کرلیا جائے۔ ایسی تواریخ معتبر کہلاتی ہیں اتہم ہمیشہ ایسا نہیں ہوا۔ چونکہ تاریخ اپنے قاری کو ماضی میں لے جاتی ہے اس لیے تاریخ پردازی کو جدید زمانوں میں زیاد اہمیت حاصل ہوئی۔ تاریخ پردازی تاریخ کی تخریج کا نام ہے جس میں ایک محقق اصل حالات کے محرکات اور مفسرین کا علم حاصل کرتے ہوئے تنائج اخذ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے تاریخ نویسی اور تاریخ پردازی ایکدوسرے سے قدرے ملحق ہوتی ہیں البتہ تاریخ گوئی کا تعلق علم الاعداد اور علم الہدنسہ سے ہے۔ اس علم میں کسی خاص واقعہ کو کسی شعر یا نثر میں علم الہندسہ کے تحت تحریر کیا جاتا ہے۔ عربی رسم الخط کے عربی، فارسی اور اردو میں درج اعداد اور ان کے ہندسہ جات میں علمأ میں تناقض ہے۔ عربی رسم الخط کے ہندسے ۱ تا ۱۰، پھر ۲۰ تا ۱۰۰ اور پھر ۲۰۰ تا ۱۰۰۰ ہیں۔ رومن رسم الخط جس میں بیشتر مغربی زبانیں لکھی جاتی ہیں اعداد کے کل ۹ ہندسے بناتے ہیں۔ راقم نے تاریخ گوئی میں عربی رسم الخط کے بھی ۹ ہندسے بنائے ہیں تاہم یہ مقالہ اس فن یا تاریخ کی تاریخ کا متحمل نہیں لہذا ہم اس سے صرف نظر کرت ہیں۔ مختصرتاریخ تفسیر جو بھی کوئی کلام کرتا ہے وہ اس امر کا بھی پابند ہوتا ہے کہ اپنے کلام کی تشریح بھی کرے۔ تشریح کے اس کام میں مختلف استعداد اور قابلیت کے لوگوں سے واسطہ پڑنا ایک معمول کی بات ہے اور یہ افراد یکسان فہم اور قابلیت کے نہیں ہوتے۔ ایک جامع کلام کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرح کی صلاحیت کے افراد کی استعداد کے مطابق مواد دستیاب ہو۔ اس طرح کے کلام کی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے جملے مختصر تاہم نہایت جامع ہوں۔ چنانچہ بیشمار مطالب کو محدود فقروں میں بیان کرنے کے لیے غیر محسوس اور غیر حاضر حالات کو سامنے رکھا جائے تاکہ کلام کو موجودہ حالات اور آئندہ آنیوالے حالات کے تمام افراد کے لیے کافی ہو۔ اسی کو غیب کہتے ہیں۔ ایسے کلام میں استعارہ، مجاز، مبہم، مجمل، تشبیہ اور مرسل وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں۔ ان سب کے بغیر کلام مہمل رہ جاتا ہے اور ناقص کہلاتا ہے۔ کلام کی ان باریکیوں کو سمجھنے کے لیے زبان اور زبان کی انشأ پردازی یعنی صرف و نحو، ادب، لغت، معروف و نکر، تاریخ، جغرافیہ، وقائق وغیرہ سب کی ضرورت پڑتی ہے۔ قران کے حوالے سے آیات کے شان نزول کے ساتھ فقہ اور حدیث کا علم بھی ضروری ہوتا ہے۔ ان الجهنوں کے باوجود قران کا اسلوب ایسا ہے کہ اسے ایک ناخواندہ اور ایک عالم اپنی عقل اور ضرورت کے مطابق سمجھ لیتے ہیں۔ قران کو سمجھنے کا مطلب تفسیر القران ہے۔ تاہم ایک مفسر کو کلام سمجھنے کے لیے ان تمام شرائط سے باوصف ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ علم تفسیر کلام القران کی کیفیت، نطق کے مزاج، الفاظ کے معنی اور ان معنوں کے انفرادی اور ترکیبی زمرات اور ان کے انشقاق و تتمات سے مبحث ہوتا ہے۔ بعضے علمأ کا کہنا ہے کہ اس طرح اولین مفسر قران خود رسولﷲ صلی ﷲ علیہ و آل و سلم ہیں۔ تاہم میں اس بات سے متفق نہیں۔ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ و آل و سلم جو کچھ فرماتے تھے وہ قران کی آیات کی حقیقی توجیح اور تشریح ہوتی تھی۔کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپؐ نے انشا پردازی، تاریخ یا کسی اور خارجی ذریعے سے آیات کو سمجھایا ہو۔ کسی نے سوال کیا اور آپؐ نے فرمایا کہ اسکا یہ مطلب ہے۔ آپؐ کے علاوہ اور کوئی یہ طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔ ہم جو بھی کچھ بیان کریں گے وہ اخذ ہوگا۔ لہذا اگر کوئی اسیی حدیث بھی دستیاب ہوگی جو غیر مرسل ہوگی وہ زبان رسالت مآب صلیﷲ علہ و آل وسلم کی وجہ سے تفسیر میں شمار نہیں ہوگی اس لیے کہ وہ اخذ شدہ نہیں ہوگی، البتہ مرسل احادیث جو کسی آیت کو بیان کرتی ہو تفسیر کے ذمرے میں شامل ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اولین دور میں صحابہ نے قران کی تفسیر حدیث کے ذریعے سے کی ہے. ابتدائی دور میں قران کی آیات کی تفسیر کا یہی اصول اپنایا گیا۔ چنانچہ، "صحیفہ علویہ" (تفسیر عبدﷲ بن مسعوؓد)، "الصادقہ'' (تفسیر سعد ابن وقاصؓ) اور "تفسیر کعب" (ابی ابن کعبؓ) وغیرہ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف ہوئیں۔ اس اصول پر ہندوستان میں اسماعیل بن مالک بن دینار (متوفی ۱۰۹ ہجری) کی ایک تفسیر کا سراغ ملتا ہے۔ اسماعیل بن مالک کا مزار کولم شھر مدارس میں واقع ہے۔ ہر چند کہ یہ کتب اب ہمارے پاس نہیں ہیں تاہم دیگر کتب سے ان کا سراغ ملتا ہے۔ عموماً عربی الفاظ میں حرکات اور اعراب شامل نہیں ہوتے لیکن جب قران غیر عرب اقوام میں متعارف ہوا تو اس کے عمومی تلفظ کے لیے بھی الفاظ پر حرکات اور اعراب کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اعراب لگانے کا عمل، فاروقیؓ دور سے شروع ہوکر کم و بیش مامونی دور تک جاری رہا ہے۔ اسی دوران عربی زبان اور عرب مسلمانوں کو غیر عربی الہامی مذاہب اور غیر عرب مذاہب اور زبان و ادب سے واسطہ پڑا۔ اس دور میں بڑے بڑے جید علما، جن میں خود امام شافعی بھی شامل ہیں، عربی الفاظ اور ان کی حرکات و اعراب پر بیش قیمت تحریرں لکھتے رہے۔ چنانچہ اسی دوران علم کلام نے خوب ترقی کی اور مذہب کی دانش کدائی نے زبان پر بہت زیادہ انحصار کیا۔ چنانچہ عربی زبان کی لغات تیار ہوئیں۔ واضع رہے کہ عربی کی لغات کی ضرورت غیر عرب کو تھی لہذا یہ لغات بھی انہوں نے ہی تیار کیں۔ اس طرح تفسیر میں علم الحدیث کے ساتھ علم الکلام بھی شامل ہوگیا۔ علم الکام کو سامنے رکھتے ہوئے اس دور میں دو بڑی اور مستند تفاسیر بھی تحریرہوئِں، فغرالدین رازی کی "تفسیر رازی" اور محمود بن عمر زمخشری کی "تفسیر زمخشری"۔ ظاہر ہے کہ اس وقت کے علمأ نے ان تفاسیر پر بہت اعتراض کیا تاہم یہ سفر رکا نہیں۔ ہندوستان میں ایسی پہلی تفسیر، "تفسیر تلبینی" (عبدﷲ بن ﷲ داد تلبینی متوفی ۹۲۳ہجری) کہی جاتی ہے مولانا عبدﷲ ملتان شھرکے جوار تلبینہ کر رہاھئشی تھے۔۔ تفسیر کے ساتھ دوسرا جو پڑا علمی کام ہوا وہ قران کا "حاشیہ" ہے۔ وہ علمأ جو شروع میں تفسیر کے قائل نہیں تھے انہوں نے قران پر حاشیہ لکھنا شروع کیا۔ پہلا حاشیہ جو تاریخ میں ہمیں ملتا ہے وہ "تفسیر بیضاوی" ( قاضی ابی سعید عبدﷲ بن عمر بیضاوی کی تفسیر مرتبہ ۶۸۵ہجری) پر لکھا گیا، "حاشیہ صائع" ( شیخ ابی بکر احمد بن صائع مرتبہ ۷۱۴ ہجری) ہے۔ ہندوستان میں پہلا حاشیہ ۶۹۸ ہجری میں شیخ وجیہ الدین گجراتی نے لکھا ہے حاشیے کے ساتھ قران کا دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ غیر عرب افراد کے لیے عربی سیکھنے سے زیادہ آسان یہ تھا کہ قران کا ترجمہ کرلیا جائے۔ چنانچہ علمأ نے قران کا ترجمہ کیا۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم علمی کام تھا تاہم ان زمانوں کے علمأ نے شروع میں تراجم کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ اسے اچھا بھی نہیں سمجھا۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ قران کا سب سے پہلا ترجمہ فارسی زبان میں ہوا۔ یہ ترجمہ حضرت سلمان فارسیؓ نے سورۃ الفاتحہ کا کیا تھا۔ مکمل قران کا سب سے پہلا مستند ترجمہ سندھی زبان میں قدیم سندھ کے علاقہ الور کے ایک راجہ "مہروک" کی درخواست پر خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بیٹے عبدﷲ بن عمر نے کرایا۔ بدقسمتی سے اس مترجم کا نام پتہ نہیں البتہ سندھی زبان میں دوسرا ترجمہ ابو معشر نجیع بن عبدالرحمن نے کیا ہے۔ وہ ۱۷۰ ہجری میں فوت ہوئے۔ ۱۲۸۵ میں والیہ بھوپال نواب سکندر بیگم نے شیخ احمد داغستانی سے ہندوستان میں قران کا عربی سے ترکی زبان میں ترجمہ کرایا۔ بھوپال ہی کی ایک اور والیہ نواب شاہجہاں بیگم نے مولانا جمال الدین سے قران کا پشتو ترجمہ کروایا۔ ۱۹۳۰ میں نواب دکن میر عثمان خان نے نومسلم یورپی محمد پیکٹل سے انگریزی میں ترجمہ کروایا۔ تاہم یہ انگریزی کا پہلا ترجمہ نہیں ہے البتہ یہ مسلم عقیدے کے اعتبار سے پہلا ترجمہ تھا۔ ۱۷۳۴ میں عیسائی راہب الیگزینڈر روس نے انگلستان کے بادشاہ چارلس اول کے کہنے پر قران کا فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ براہ راست عربی سے انگریزی میں ترجمہ پادری جان رھاڈویل نے ۱۸۶۱ میں کیا۔ الیگزینڈر روس نے فرانسیسی سے قرانی ترجمہ آندرے ڈی رائیر کے ترجمے سے کیا تھا جو ۱۷۳۴ میں بذات خود قران کے لاطینی ترجمے کو سامنے رکھ کر کیا گیا تھا۔ یہ لاطینی ترجمہ براہ راست عربی زبان سے۱۱۴۳ میں لاطینی میں منتقل ہوا تھا۔ تاہم لاطینی کا یہ ترجمہ رابریٹس کیٹی نینسیس نے عیسائی لاٹ پادری پیٹر ، ایبٹ آف کلوینی کے کہنے پر" اسلام: ایک جھوٹا مذہب" کے نام سے لکھا تھا اور اس کی سب سے پڑی دلیل اس مذہب کی زبان لاطینی نہ ہونا تھا کیونکہ کلیسا کے بقول خدا کی زبان لاطینی تھی۔ اس کی دوسری اشاعت ۱۵۴۳ میں شائع ہوئی ۔اس اشاعت پر مارٹن لوتھر نے تفصیلی پیش لفظ لکھے ہیں۔ دیگر یورپی زبانوں میں اسی ترجمے کو سامنے رکھ کر تراجم تیار ہوئے۔ لاطینی زبان کا یہ ترجمہ چونکہ اسلام کو غلط ثابت کرنے کیے لیے تھا اس لیے اس میں زبان کا بامحاورہ ترجمہ کرنے کے لیے غلط بیانی کی گئی تھی اور اس لیے اپنی دوسری اشاعت کے ساتھ ہی علمی حلقوں کی طرف سے اس پر اعراضات اٹھائے گئے۔ چنانچہ ۱۶۹۸ میں لاٹ پادری اینسینٹ یازدہم کے کہنے پر سپاینزا یونیورسٹی میں عربی کے استاد لاڈیویسو مارسینی نے "قران کے تضادات" کے نام سےایک نیا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ یہ ترجمہ بہرحال زبان کے اعتبار سے درست ہے۔ اور اس پر حاشیہ بھی لکھا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلا ترجمہ ۱۷۷۰ میں حکیم محمد شریف خان صاحب نے کیا تاہم یہ ترجمہ شائح نہیں ہوا اور قلمی نسخے کے طور پر موجود ہے۔ دوسرا ترجمہ شاہ عبدالقدر دہلوی نے ۱۷۹۶ میں کیا۔ یہ ترجمہ آج تک رائج ہے اور اس ترجمہ کو ہندوستان مِن ترجمہ کرتے ہوئے سند مانا جاتا ہے۔ تاہم اس ترجمہ اور موجودہ زمانے کے تراجم میں خاصہ فرق ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ترجمہ ملاحضہ کیجیئے۔ تفسیر، ترجمہ یا حاشیہ تینوں میں ان کے مرتبین کسی ایک خاص رجحان کے حامل رہے ہیں. یعنی وہ کسی ایک مسلک سے متاثر رہے، یا تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف کی گئیں، یا خالص حدیث کو سامنے رکھا گیا، یا خالص زبان کی بنیاد پر تالیف ہوئی. علما نے ان تمام اقسام کو درست قرار دیا ہے. امام حنبل اور ان کے متاخرین میں امام غزالی، امام ابن تیمیہ، شیخ هجر مکی، شیخ عبدالوحاب جیسے جید علما قرآن کے الفاظ کا مجازی مطلب لینے کو تیار نہیں. دوسری طرف علما اسلام کی ایک اکثریت قرآن کے مجازی مطلب استعمال کرتے ہیں. چنانچہ اگر ہم قرآن کے الفاظ کے مجازی معنی استمعال کریں تو غلط نہیں ہوگا. ظاہری مطلب یہ ہوگا کہ ہم یدالله کا مطلب اس کا اعتماد نہ سمجھیں بلکہ باقائدہ اس کا ہاتھ جانیں. یہاں اسے واضع کرنا ضروری ہے کہ ہم نے خلقتت کے موضوع کا محض قرآن سے اخذ کرنا اس وجہ سے نہیں کیا کہ ہم حدیث کے منکر ہیں، ہرگز ایسا نہیں ہے. ہم اس کے قائل ہیں کہ قرآن فہمی کے لیے حدیث ازبس ضروری ہے. تاہم ایک علمی تشنگی کی وجہ سے ہم نے محض قرآن پر انحصار کیا ہے. آجکل جو رجحانات محض قرآن پر انحصار کرنے کے ایجاد ہوچکے ہیں وہ محض ناواقفیت کی بنا پر ہیں جیسے آجکل قرآن کے محض ترجمہ پر تکیہ کیا جانے لگا ہے اور محض کوئی ایک ترجمہ سامنے رکهه کر عرق ریزی کی جانے لگی ہے. یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو غلطی کی جانب کھینچ رہا ہے. ہمارا یہ مقالہ صرف ایک علمی کام ہے جس کی تکمیل علما کی رائے کی محتاج ہے. مختصر تاریخ لغت: تفسیر کی طرح جس علم پر کام ہوا وہ لغت کی تیاری ہے. ہم اب جانتے ہیں کہ اسلام کے عربی علاقوں سے باہر آنے پر غیر عربوں کے لیے عربی زبان و بیان کی باریکیاں سمجھنا آسان نہیں تھا اور خود عربوں کے لیے بھی قرآن کے استعارے آسانی سے سمجھ نہیں آتے تھے. یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کہ ایک زبان سے متعلق ہونے کے باوجود کوئی اپنی ہی زبان کے رموز سے واقف نہ ہو. اردو کی مثال لیجیئے کتنے لوگ غالب اور میر کی شاعری کے کنائیہ کو سمجھتے ہیں یا عام گفتگو میں کتنی با محاورہ زبان بولتے ہیں اور کتنے لوگ ایسی زبان سمجھتے ہیں. ایسا ہی تب بھی تھا جب قران نازل ہوا. لوگ رسالت مآبؐ سے آ کر آیات کا مطلب پوچھا کرتے تھے. اور کبھی ایسا بهی ہوتا تها کی خود ہی کوئی مطلب اخذ کرتے تھے تو وہ غلط بہی نکل آتا، جیسےکہ جب سورہ بقرۃ کی آیت ۱۸۷ نازل ہوئی تو اس میں موجود ہدائیت، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ( کھاؤ اور پیؤ اس وقت تک کہ فجر کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے علیہدہ دکھائی دینے لگے) کو مطلب ایک صحابی عدی بن حاتم ؓ کا قصہ مشہور ہےکہ انہوں نے اپنے تکیے کے نیچےدو دھاگےسفید اور سیاہ رنگ کے رکھ لیے اور صبح جب تک ان میں امتیاز نہیں ہوجاتا تھا وہ روزہ بند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ رسولؐ خدا سے پوچھنے پر انہیں رسولؐ ﷲ نے بتایا کہ اس کو مطلب 'سواد الیل و بیاض النھار' (رات کا اندھیرا اور دن کی رشنی) ہے۔ حضرت عبدﷲ ابن عباسؓ کا کہنا ہے کہ انہیں فطر السماوات و الارض کا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا یہان تک کہ ان کے پاس دو بدو آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ انا فطر تُہا یعنی اس کے کھودنے کی ابتدا میں نے کی تھی۔ تب انہیں فطر کا مطلب سمجھ آیا۔ حضرت عمرؓ نے ایک خطاب کے دوران حاضرین سے معلوم کیا کہ سورۃ النحل کی آیت ۴۷ میں أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ (ان کے خوف پر ان کا مواخذاہ کرے) میں تَخَوُّفٍ کا کیا مطلب ہے جس پر ایک بوڑھے بدو نے اس کا مطلب 'تنقض' کے معنوں میں استعمال کرنا بتایا اور دلیل میں یہ شعر پڑھا، تخوف الرجل منھا تا مکاً قردا کما تخوف عو و النبعۃ السفن اس بات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عربی زبان کی باریکیاں خود عربوں کے لیے مشکل تھیں تو غیر عربوں کے لیے تو انہیں سمجھنا اور مشکل تھا۔ اس لیے عجمیوں نے عربی کی لغات تیار کیں۔ اس ضمن میں جس کا نام سب سے پہلے آتا ہے وہ خلیل بن احمد ہے۔ خلیل احمد نے ابو الاسود دوائلی کے اعراب و حرکات لگانے کے کام کو انتہا تک پہنچایا ہے۔ آخری ہارونی دور اور مامونی دور میں اس نے شاعری کے اوزان مقرر کیے ہیں ان اوزان سے شاعری اجتک فیضیاب ہوتی ہے۔ اس کی لغت دراصل لغت نہیں ہے بلکہ معجم ہے جو کتاب العین کے نام سے مشہور ہے۔ لغت میں الفاظ کے معنی درج ہوتے ہیں۔ عربی لغت میں لفظ کو اس کے پہلے حرف سے تلاش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے اس کے مادہ کے پہلے حرف میں تلاش کیا جاتا ہے۔ مثلاً لفظ مکان کو حرف م میں تلاش نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ حرف ک کے نیچے ملے گا اس لیے کہ مکان کا مادہ ک ن ن ہے۔ معجم حروف تہجی پر لکھی جاتی ہے جس میں اس حرف کی تاریخ، مصدر، مستشقیات، وقائع اور قرأت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔ خلیل احمد کی معجم حروف کے اعتبار سے نہیں بلکہ قرأت کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ یعنی منہ سے حروف کے مخرج کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ اس میں زبان کی نوک سے ادا ہونے والے الفاظ سے تالو، درمیان زبان، آخر زبان، حلق کا اوپری حصہ اور حلق کے کوئے سے حروف کی ادائیگی کے اعتبار سے مخرج بتائے گئےہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مشکل ہے کہ پہت سے اقوام وہ الفاظ ادا ہی نہیں کرسکتیں جو عرب استعمال کرتے تھے جیسے خود عرب پہت سے حروف ادا نہیں کرسکتے۔ لہذا بعد کی معجم محض حروف کی بنیاد پر تالیف ہوئیں ہیں۔ مشہور اور معتبر لغات اور معاجم کو گنا جائے تو ان کی تعداد بہت بن جائگی تاہم معتبر ترین لغات اور معجم میں مرتضی الزبیدی ہندی کی تاج العروس ۱۰ جلدوں میں ہے جس میں ۱۲۰ ہزار مواد ہیں اور یہ محمد بن یعقوب فیروزآبادی کی لغات قاموس المحیط کی شرح اور اضافہ ہے جس میں ۶۰ہزار مواد ہیں۔ شیخ جمال الدین ابوالفضل کی لسان العرب ہے جس میں ۸۰ ہزار مواد ہیں۔ راغب اصفہانی کی مفردات القران ہے، اسماعیل جوہری کی الصحح فی الغۃ ہے جس میں ۴۰ہزار مواد (مادہ کی جمع) مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ ابی حیان محمد بن یوسف اندلسی کی تحاف الادیب فی القران من الغریب کے نام سے پہلی مفصل لغت ہے جو عربی کے شاذ معنوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح کی اور بی لغات ہیں۔ مصطفی بن محمد خسروزادہ کی غلطات العوام ایک شاندار لغت ہے جس میں عربی زبان کے ان الفاظ کا ذخیرہ ہے جو عجم سے عربی میں شامل ہوئے ہیں نیز ان الفاظ کی نشاندہی بھی کی ہے جو عوام میں مشہور ہیں اور اغلاط پر مشتمل ہیں۔ ان کے علاوہ صرف قران پر مشتمل لغات القران ہیں جو کشاف (اصطلاحی لغت) کا کام دیتی ہیں۔ ان میں علامہ وحید الزمان کی لغات الحدیث نہایت شاندار لغت ہے ط معجم کی طرز پر ہے اور کشاف قران کو احادیث کی روشنی میں بیان کرتی ہے۔ پھر پرویز کی لغات القران ہے جو قران کا ایک شاندار معجم ہے۔ بادری لوئیس معلوف کی المنجد ایک اعلی عربی لغت ہے۔ اس کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے اور مترجم نے جہاں اس لغت کو "مسلمان'' کرنے کا دعوی کیا وہاں انہوں نے اس کے دیباچہ میں عربی لغات اور ماجعم کی ایک مختصر فہرست بھی دی ہے جس میں انہوں نے ۸۰ کتب کو درج کیا ہے۔ جناب John E. Hinton عربی اور عربی سے دیگر زبانوں کے لغات کی ایک فہرست ۱۹۹۵ میں تیار کی تھی جس میں انہوں نے کل ۳۱۳ لغات جمع کی ہیں۔ یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قران فہمی کے لیے بالخصوص اور عربی کے لیے بالعموم لغت کا استعمال ضروری ہے۔ موضوع جیسا ہم نے پہلے عرض کی کہ خلقت کے موضوع میں اشیأ کی خلقت اور انسانی خلقت کو جدا کرنا ضروری ہے۔ اس واقعہ کو اب تمام لوگ تسلیم کرچکے ہیں کہ انسان سے قبل کائنات کی تشکیل ہوچکی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کائنات کی اس تشکیل سے بھی پہلے ختمی مرتبت صلیﷲ علیہ و آلہ و سلم کی خلقت ہوئی تھی یا بعضے افراد کے مطابق انک پاک آلؑ یا کم از کم پنجتن پاکؑ کی خلقت بھی کائنات کی خلقت سے قبل ہوچکی تھی۔ ان احادیث قدسیہ کی بحث میں ملوث ہوئے بغیر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ یہ بھی مجازی خلقت کی بات ہورہی ہے اسلیے کہ رسالت مآبؐ کی یہ فرمانا کہ میںؐ اس وقت بھی نبی تھا جب آدمؑ ابھی آب وگل کی منزل میں تھے شدت سے مجاز کی تصدیق کررہی ہے اور آخری نبوؐت کی اہمیت اور ضرورت پر تاکید کررہی ہے نا کہ خلقت کی۔ چنانچہ ہم پہلے خلقت پر ثبوت پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد انسانی خلقت پر۔ اس ضمن ضمن میں مندرجہ ذیل دلائل پیش ہیں۔ مزید یہ عرض ہے کہہ ہم نے آیات اور اس کے ترجمے کو رنگوں سے امتیاز کیا ہے تکہ عمومی الفاظ اوت ان کا مطلب آسانی سے سمجھ آجائے۔ اس کے علاوہ ہمارے موضوع کے اعتبار سے جن الفاط کی تشریح مقصود تھی ان الفاظ کا مادہ، ان کے مصادر اور مستشقیات عربی زبان اور قران کی آیات کے دلائل سے پیش کردی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر میں اپنی کوتاہی اور علمی بصیرت کی کمی پر پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ مشکل کی وجہ سے آسان کو چھوڑا نہیں کرتے۔ امید ہے قارئین معذرت قبول کریں گے اور ﷲ تعالی مجھے معاف فرمائیں گے۔ خلقت ارض و سمأ؛ ۱ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿يس: ٨٢﴾ بس کرتا ہے حکم وہ جب ارادہ کسی چیز کے بارے میں تب وہ صرف کہتا ہے اس چیز سے، ہوجا، چنانچہ وہ ویسی ہوجاتی ہے مادہ: ک ن ن مصادر: كنن كنن كن الكِنُّ وصوص القائِلَة وصص بكا حشا كون لغات: کن کا مادہ ہے، ک ن ن۔ الکن، الکنتہ، الکنان ہر چیز کا خلاف یا پردہ کہا جاتا ہے۔ تاج العروس نے لکھا ہے کہ الکین وہ جگہ ہے جہاں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ الکن کی جمع اکنان اور الکنان کی جمع اکنتہ آتی ہے۔ جیسے سورۃ کہف کی آیت ۵۷ ،۰۰۰۰۰۰۰۰۰إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰{بیشک ہم نے ان کے عقلوں پرپردہ ڈال دیا ہے}یا سورۃ اسرأ ( بنی اسرائیل) کی آیت ۴۶، وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً {اور ہم نے ان کے دلوں پر بھی پردے ڈال دیئے ہیں} اور سورۃ فصلات کی آیت ۵،وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ {اور وہ کہتےہیں کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف پڑے ہیں} یا سورۃ نحل کی آیت ۸۱، وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا{ اور ہم نے تمہارے لیے پہاڑوں میں حفاظت کے پناہ گاہیں بنائیں} کنتہ، اکنتہ،کو تاج العروس نےلکھا ہے، ''اسے چھپا دیا''۔ جیسے سورۃ النمل کی آیت ۷۴، وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ {بیشک آپؐ کا ربﷻ ان باتوں کو جانتا ہے جو یہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں} واضع ہو کہ یہاں تُكِنُّ کے مقابلہ میں يُعْلِنُونَ آیا ہے جس کا مادہ علم ہےیعنی جاننا۔ اس آیت میں خدا کا جاننا اور کافروں کے جاننے کی تکرار زبان کا ایک شاہکار ہےجس کے بیان کا یہ موقع نہیں۔ مکنون کو لغات المحیط اور لطائف اللغۃ نے''حفاظت سے رکھا ہوا'' لکھا ہے۔ جیسے سورۃ الصفات کی آیت ۴۷ میں ، كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ {گویا وہ حفاظت سے رکھے ہوئے انڈے ہیں} یا جیسے قران کو کتاب مکنون میں محفوظ کہا گیا ہے۔ ملاحضہ ہو سورۃ واقعہ کی آیات۷۷ اور ۷۸ ، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ۔ واضع ہو کہ کلمہ'' کن'' ضمیر کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضمیر منصوب متصل ہے اور جمع حاضر مونث کے لی آتی ہے۔ کہتے ہیں ضربکن یعنی اس نے تم سب عورتوں کو مارا۔ جیسے سورۃ تحرین کی آیت ۵ میں آیا ہے، عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا {اگر وہؐ تمہیںؓ طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ انؐ کا ربﷻ اس کے بدلے میں انہیؐں بہتر بیویاں دے دے}بعض مرتبہ یہ کلمہ ضمیر مجرور متصل کے طور پر بھی آتا ہےجیسے سورۃ یوسف میں آیا ہے، إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ  ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ{بیشک یہ تم عورتوں کو لبھاؤ ہے اور تم عورتوں کا لبھاؤ ہوتا بھی بے پناہ ہے} لسان العرب نے لکھا؛ " الكِنُّ والكِنَّةُ والكِنَانُ: وِقاء كل شيءٍ وسِتْرُه" الکن، الکنۃ اور الکنان سب کا مطلب تمام اشیا کا پردے میں چپھا لینا ہے۔ مقائیس اللغتہ نے لکھا؛ "الكاف والنون أصلٌ واحدٌ يدلُّ على سَتْرٍ أو صون. يقال كنَنْتُ الشيءَ في كِنِّهِ، إذا جعلتَه فيه وصُنتَه" یعنی کاف اور نون بالترتیب بنانا اور ترتیب دینا ہےجیسا کہ کہا جاتا ہے کہ تم نے بنایا اور حفاظت کی۔ انشقاق: كُن --------کون----- واقعہ، حادثہ، (کائنات)، ہوجانا، بہتر تبدیلی، مکان كُن فَيَكُونُ---- امر سے شہ تک سفر، ارتقا مقصد: اس آیت میں بہت بڑے کائناتی واقعہ کی ابتدا کا ذکر کیا جارہا ہے اور اس کی ابتدا سے اس کے ارتقا اور پھر اس کی تکمیل کے سفر کا تذکرہ انتہائی مناسب اور مختصر مگر انتہائی جامع الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کی ابتدا کی کہانی محض حکم دینے اور پھر اس حکم کی تعمیل ہے۔ حکم دینے کا مطلب مقصد کی بجا آوری ہے، جو فوراً شروع ہوجاتی ہے اور ایک مقصد کی بجا آوری مسلسل جاری رہتی ہے۔ چنانچہ اس آیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا، '' اس کا حکم ہر شہ کو مشیت میں بدل دیتا ہے اوروہ شہ اپنے مقصد کی طرف گامزن ہوجاتی ہے'' ۲ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿البقرة: ١١٧﴾ موجد آسمانوں اور زمین کا اور جب طے کردیتا ہے کسی فیصلے کو تو بس کہہ دیتا ہے اس شہ کو کہ ہوجا چنانچہ وہ ہوجاتی ہے مادہ: ب د أ مصادر: بدو بدا بَدَا بدأَ بدا مثل دوا كشر نجح الخُضْرَةُ بلل خضر يجَبَى جبأ جَبَأَ لغات: صاحب المنجد نے لکھا ہے کہ مفتوح 'بدا بہہ'، 'بد'اً، وابتداً، کسی چیز کے ساتھ شروع کرنے کو کہتے ہیں۔ جس طرح کہتے ہیں بدا الشئیی یعنی اس چیز کو شروع کردیا یا اس نے پہل کی۔ کہا جاتا ہے فلان ما یبدی وما یعید یعنی وہ آدمی نہ ازخود کوئی بات کرتا ہےاورنہ کسی بات کا جوب دیتا ہے۔ لہذا 'البدی' اولین سردار کو کہا جاتا ہے۔ بدا من ارضیہ الی اخری یعنی اپنی زمین سے دوسری زمیں کی طرف نکل کھڑا ہوا، اپنا ملک چھوڑ گیا۔ تاج العروس نے لکھا ہے البدءُ یا الابداءُ کسی چیز کے غیر کو اس چیز پر مقدم کرنے کو کہتے ہیں۔ سورۃ توبہ کی آیت ۱۳ میں آیا ہے وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (انہوں نے ہی پہلی مرتبہ تمہارے ساتھ ابتدا کی ہے) مطلب پہل انکی طرف سے ہوئی ہے۔ سورۃ سبا کی آیت ۳۴ میں آیا ہے کہ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ (اعلان کردیجئے کہ حقیقت نے جھوٹ کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اب یہ واپس تبدیل نہیں ہوسکے گی) بدو (مفتوح- زبر کے ساتھ) اور مدو (مضموم-پیش کے ساتھ) کے معنی ہیں ظاہر ہونا۔ لسان العرب میں لکھا ہے وهو ظُهور الشيء یعنی کسی شہ کا ظاہر ہوجانا۔ مقائیس اللغتۃ نے لکھا یقال بدا الشيءُ يَبدُو، إذا ظَهَر، فهو بادٍ یعنی جیسے کہتے ہیں اگر وہ شہ ظاہر ہوگئی تو برا ہوگا۔ سورۃ بقرہ کی آیت ۳۳ میں تبدون (ظاہر) کے مقابلے میں تکتمون ( چھپانا) آیا ہے،وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ( میں وہ سب سمجھتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو)۔ اسی طرح اسی سورۃ کی آیت ۷۱ میں تبدو ( ظاہر) کے مقابلے میں تخفو (باہرلے آنا) وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (ﷲ نے وہ ظاہر کردیا جو تم چھپاتے تھے) سورۃ نور کی آیت ۳۱ میں آیا ہے وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ (اپنی نمائش زبردستی نہ کریں البتہ اگر غیر ارادی طور پر ایسا ہوجائے) چنانچہ بادی الرای وہ رائے ہے جو ابتدا ہی میں قائم کرلی جائے۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ بادی الرای وہ رائے ہے جو بالکل ظاہر ہو۔ سورۃ ہود کی آیت ۲۷ میں آیا ہے فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ ( چنانچہ وہ علمائے قوم جنہوں نے انکار کیا تھا کہنے لگے کہ سوائے اس کے کہ تم ہمارے جیسے آدمی ہو کیا خصوصیت ہے کہ ہم تمہاری پیشوائی مانیں بلکہ ہماری ابتدائی رائے میں تم چھوٹے دکھائی دیتے ہو۔) البدو ( صحرائی- دیہاتی)، البادیۃ ( صحرا- دیہات) ، البداوۃ (صحرائی- دیہاتی زندگی) ، صحرا کو بادیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ کھلا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ افراد جو صحرائی زندگی گذارتے ہیں یعنی دیہات میں رہتے تھے انہیں بدو کہا جاتا تھا۔ بدو یا بادیہ کسی علاقے کے مستقل رھائشی کو بھی کہتے ہیں جیسے سورۃ الحج کی آیت ۲۵ میں بدو، عاکف کے مقابلے میں آیا ہے الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ (باہر سے آنیوالے [مہمان] یا مقامی افراد۔ ابن فارس نے لکھا ہے کہ البدع ایسے کام کو کہتے ہیں جو پہلے پہل ہوا ہو اور پہلے اس کی کوئی مثال موجود نہ ہو چنانچہ البدیع وہ نئی بٹی ہوءی رسی ہوتی ہے جسے تازہ ریشے سے بنا گیا ہو۔ مفردات میں راغب نے لکھا ہے کہ رکی بدیعتہ نیا کھودا گیا کنواں ہے۔ العلم الخفاق میں نواب صدیق حس خان نے واضع کیا ہے کہ جن الفاظ میں باء کے ساتھ دال آئے ان میں ظہور اور ابتدا کا مفھوم شامل ہوتا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ الابداع کے معنی ہیں کہ کسی کی تقلید کے بغیر کسی چیز کو ازخود ظاہر کردینا۔ جیسے سورۃ احقاف کی آیت ۹ میں درج ہے مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ( میں کوئی پہلا رسول تو ہوں نہیں) انشقاق: بَدِيعُ----بدا----- يُعِيدُ-----عود--- بے اندازہ بنانا، تدبیر کرنا،پہلی دفعہ وجود میں لانا، ترقی دینا، آگے بڑھانا۔ مقصد: لہزا اس آیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا کہ، اس موجد نے بہت سارے آسمانوں اور ایک زمین کو اپنی مشیت سے ایسے ایجاد کیا کہ اس نے حکم دیا کہ ہوجا اور ہجانے کا عمل شروع ہوگیا۔ ۳ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ﴿الأنعام: ٧٩﴾ پہلی دفعہ پیدا کیے ہیں شق کرکے بہت ساری کائناتیں اور ایک زمین مادہ: ف ط ر مصادر: فطر فطر الفَطْرُ فطر طرر علا بزل عمل خلق ضب فصح خَلْفُ عدد لبن شقق لغات: تاج العروس نے لکھا ہے کہ فطر کے معنی ہیں شق کرنا۔ پہلی مرتبہ پھاڑنا۔ واضع رہے کہ پہلی مرتبہ کی خصوصیت اس کے بنیادی معنوں میں داخل ہے۔ صاحب الغات القران نے درج کیا ہے کہ ابن عباسؓ سے روائیت ہے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ فطر السماوات والارض کیا ہوتا ہے حتی کہ انکے پاس دو بدو آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ انا فطر تُہا یعنی اس کے کھودنے کی ابتدا میں نے کی تھی۔ ابن عربیؒ نے فتوحات مکیہ میں تحریر کیا ہے کہ انا اول من فطر ھذا یعنی میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس کی ابتدا کی ہے۔ چنانچہ سورۃ اسرا (بنی اسرائیل) کی آیت ۵۱ میں آیا ہے قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ( کہہ دو کہ وہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا) جیسے سورۃ انفطار کی آیت ۱ میں آیا ہے کہ إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ ( جب آسمان شق ہوجائگا) جیسے سورۃ مریم کی آیت ۹۰ میں آیا ہے تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ (کچھ بعید نہیں کہ اس وجہ سے آسمان پھٹ جائیں یا زمین شق ہوجائے) جیسے سورۃ مزمل کی آیت ۱۸ میں آیا ہے السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ (جس وجہ سے آسمان پھٹ جائگا) جیسے سورۃ ملک کی آیت ۲ میں وارد ہوا ہے هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ (کیا تم اس میں کوئی شگاف دیکھتے ہو) سورۃ روم کی آیت ۳۰ میں فرمایا ہے فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (ﷲ کی فطرت وہی ہے جس پر انسان کی فطرت ہے) یعنی اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان کی فطرت ﷲ کی فطرت پر ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔ یہاں ایک مغالطہ پیدا ہوا ہے کہ اسلام کو ایک ایسا دین سمجھا گیا ہے جو اپنے ماحول سے کوئی اثر نہیں لیتا چنانچہ اگر کسی بچے کو اپنے ماحول سے علحیدہ کردیا جائے تب بھی وہ دین فطرت یعنی اسلام پر ائے گا۔ اسی موضوع کو ثابت کرنے کے لیے علما نے کثرت سے ضغیم کتابیں تحریر کی ہیں۔ ابن طفیل کی مشہور کتاب حئی بن یقضان اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ تاہم یہ ایک مغالطہ ہے۔ آج یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اگر انسان کو کسی معاشرے کے بغیر آذاد چھوڑ دیا جائے تو محض جنگلی بنتا ہے۔ اسی بات کی تائید خود قران سے بھی ہوتی ہے۔ یعنی اگر انسان کی تربیت نہ ہو تو وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ (وہ بھلائی کی کوششوں کی بجائے شر کو آوازیں دیتا رہتا ہے) اسی سورۃ بنی اسرائیل کی اسی آیت ۱۱ کا اگلا حصہ ہے کہ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ( وہ ہر چیز میں عجلت چاہتا ہے) اسی طرح سورۃ احزاب کی آیت ۷۱ میں درج ہے کہ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (جاھلت کی حد تک ظالم واقع ہوا تھا) اور سورۃ عبس کی آیت ۸۰ میں وارد ہوا ہے کہ قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ( ہلاک ہوا انسان کہ ہر حقیقت کا انکار کرتا ہے) اور سورۃ کہف کی آیت ۵۴ میں کہا گیا وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ( انسان زیادہ تر معاملات میں چھگڑالوتھا)۔ یہ ہے حالت جب انسان کومعاشرے سے دور کردیا جائے۔ یہ جاننا چاہیے کہ حرف 'كَان' ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر انسان کی فطرت ﷲ کی فطرت پر تھی تو اسے ماضی میں بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اور آج بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آیات شریفہ جہاں اس واقعہ کی تردید کررہی ہیں کہ انسان ﷲ کی فطرت پر نہیں ہے وہاں ہمارے اس دعوی کی تصدیق بھی کرتی ہیں کہ انسان کی موجودہ شکل، جنیاتی اور تہذیبی دونوں، ارتقا کی پیداوار ہیں جو"کن" کی تومیل میں واقع ہوئی ہے اور جاری ہے۔ انشقاق: فَطَرَ-----فطرت-----فطرہ--- پھاڑنا، چیرنا، پہلی دفعہ نئی چیز وجود میں لانا۔ وسعت دینا مقصد: اس آیت میں کائناتی حادثے کی عملی شکل بتائی گئی ہے کہ ایک حکم دینے کی بجآوری میں اس وقت موجود اشیا پھٹ گئیں اور پہلی دفعہ آسمانوں اور زمیں کو ذرات کو شق کرتے ہوئے ظاہر کیا گیا۔ چنانچہ اس آیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا، آسمانوں اور زمیں کو ایکدوسرے سے شق کرکے وسعت دی گئی ہے ۴ إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ﴿ یونس: ٧﴾ بے شک وہی ہے جس نے شروع میں پیدا کیا اور پھر وہی انہیں لوٹائے گا۔ مادہ: خ ل ق۔ ب د أ مصادر: خلق؛ خلق خلق الخَلْقُ خلق ألق قال فطر جبل سبت عجل ذرأَ روح برأ سوا جدد یعید؛ عود عود العَوْدُ عود وأل وأل قال ألَّ خلل ندل عقب عجم ألا ضرا بدأَ لغات: خلق مفتوح (خ پر زبر) کے بنیادی معنی کسی چیز کو بنانے یا کاٹنےکے لیے اسے نپائی کرنا ہیں۔ یعنی اس چیز کا اندازہ لگانا۔ صاحب لغات القران کا کہنا ہے کہ قدر کا بھی یہی معنی ہیں یا کسی چیز کے توازن اور تناسب کو دیکھنا یا کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے مطابق بنانا۔ تاج العروس اور لین الغات نے کسی چیز کو نرم اور ہموار بنانا لکھا ہے۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ 'خلق الادیم'کچھ بنانے کی لیے چمڑے کی پیمائش کا اندازہ لگانا ہے یعنی کسی ایک چیز سے دوسری چیز کا بنانا ہوتا ہے۔ محیط نے قاموس میں لکھا ہے کہ 'رجل تام الخلق' (خلق کی ق مکسور ہے۔ ق پر زیر) اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی جسمانی ساخت میں اعتدال ہو۔ صاحب لغات القران نے لکھا ہے کہ خلیق اسی معنی میں آتا ہے۔ چنانچہ خلقۃ کے معنی ہیں چکنا پن، ہمواری یا برابر ہونا۔ لسان العرب نے لکھا ہے کہ اس کے معنی کسی چیز کا بے شگاف اور ہموار ہونا ہیں۔ ابن فارس نے اس کے دو لوازم درج کیے ہیں، ایک کسی چیز کا مکمل اندازہ کرنا اور دوسرے کسی چیز کے استعمال کے بعد اس کا ہموار اور چکنا ہوجانا۔ یعنی ہمواری اور چکنا پن اس کی بنیادی خصوصیت نہیں ہے۔ اس لیے پرانی اور استعمال شدہ چیز کو خلق کہتے ہیں کیونکہ وہ کثرت استعمال سے گھس کر سپاٹ ہوجاتی ہے۔ بقول ابن فارس المخق وہ تیر ہوتا ہے جسے درست کردیا جائے یعنی اس کو سدھار دیا جائے تکہ نشانہ صحیح بیٹھے۔ محیط نے لکھا کہ اس کا مطلب مکمل شدہ ہوگا۔ غریب القران میں ابوالفضل نے اسکے معنی پرانے رسم و رواج کے لیے ہیں جیسے سورۃ شعرا کی آیت ۱۳۷ میں آیا ہےکہ إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (یہ گزشتہ لوگوں کی پرانی عادت ہے)۔ تاج العروس نے خلق ( خائے مضموم ہے۔ خ پر پیش) کا مفہوم کسی کی طبیعی حالت یعنی کہنگی کا لیا ہے جیسے سورۃ آل عمران کی آیت ۷۶ میں ہے کہ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ ( آخرت میں انکا کوئی حصہ نہیں)۔ خلاق کے معنی ہیں اندازے سے مقرر کیا ہوا جیسے سورۃ ص کی آیت ۷ میں آیا، إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ (یہ تو اندازوں کے سوا کچھ نہیں)۔ صحاح الغات نے غریب القران کے حوالے سے لکھا ہے کہ خلاق کا مطلب ٹھیک اندازہ لگانا ہے جیسے سورۃ اعراف کی آیت ۵۴، أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ( اندازہ اور اس کا حکم صرف ﷲ ہی دیتا ہے) سورۃ یسن کی آیت ۸۱ میں آیا بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ہاں وہی اپنے اندازوں کو خوب جانتا ہے۔ سورۃ حاشر کی آیت ۲۴ میں ہے هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ (ﷲ وہ ہے جو چیزوں میں اپنے اندازوں کو نافذ کرتا ہے)۔ اس لیے جناب رسالت مآبؐ سے سورۃ القم کی آیت ۴ میں فرمایا، وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (اور بےشک آپ انداز اور تناسب کا عظیم مرکب ہیں)۔ یعید، عود سے ہے۔ عود کا بنیادی مطلب ہے لوٹنا یا کسی کام کو بار بار کرنے کو کہتے ہیں تاہم راغب اور زمخشری کو بقول یہ لفظ محض ابتداً کسی کام کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ محیط نے قاموس میں اس کی تائید میں سورۃ اعراف کی آیت ۸۹ میں حضرت شعیبؑ کا قول نقل کیا ہے قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ( اس طرح تو ظاہر ہے کہ ہم ﷲ پر بہتان باندھیں گے کہ ہم تمہارے مذہب میں پلٹ جائیں جبکہ ﷲ نے ہمیں وہاں سے نجات دے دی ہے ہاں اگر ﷲ کی مشیت یہ ہو کہ ہم واپس پلٹ جا ئیں تو وہ ہمارا پروردگار ہے۔) تاہم تاج العروس نے یہ دلیل اس بنا پر تسلیم نہیں کی کہ چونکہ حضرت شعیبؑ پہلے بھی قوم عاد کے مسلک پر نہیں تھے اس لیے یہ لوٹ کر جانا نہیں ہے بلکہ پہلی بار شامل ہونا ہے، یعنی اس آیت شریفہ کامطلب ہوگا کہ ہم تمہارے مسلک کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ لیکن صاحب الغات القران نے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس آیت شریفہ میں جمع تثلیث کا صیغہ استعمال ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جواب حضرت شعیبؑ کےسابقہ کافر ساتھیوں کی جانب سے دیا گیا ہے نہ کہ خود حضرت شعیبؑ کی جانب سے البتہ اس جواب کو قران نے منسوب آپ حضرتؑ سے ہی کیا ہے لہذا زمخشری اور راغب کی تصدیق ہوتی ہے۔ محمد مرتضی الزبیدی نے تاج العروس میں یہ بھی لکھا ہے کہ عاد کے بنیادی معنی ویسے تو پلٹنے کے ہی ہیں لیکن بعد میں صار کے معنوں میں بولا جانے لگا۔ { صار کا مادہ ہے ص ر ر۔ الصح فی الغۃ نے لکھا ہے کہ ہذا الشدةُ مِن كرْبٍ وغيره۔ یعنی اس کے معنی میں سختی سے قائم رہنا بھی شامل ہے اور سردی سے جمنا بھی: چونکہ یہ لفظ ہمارا موضوع نہیں اس لیے ہم اس سے اکتفا کرتے ہیں} سورۃ مجادلہ کی آیت ۳ میں ہے ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا (پھر وہ اپنی کہی ہوئی واپس لے لیں) عائد لوٹ جانے والے کو کہتے ہیں جس کی جمع عائدون ہے جیسے سورۃ دخان کی آیت ۱۵ میں ارشاد ۃ ہوا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ( تم لازماً واپس پلٹ جاؤ گے)۔ تاج اور محیط نے اسے 'انجام کار منزل مقصود تک پہنچنا' بھی لکھا ہے جیسے سور قصص کی آیت ۸۵ میں آیا لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ (وہ آپؐ کو منزل مقصود تک پہنچا دے گا)۔ چنانچہ سورۃ البروج کی آیت ۱۳ میں إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ ( وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور ارتقا دیتا ہے)- انشقاق: خَلْقَ-----خلق-----بنانا، کاٹنا، نرم و ہموار کرنا، اندازہ لگانا، متوازن کرنا، ایک چیز کو دوسری چیز سے بنانا يُعِيدُ-----عود---- واپسی-- پلٹانا، گردش دینا، پہلی حالت کی طرف آنا، تکرار، ارتقا، کجھور کی پتلی شاخ۔ مقصد: ان آیات کی روشنی میں یعید کا مطلب تکرار نہیں بلکہ ارتقا ہے۔ اس لحاظ سے چیزوں کو مختلف مراحل سے گذار کر اسکی ابتدا سے آخری نقطہ تکمیل تک لے جانا ہے۔ صاحب الغات القران نے ایسا کرنے والے کو رب لکھا ہے اور اس عمل کو ربوبیت۔ چنانچہ اس آیت شرہفہ کا مطلب ہوگا کہ پوری قوت اور تدبیر سے نکتہ کمال تک پہنچانا اس لیے اس کا ترجمہ ہوگا کہ؛ بیشک وہی ہےجس نےتوازن سے ایجاد کیا اور اس کے بعد وہی انہیں ارتقا بخشتا ہے ۵ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ﴿ق: ٣٨﴾ یعقیناً ہم نے توازن بخشا آسمانوں کو اور زمین کو اور سبھوں کو جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دنوں میں اور ہمیں نہیں ہوئی تھکن مادہ: ی و م؛ م س س؛ ل غ ب مصادر: یوم يوم يوم اليَوْمُ ألّ يومٌ يَوْمٌ و غبب خمس قرر منذ ليل سبت نفر خرج مس مسس مسس مسس مس حجر ذمر لمس خبأ حجم حسا لغب لغب لغب لَغَبَ لغب زري ظهر ذرب رصف نقل برح لأم نقل وغب غبب وغب غبب وغب الوَغْبُ الغِبُّ وغب لغات: یوم کولسان العرب نے لکھا کہ معروفٌ مِقدارُه من طلوع الشمس إِلى غروبها، والجمع أَيّامٌ یعنی عام طور پر سورج نکلنے سے غروب ہونے کے وقت کو ایک دن کہا جاتا ہے اور اس کی جمع ایام ہے۔ پرویز نےلغات القران نے لکھا ہے کہ یوم ایک خاص مدت کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور صبح شام کی گردش یوم کہلاتی ہے جیسے سورۃ آل عمران کی آیت ۱۳۹ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( یہ وہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں)۔ یعنی ایک دن، ایک سال، ایک صدی، پچاس ہزار سال سب کے لیے یوم کہا جاتا ہے جیسے سورۃ سجدہ کی آیت ۵ میں آیا يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ (وہ دن تھے ہزار سال کے برابر) ابن فارس نے کہا کہ کسی اہم واقعہ (امر عظیم) کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ محیط نے تائید میں لکھا کہ چند اہم واقعات کی لڑی کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے کہتے ہیں'ایام العرب' یا جیسے سورۃ ابراہیم کی آیت ۵ میں وارد ہوا وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ (اور انہیں ﷲ کے دن یاد دلاؤ)۔ تاج العروس نے کہا ہے کہ آخری نتیجہ اور خاص حالت کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے سورۃ انفطار کی آیت ۱۹ میں آیا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ ( اس دن صرف حکم ﷲ کا چلے گا) بقول تاج العروس اس خاص دن کی مناسبت سے اعمال کی جزا و سزا ملے گی اس لیے یوم جزا و سزا کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے سورۃ الفاتحہ کی آیت ۳ میں وارد ہوا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ( وہ جزا وسزا کا مالک ہے) مس کا بنیادی مطلب ہی کسی چیز کو چھونا ہے۔ تاج اور راغب نے کسی چیز تک پہنچنے کو لکھا ہے۔ راغب نے لمس اور مس میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ لمس تلاش کرنے اور ٹٹولنے کو بھی کہتے ہیں البتہ اس میں اس چیز کا واقعتاً مل جانا شرط نہیں ہے تاہم مس کے ذریعے جسی ادراک ہونا شرط ہے۔ لسان العرب نے کہا ہے کہ کہکسی چیز کے ابتدائِ اثر کو بھی مس کہتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے وجد فلان مس الحمی یعنی اسے بخار محسوس ہوا۔ نیز ابن فارس نے کہا کہ ہر آنیوالی دقت اور اذیت کو بھی مس سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے بولتے ہیں لم یجد مسا من النصب۔ النماس ایک دوسرے کے جسم کو چھونے کو کہتے ہیں اور اس وجہ سے کنایا میں مجامعت کرنے کے لیے بولا جات ہے جیسے طہار کے ضمن میں سورۃ مجادلہ میں آیا مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ( اس سے پہلے کہ وہ حق مجامعت کریں) اور جیسے سورۃ البقرہ کی آیت ۲۳۶ میں وارد ہوا إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ ( اگر تم نے اپنی بیویوں کو مجامعت سے پہلے طلاق دے دی) تاج العروس نے لکھا ہے کہ یہ ہاتھ سے چھونے کے لیے بولا جاتا ہے۔ جیسے سورہ طہ کی آیت ۹۷ میں کہا ہے،أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ( تو یہ کہتا رہے مجھے نہ چھونا) سید مرتضی زبیدی نے تاج میں اسی آیت کے ضمن میں فیروز آبادی کی قاموس المحیط کے حوالے سے لمس اور مس میں تخصیص کی ہے۔ محیط میں لکھا ہے کہ لمس صرف ہاتھ سے چھونا ہے جبکہ مس عام ہے یعنی ہاتھ یا بدن کے کسی حصے سے چھونا جیسے سورہ ص کی آیت ۳۳ میں فَطَفِقَ مَسْحًا (وہ لگے ہاتھ پھیرنے) یا جیسے سورۃ المائدہ کی آیت ۶ میں آیا وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (مس کرلو اپنے سروں کو اور پیروں کو ٹخنوں تک)۔ علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ مس کرنا ہاتھ سے چھونے تک محدود نہیں ہے بلکہ ادراک سے چھولینا بھی مس کرنا ہے جیسے سورۃ الواقعہ کی آیات ۷۷-۷۹ میں درج ہے، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (یہ قران کریم ہے جو کتاب مکنون ہے اس کے معنی صاف ذہن ہی سمجھ سکتے ہیں) لغب، لغبا، لغوبا پہت زیادہ تھکن کو کہتے ہیں۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں النصب اور الغوب میں امتیاز کیا ہے۔ النصب جسمانی تھکن کو کہا ہے اور الغوب زہنی تھکن کو جیسے سورہ فاطر کی آیت ۳۵ میں کہا گیا ہے لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ ( نہ اس میں کوئی مشقت ہے نہ ہی کوئی تھکن)۔ انسان تھک کر پریشان ہوجاتا ہے اس لیے ضمن میں میں بیوقوف انسان کو بھی کہتے ہیں۔ محیط نے لکھا ہے جیسے بولتے ہیں اتانا ساغبا لاغبا یعنی وہ ہمارے پاس پہنچا تو تھکا ہوا ور بھوکا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک بدو نے کہا فلان لغوب احمق جاءتہ کتابی فاحتقرۃ یعنی وہ آدمی بڑا ہی احمق ہے اور دور اندیش نہیں ہے کہ اس نے میری تحریر کو اہمیت نہیں دی۔ محیط نے کہا کہ یہاں لغوب کا مطلب کمزور رائے کا حامل ہونا ہے۔ سھم الغب ایسے تیر کا لہتے ہیں جو درست ترشا ہوا نہ ہو۔ علامہ وحید الزمان نے لغات الحدیث میں درج کیا ہے اھدی الیہ صلی ﷲ علیہ و سلم سلاح فیہ سھم لغب یعنی جناب مآبؐ کو ایسا تیر ہدیہ کیا جوترشا ہوا نہیں تھا۔ یکسوم کے بھائی اشرم نے کچھ ہتھیار تحفے میں بھیجے تھے جن میں سے ایک تیر درست ترشا ہوا نہیں تھا اس کے بعد سے یہ طعنہ بن گیا۔ انشقاق: أَيَّامٍ-----یوم---- دن، دن اور رات، مدت، خاص وقت مَسَّنَا-----مسس----لمس ، چھونا، ٹٹولنا، اثر، احساس لُّغُوبٍ-----لغب---- تھکن، درماندگی، مشقت، تسلسل، عبث، بےکار، بےتکی۔ مقصد: یہ آیت واضع طور پر بتا رہی ہے کہ خلقت کا مرحلہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے اور اس زمیں اور آسمانوں کی تکمیل کو ایک مدت درکار ہوئی ہے۔ جس میں آسمان اور زمین اور ان سے متعلق تمام چیزوں کو ایک مدت میں تیار کیا گیا ہے اور یہ مدت ہمارے چھ دن نہیں ہیں بلکہ ایک دن کو ایک مرحلہ کہا گیا ہے۔ لہذا اس آیت کتیمہ کا ترجمہ کچھ یوں ہے؛ ظاہر ہے کہ ہم نے ان کائناتوں اور اس ایک زمین کو اور جو کچھ ان کائناتوں اور زمین کے کیے ضروری تھا انہیں چھ مختلف مرحلوں میں متوازن کیا ہے اور یہ تمام کا تمام لغو اور بےکار نہیں ہے ۶ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ﴿البقرة: ٢٩﴾ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہاری خاطروہ کچھ جو زمین میں ہےسب پھر توجہ کی آسمان کی جانب اور استوار کر دیئے سات آسمان۔ مصادر: ارض أرض رضرض رض سماوات سما سما سَمَا أسس منن درر سمو استوی سوا سوا خلق حتن خلق عمم طبق لهله خلق الدَّكُّ الخَلْقُ جبن حفز بلق صرح انشقاق: ارض--- رض--- زمین۔-- نیچا ہونا۔ فرش، بچھونا۔ پھیلانا سماوات----سماء---سمو--- آسمان، اونچا ہونا، اوپر، بالائی سائیہ، بلندی، چڑھائی۔ استوی--- استوا--- سیدھا، درمیان،برابری،تناسب، تسلسل، جڑا رہنا۔ لغات: ارض تاج نے لکھا ہے کہ ہر وہ چیز جو نیچے ہو ارض کہلاتی ہے چنانچہ ارض النعل جوتے کے تلے کو کہتے ہیں۔ لین الغات نے لکھا ہے کہ چونکہ گھٹنوں سے نیچے ٹانگوں کا حصہ ارض کہلاتا ہے اس لیے زمیں کو ارض کہا جاتا ہے کہ وہ پاؤں کے نیچے رہتی ہے۔ تاج نے کہا ہے کہ چونکہ زمین سے سامان خوراک حاصل ہوتا ہے اور انسان خوشحال اور شادمان رہتا ہے اس لیے الاراضۃ خوشحالی اور شادمانی کوکہتے ہیں جیسے سورہ اعراف کی آیت ۱۰ میں آیا ہے کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ(اور ترتیب دیئے ہم نے اس میں تمہارے لیے اسباب معیشت)۔ راغب نے لکھا کہ اس لیے ارضت الارض پیداواری زمین کو کہا جاتا ہے۔ فراوانی اور خوشحالی کی نسبت سے بکری کے موٹے بچے کو جدی اریض کہا جاتا ہے۔زمین میں رہنے کی نسبت سے الارضُ دیمک کو کہا جاتا ہے۔ مفردات میں راغب نے کہا کہ منکسرالمزاج شخص کو بھی اِراضۃ کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ دوسروں کے مقابل نیچا ہوجاتا ہے جیسےقران میں ارض جبل کے تقابل میں بھی آیا ہےجہاں جبال معاشرے کے طاقتور اور ارض کمزور طبقات کو کہا گیا ہے ملاحضہ ہوسورۃالکہف کی آیت ۴۷،وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً(جس دن پہاڑ ہٹا دیئے جائیں گے اور زمین ہموار ہوجائے گی) پرویز نے لغات القران میں لکھا ہے کہ سیاق و سباق سے سموات و الارض معاشرے کی ناہمواریوں سے مراد بھی ہے۔ سماوات جمع ہے سماء کی جس کا مادہ ہے سمو۔ یہ ارض کے تقابل میں بولا جاتا ہے۔ اور زمین کے اوپر ہونے کی وجہ سے آسمان کہلاتا ہے۔ فقہ اللغۃ میں آسمان کی تعریف کی گئی ہے کہ ہر وہ چیزجو ہمارے اوپر چھائی ہوئی ہو یا سائیہ کرتی ہو سماء کہلاتی ہے۔ جبکہ راغب نے کہا کہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی نچلی سطح کی نسبت ہر بلند چیز سماء اور بلندی کی نسبت سے ہر نشیبی چیز ارض کہلائے گی اس لیے بارش کو سماء کہتے ہیں جیسے سورہ نوح کی آیت ۱۱ میں وارد ہوا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿وہ تم پرمسلسل بارش بھیجے گا) تاج نے ابن قتیبہ کے حوالے سے لکھا ہے بودے اور سبزے کو بھی سماء اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زمین سے بلند ہوتے ہیں۔ چنانچہ گھر کی چھت بھی سماء کہلاتی ہے چنانچہ سورۃ الانبیأ کی آیت ۳۲ میں آیا وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا (اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا)۔ سماوات کائنات کے لیے بھی بولا جاتا ہے طاہر القادری نےسماوات کا ترجمہ کائنات کیا ہے جیسے سورہ الذاریات کی آیت ۴۷ میں آیا ہے وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ( ہم نے اس کائنات کو نہایت مربوط بنایا ہے جسے ہم وسعت دیتے جارہے ہیں) استوی کہتے ہیں کسی چیز کا اپنی ذات میں پورے اعتدال پر ہونا۔ تاج نے لکھا ہے کہ کسی چیز کا اپنی نشو و نما کے کمال تک پہنچنا استوا کہلاتا ہے۔ ابن فارس کے بقول اس کے بنیادی معنی استقامت اور پائداری کے ہیں۔ لہذا استوی الرجل جوان آدمی لے لیے آتا ہے جو اپنے شباب پر ہو جیسے سورۃالقصص کی آیت ۱۴ میں آیا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ( جب وہ جوانی کی حداعتدال پر آگئے) محیط نے کہا ہے کہ مظبوطی سے جم جانے کو بھی استوی کہتے ہیں جیسے سورہ الفتح کی آیت ۲۹ میں وارد ہوا فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ ( پہلے وہ گدرائی اور پھر مظبوطی سے سیدھی کھڑی ہوئی) صاحب لغات القران نے لکھا ہے کہ کسی چیز کے ہر اعتبار سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو اور ٹھیک ٹھیک تناسب رکھتی ہو استوی کہلاتی ہے جیسے سورہ طہ کی آیت ۱۳۵ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَىٰ ( پس تم جان لو گےکہ کون رہ راست والے ہیں اور کون ہدائیت یافتہ ہیں) لہذاتاج نے لکھا ہے کہ رجل سوی ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو جسمانی لحاظ سے متناسب اعضا رکھتا ہو اور نیک کردار بھی ہو جیسے سورہ نجم کی آیت ۶ میں کہا فَاسْتَوَىٰ (کمال خلقت) زیر نظر آیت میں فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ کے لیے راغب نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب ہے حکمت کے تقاضوں کے مطابق بنایا۔ تاج اور محیط نے اس کی تاءید کی ہے جیسے سورہ انفطار کی آیت ۷ میں آیا ہے خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ( تجھے پیدا کیا، سیدھا کیا اور تناسب دیا) مقصد: ان توضیحات کے بعد یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ کائنات کی تخلیق کے آخری مراحل میں ان امور کا ذکر کیا جارہا ہے جو زمین اور آسمان کی تخلیق کے آخری اور حیات کی ابتدائی مراحل کے لیے ضروری تھے۔ اس آیت شریفہ میں یہ بات خوب واضع ہوچکی ہے کہ انسان کی موجودگی صرف اس ایک زمین پر ہی بنائی گئی ہے اور اس لیے غور کرنے سے علم ہوتا ہے کہ زمین کے لیے ہمیشہ واحد کا صیغہ استعمال ہوا ہے جبکہ سماوات کے لیے ہمیشہ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں بھی زمین اور اس کے ساتھ واضع طور پر سات آسمانوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آسمان حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتا۔ جس نیلگوں چیز کو ہم دیکھتے ہیں وہ ہوا کا ایک غلاف ہے اگر یہ سمجھا جائے کہ ہوا کے اس غلاف کو قران آسمان کا نام دے رہا ہے اور اس غلاف کی سات پرتیں یا تحیحں ہیں تا یہ ایک خلاف حقیقیت بات ہوگی اس لیے کہ علم جغرافیہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہوا زمین کے کرؤں میں شامل ہے۔ یعنی زمین کے سطح کے مطابق کہیں ہوا کا غلاف کئی تحیحں رکھتا ہے اور کہیں بہت مہین ہے اور کہیں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان تحوں کی سطح تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جو چیز مسلسل موجود ہے اور اس میں وسعت ہورہی ہے وہ کائناتیں ہیں۔ ہم اب تک اپنی موجودہ کائنات کا مکمل علم نہیں رکھتے اور اس میں نئی نئی معلومات کا اضافہ کررہے ہیں۔ یہاں کائنات، کہکشاں اور نظام شمسی کے فرق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ لہذا اس آئیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا؛ اسی نے تمہارے لیے زمین میں وسائل پیدا کیے لہذا اس کے ساتھ لگاتار سات کائناتوں کو تشکیل دیا ۷ -- خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ-- وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ ﴿فصلت: ۹-۱۰﴾ ---خلق کی زمین دو دنوں میں---- اور بنائے اس کے اندر پہاڑ نہ ہلنے والے اور رکھ دی برکت ان میں اور ٹہرا دیا ان میں سامان خوراک مزید چار دن میں مادہ: ی و م؛ ر ب ع؛ ج ع ل؛ ق د ر مصادر: یوم يوم يوم اليَوْمُ ألّ يومٌ يَوْمٌ اربعۃ ربع ربع الرَّبْعُ ربع جعل جعل جعل جعل جَعَلَهُ مثل دكك شرك أزا نصب انف قبر زرر كفف فتق ضع لغات: یوم کے بارے میں بحث ذکر کی جاچکی ہے۔ اربعۃ ابن فارس نے کہا ہےکہ اس کے بنیادی معنی ہیں کسی چیز پر قائم رہنا۔ مقائیس الغۃ میں لکھا ہے کہ کسی چیز کو اپنی سطح سے اوپر اٹھانا ہے۔ عمومی طور سےیہ چار کے عدد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اربعۃ مذکر کے عدد کے کیے آتا ہے جیسے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۰ میں ایا ہے، فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ(چنانچہ تم چار پرندے پکڑ لو)اور اربع مونث کے لیے آتا ہےجیسے سورہ نور کی آیت ۶ اور ۸ میں آیا ہے، أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ (چار کی گواہی)چالیس کےعدد کے لیے بھی آیا ہے جیسےسورۃ البقرہ کی آیت ۵۱، أَرْبَعِينَ لَيْلَةً (چالیس راتوں کے لیے) یا ایک چوتھائی کے لیے جیسے سورۃ النساء کی آیے ۱۲میں الرُّبُعُ مِمَّا (اس کا ایک چوتھائی) اورآیت۳ میں عدد کی تکرار کے لیے وَرُبَاعَ(اورچار چار) یا سورہ الکہاف کی آیت۲۲ رَّابِعُهُمْ (ان میں کا چوتھا) جعل ایک وسیع معنی لفظ ہے اور اس کے بہت سے مطالب اخذ کیے جاتے ہیں۔ یہ معنی اس لفظ کے استعمال اور سیاق و سباق کے مطابق اخذ ہوتے ہیں۔ تاہم راغب کے مطابق یہ ہر کام کے کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ تاج العروس نے جَعَلَ کو فَعَلَ (اس نے کیا) اور صَنَعَ (اس نے بنایا) سے فرق کیا ہے۔ فعل کسی ایسے کام کے لیے بولا جاتا ہے جو زمانےکا پابند ہوتا ہے جبکہ جعل میں زمانہ لازمی شامل نہیں ہوتا۔جیسے سورۃالبقرہ کی آیت ۳۰ میں وارد ہوا وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (جب آپ کے رب نے فرشتوں کو بتایا کہ میں زمین پر خلیفہ بنانے والا ہوں) یا جیسے اسی سورت کی ۱۲۴ آیت میں ارشاد ہوا إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا (میں تمہیں انسانوں کا امام بناتا ہوں) صنع محض کسی چیز کو کسی چیز میں ڈھالنے کے لیے بولا جاتا ہے جبکہ جعل میں صورت گری کے علاوہ مجاز اور استعارہ بھی شامل ہے جیسے سورہ مریم کی آیت ۳۰ میں کہا وَ جَعَلَنِي نَبِيًّا (اور مجھے نبی بنایا) جبکہ اسی سورت کی آیات ۳۱ اور ۳۲ میں بالرتیب کہا وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا(مجھے مبارک بنایا) اوروَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (اور مجھے نہیں بنایا جابر اور شقی) غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آیت ۳۰ میں جعل، صنع کے معنوں میں استعمال ہورہا ہے یا علماء کی بحث کے مطابق انزال اور قام کے معنوں میں استعمال ہورہا ہے۔ جبکہ دیگر آیات میں فعل کے معنوں میں جیسے سورہ انعام کی پہلی آیت میں فرمایا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ( آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا) یہاں خلق اور جعل جدا کیے ہیں یعنی جعل، خلق سے جدا کوئی اور عمل ہے۔ ایک نکتہ قابل غور ہے کہ یہاں رب العزت نے اپنے لیے فعل کا لفظ استعمال نہیں کیا جو زمانے کا پابند ہے حالانکہ سورۃالفیل کی پہلی ایت میں فرمایا أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے کیسا فعل کیا) اورجبکہ اسی سورت کی دوسری آیت میں فرمایا أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ (کیا انکی تدبیروں کی تذلیل نہیں کردی) چنانچہ جعل کے ساتھ فی آنے سے ایک چیز کو دوسری سے تقابل کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت ۱۹ میں وارد ہوا يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم ( وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں)۔ ذکر سوفٹ وئیر کے مطابق جعل ۳۶۰ آیات میں ۳۴۰ مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ قدر انشقاق: يَوْمَيْنِ----یومین----- دو دن رْبَعَةِ----ربع ---- چار دن جَعَلَ----- جعل--- بنانا، اختیار دینا، شکل دینا، گھڑنا، ترتیب دینا مقصد: اس جگہ خلق اور جعل ایک ہی آیت میں استعمال ہوا ہے جو بجائے خود اس مطلب کو واضع کرتا ہے کہ خق اور جعل دو جدا عمل ہیں۔ اس آیت میں واضع ہورہا ہے کہ خلق ایک مسلسل اور ارتقا کا عمل ہے جو ابھی بھی جاری ہے ممکنہ طور پر جاری رہےگا۔ البتہ بنانے کا عمل جعل جس میں ترقی اور تنزلی دونوں شامل ہیں ارتقا کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ کائناتوں کی ۶ مراحل کی تشکیل کے بعد کہ جنکا ارتقا ابھی بھی جاری ہے اس نے زمین کے ارتقا کو دو مراحل میں ارتقا بخشا اور زمین کی قابل رہائش حالت کو مزید چار مراحل میں اس طرح مکمل کردیا کہ اس میں طاقت نمو رکھ دی۔ لہذا اس آئیت شریفہ کا ترجمہ ہوگا؛ زمین کی ایجاد دو دن میں مکمل ہوئی، اور اس کی ہر چیز میں طاقت نمو کا اصول بنا دیا۔ حاصل بحث پہلے تو یہ عرض ہے کہ ہم عالم قران ہونے کا ہرگز دعوی نہیں رکھتے ہم اس میدان کے شہوسوار نہیں ہیں۔ دوئم علمأ قران کا کہنا ہے کہ بعضے امور قران میں ایسے ہیں کہ راسخون فی العلم کے ماسوا کوئی ان امور کو نہیں جانتا۔ قران خود اظہار فرماتا ہے کہ اس قران میں کچھ ایسے متشابہات ہیں جنہیں صرف وہ لوگ موضوع بناتے ہیں جو بات کو توڑنا موڑنا چاہتے ہیں البتہ وہی راسخون فی العلم ہی انکا مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ وﷲ ہیمیں تو تمام کا تمام قران ہی ایسا محسوس ہوتا ہے۔ بھلا کون دعوی کرسکتا ہے کہ وہ قران کا اصل مطلب جانتا ہے؟ اس لیے کہ کسی تاویل کے لیے کچھ امور کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر عرض ہے کہ خواہ تاویل ہو یا ترجمہ، حاشیہ یا تفسیر اس کا ایک اصول تو یہ ہے کہ شارع کی اصل منشأ تک پہنچا جائے اور پھر اس منشأ کے مطابق اس امر کو اپنے الطاظ میں ظاہر کیا جائے، ظاہر ہے کہ مذہب کے حوالے سے ایسا صرف ایک نبی علیہ سلام کے لیے ممکن ہے کہ اسکا واسطہ ایک ایسے ذریعے سے ﷲ سے متعلق رہتا ہے جس کی اپنی ماہیت سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ یہ بس ایک نبی علیہ سلام کا زبانی اور بھر عملی مظاہرہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ہم اعتبار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ ہمارے موضوع سے باہر ہے اس لیے ہم صرف اس نتیجے پر انحصار کرتے ہیں کہ تاویل کے ضمن میں شارع کا بنیادی مطلب کا اظہار صرف انبیأ کا کام ہے۔ البتہ بقول محقق مسعود نوازش کہ انبیأ کے بعد اس علمی خلا کو کیسے پورا کیا جائے؟ یعنی نبی کے بعد کون وہ اشخاص ہوں جو ﷲ کی منشأ کا اظہار کرسکیں؟ یہ ایک پیچیدا معاملہ ہے اور علمأ نے اس پر بیشمار ورق سیاہ کیئے ہیں اور اسی مسلے نے مذاہب میں مختلف نکتہ ہائے نظر پیدا کیئے ہیں۔ بقول محقق ڈاکٹر مبشر نذیر ہر عملی شکل جو کسی ایک فرقے میں رائج ہو نکتہ نظر کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی البتہ وہ اظہار جو کسی ٹھوس علمی فرق کی بنیاد پیش کرے وہ نکتہ نظر کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔ چونکہ یہ بھی ایک علمی مسلہ ہے اور ہمارے موضوع سے باہر ہے لیذا ہم اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاویل کو دوسرا طریق شارع کے ادا شدہ الفاظ کو ان کے سیاق اور مخاطب افراد کے سماجی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مفہوم تک رسائی کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک محدود مفہوم تک رسائی کی کوشش ہوگی اس لیے کہ سماجی حالات انسانی ذہن کے مرہون منت ہوتے ہیں اور انسانی ذہن اپنے فطری ماحول کی تبدیلی سے متاثر ہوتا ہے۔ مثلا اسلام کی مشال ہی لی جائے تو وہ سماجی حالت جو کفار مکہ کے زمانے میں تھی خود مکہ میں آج موجود نہیں ہے جبکہ وہاں کے مستقل رہایشی آج بھی وہاں رہتے ہیں البتہ ان کی سماجی حالت یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ اگر تاویل کا محض یہی طریق کار استعمال کیا جائے تو شارع کے الفاظ محدود ہوجائیں گے۔ چنانچہ الفاظ کے مفہوم کی جانب حوالے کے لیے رجوع کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنا علمی حوالے سے نہایت ضروری ہوگا۔ چنانچہ تاویل کا تیسرا طریقہ الفاط کے معنوں تک رسائی ہے۔ اس ضمن میں آج دو علمی گروہ موجود ہیں ایک وہ جو الفاظ کے مفہوم کے محض ان بنیادی معنوں تک محدود رہتے ہیں جو سیاق و سباق سے جڑے ہوئے ہوں۔ مثلا جنت کی وہ تعریف جو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابو ہریرؓہ کو بتائی وہ ان کے ذہن اور سماجی ماحول کے مطابق تھی جسے وہ قبول کرسکتے تھے تاہم نبؐی کے الفاظ کی تخریج اور توضیع آج کے انسان کے ویسی ہی انوکھی ناقابل قبول ہوگی جیسے آج کی توجیح جناب ابو ہریرؓہ کے لیے شدید مغالطے کا باعث ہوتی۔ ایسا سمجھنا قران اور سنت دونوں کو محدود کرنا ہوگا اور جس انسانی ترقی کا خواب مذہب دکھاتاہے اس کی بیخ کنی ہوگی۔ الفاظ کے معنوں کی تشریح میں دوسرا گروہ وہ ہے جو اپنے دور کے انسانی سماجی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے شارع کی منشأ کو نبیؐ کی زبان سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ناکہ انسان کو یہ مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے دور کے تقاضوں کو چھوڑ کر کسی ماضی کے زمانے کی تہذیب کو اپنا لے ایسا کرنا تحریف کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے ہماری کتاب اصول المقارنہ کا پہلا باب، افتراق بین المذاہب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اس موضوع پر علمائے کرام اور محققین عظام نے بیش قیمت کتب تحریر کی ہیں۔ ہم خود کو اپنے تئیں اس تیسرے طریق کے دوسرے گروہ سے متعلق گردانتے ہیں۔ ہرچند کہ ہم نے اس مقالے کے منردجہ بالا حصے میں کہیں بھی روایات کا سہارا نہیں لیا تاہم اس کی وجہ صرف قاری کو مزید الجھن سے بچانا ہے اس لیے کہ روایت کے ساتھ اس کی اسناد کی تحقیق کے بغیر قاری پریشانی کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ کہنا قاری کی بے بسی اور کم علمی ہرگز نہیں ہے بلکہ ہماری بےصبری ہے۔ منرجہ بالا آیت کی تلاوت سے امر واضع ہورا ہے کہ خلقت کا مرحلہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ عام طور سے سمجھا جاتا ہے. اکیسویں صدی کے دانشوروں کی یہ بحث بالکل بجا ہے کہ بطور انسان ہم کلمہ کن اور یکن کے درمیانی وقفہ کو جاننے کی کوشش کرنے میں حق بجانب ہیں. ہم نے اپنی تربیت سے سیکھا ہے کہ اس کارخانہ قدرت میں کچھ بهی فی الفور نہیں ہوجاتا. ہر چیز ایک اصول اور قائدے کے ساتھ وارد ہوتی ہے. مغالطہ خدا کے لیے وقت کی قید سے آذادی سے ہوتا ہے اور عام انسان خلقت کے ماحول کا انطباق اپنی ذات سے کرنے لگتا ہے جو لازما ایک غلط رجحان ہے. یہ کائنات اور دنیا و ما فیہا ایک ترتیب سے وجود پذیر ہوئی ہیں تبھی ان میں ایک ربط پایا جاتا ہے. ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا نے کائنات کی ابتدا کسی شہ کو شگافتہ کرکے کی. تاہم ہم یہ نہیں جانتے کہ خود اس شہ کی خلقت کیسے اور کب ہوئی. علماء اور دانشوروں کی وہ بحثیں جو عدم اور وجود سے متعلق ہیں وہ آجتک اس اولین خلقی شہ کے بعد والے مادے کو بهی عدم سے پرے جانتے ہیں. ظاہر ہے کہ یہ ایک مغالطہ ہے. دانشوران ایتھنز اور ایلیائی مفکرین اس امر پر متفق رہے ہیں کہ کائنات کو خلق کرنے والا مادہ قدیم ہے تاہم ایلیائی سائنسدان جیسے تهلئیز اس امر کو تسلیم کرتے نظر نہیں آتے. انہوں نے کائنات کو تخلیق کرنے والے مادوں اور تخلیق ہونے والے مادوں میں امتیاز برتا ہے. کائنات تخلیق کرنے والے مادے یقینا حادث ہیں تاہم یہ موقع اس بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا. جدید علمائ مین سے جناب عقیل الغروی نے یہ امر تسلیم کیا ہے کہ عدم اور وجود دو جدا صورتحال ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے باہم تبدیل نہیں ہسکتیں. گویا انہوں نے ایلیائی مفکر دیمیکراتس کا نظریہ قبول کیا ہے. تاہم اس کے نظریہ میں جواہر کو باہم پیوست کرنے کی مقناطیسی صلاحیت کا محرک نظر نہیں آتا جبکہ علامہ غروی اس صلاحیت کا محرک خدا کی مشئیت کو قرار دیتے ہیں. غروی کے اس نظریہ میں یہ امر بحث طلب ہے اور قابل غور بهی کہ جواہر میں موجود لازمی مقناطیسی صلاحیت بدرجہ اتم موجود رہتی ہے یا اسے کسی تحریک کی ضرورت ازبس ہوتی ہے. اس موضوع پر ہمارا مقالہ اصول المقارنہ میں بحث موجود ہے. اس کے بعد انسان کی ابتدا کیسے ہوئی اور کن مراحل سے گزرا ہے وہ اس مقالے کے دوسرے حصے میں رقم ہے جس کی پہلی آیت کا ذکر درج ذیل ہے. خلقت الانسان؛ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ﴿الأنبياء: ٣٠﴾ اور ہم نے ہر زندہ چیز کی نمود پانی سے کی ہے