Research

Know the Truth of your Faith

Tuesday, 20 August 2019

لال بھجکھڑ


لال بھجکھڑ

کہتے ہیں پنڈت لال بھجکھڑ کہیں سے گذررہے تھے کہ ایک آدمی کنویں میں گر گیا۔ لوگوں میں سے ایک دانا نے کنویں میں رسی پھینکی اور آدمی کو کہا کہ اسے کمر سے باندھ لو۔ اس آدمی نے رسی کمر سے باندھ لی۔ دانا نے لوگوں سے کہا کہ اب اس کھینچ لو۔ آدمی کنویں سے باہر آگیا۔
لال بھجکھڑ نے سیکھا کہ پھنسے ہوئے آدمی کو کمر سے رسی باندھ کر کھینچنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
کچھ دن گذرے تھے کہ راہ چلتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی درخت پر پھنس گیا ہے اور اس سے اترا نہیں جارہا۔ لال بھجکھڑ کو دانائی آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لال بھجکھڑ ہمارے سماج میں جابجا پائے جاتے ہیں۔ علاج معالجہ، مذہب، سیاست، عمارت سازی، عدلیہ، دفاع، خارجہ تعلاقات غرض کہ زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لال بھجکھڑ اور ان کے مشورے حاضر ہیں۔ یوٹیوب چینلز پر، فیس بک والز پر، ٹیوٹر الرٹ پر اور حد یہ کہ لنکڈان فیس پر بھی ایسے مشورے حاضر ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ دکھ اس بات پر نہیں ہے کہ ہمارے یہاں خونی بواسیر کا علاج تعویز گنڈوں سے کیا جاتا ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ لوگو صحتمند بھی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
ںہیں ہے تو اس شعبے کا مشورہ نہیں ہے جس میں خود کام کرتے ہیں۔ اپنے ہی کام سے نفرت ہمارا ہی خاصہ ہے!
جہالت کی سب سے افسوسناک حالت وہ ہوتی ہے جہاں خود کسی کو جہل سے نکلنے کی جستجو نہ ہو۔ جس بارے میں مکمل آگہی نہ ہو اس پر رائےزنی مناسب نہیں ہوتی۔ ذاتی تجربہ آفاقی نوعیت کا نہیں ہوتا۔ سب پر، ہر حالت میں، ہروقت لاگو نہیں ہوسکتا۔ ذاتی تجربے سے آفاقی نتائج اخذ کرنا اور سب پر لاگو کرنا اخلاقی جرم ہے۔

پاکستان لیجیٹیمیسی کرائسیس

#pakistanlegitimacycrisis
پاکستان لیجیٹیمیسی کرائسیس ۱۹۴۷ سے ہی مسلہ رہا ہے۔ انڈین اینڈیپینڈنس ایکٹ ۱۹۴۷ کے تحت قائداعظم کو ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کے لیے ایک ایسا گورنر جنرل چاہیے تھا جو ملکہ کی خوشنودی کی بجائے پاکستان کا سوچے۔ اس لیے انہوں نے خود کو اس عہدے کے لیے سب سے مناسب جانا لیکن اس کا ایک اثر یہ ہوا کہ گورنر جنرل کی آئینی حیثیت میں انہیں حکومت کے روزانہ کاموں میں دخل دینا پڑا۔ قائد اعظم کی طاقتور شخصیت آئینی ہونے کے باوجود وزیراعظم کو روزانہ ہدایات دیتے رہے۔ ان کے بعد بھی یہ سلسلہ ۱۹۵۶ تک جاری رہا۔ بالاآخر جنرل ایوب نے الزام لگا کر اسکندر مرزا کی غیرآئینی حکومت باضابطہ طور پر ختم کردی گئی۔
اس کے بعد پارلیمانی نظام کو نقصاندہ قرار دے کر صدارتی نظام نافذ کردیا گیا۔ صدر نے بھی وہی کیا جو وزیراعظم کرتے رہے۔۱۹۷۳ میں صدارتی نظام کو نقصاندہ قرار دے کر دوبارہ پارلیمانی نظام نافذ کردیا گیا۔ معراج خالد اور فضل الہی چوہدری جیسے ملازم صدر وجود میں آئے۔ جنرل ضیا کی آمد کے ساتھ ہی آئین کی دفعہ ۲/۵۸ بی کے ذریعے عملاً صدارتی نظام دوبارہ نافذ ہوگیا۔ اختیارات کے توازن کے نام پر صدر کو پارلیمان توڑنے کا اختیار برقرار رکھنے کا نتیجہ صدر غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری جیسے دخل انداز صدر نمودار ہوئے۔
اسی طرح صدر آصف زرداری جیسے سیاسی قدآور شخصیت نے آئینی صدر کی طاقت اتنی زیادہ بڑھائی کہ وزیراعظم عملی طور پر ایک ملازم کی حِیثیت اختیار کرگیا۔ صدر زرداری نے دوبارہ حکومت کی امید پر ۲/۵۸ بی کو میثاق جمہوریت کے تحت ختم کردیا۔ اس طرح نواز شریف ایک انتہائی طاقتور وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے۔ بالاآخر نواز شریف جیسے طاقتور وزیراعظم نے دوبارہ ملازم صدر کو رواج دیا۔
اس ساری کہانی میں کئی فوجی چیف آف سٹاف کا سیاست میں کردار خاصا نمایاں رہا۔ اس کشمکش کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج کو براہ راست ریاستی سیاست میں مداخلت کرنا پڑی۔ فوج کو حکومتی امور میں مداخلت اس لیے کرنا پڑی کے پاکستان میں ۱۹۴۷ سے اب تک بھی ریاست اور حکومت میں زیادہ فرق نہیں سمجھا جاتا۔ کچھ ریاستی امور ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں حکومتی مفاد سے ریاستی مفاد زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ بریگزیٹ اس کی ایک واضع مثال ہے جہاں ریاست کے مفاد کے لیے تین حکومتیں آناً فاناً چلی گئیں۔
اختیار کے اس توازن میں ایک تو وہ طریق کار تھا جسے ترکی یا بنگلہ دیشی ماڈل کہا جاتا رہا ہے جس میں فوج کی اعلی قیادت کو عملی طور پر حکومت میں شریک کرلیا گیا۔ یہ دونوں ماڈل ترکی اور بنگلہ دیش میں بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ اس لیے وہ آوازیں اب پاکستان میں نہیں آرہی ہیں۔
آئینی طور پر پاکستان کا صدر ہے تو وفاق کا نمائندہ مگر اسے سلیکٹ ہماری اسمبلیاں کرتی ہیں اور وہی شخص صدر بنتا ہے جو منتخب حکومت چاہتی ہے۔ اس طرح ایک ملازم صدر ہی مقرر ہوتا ہے۔
کیا اچھا ہو کہ صدر کے پاس ۲/۵۸ بی کا اختیار یقیناً نہیں ہو لیکن وہ براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو۔ وہی جوائنٹ چیفس آف کمیٹی کا صدر ہو۔ خود اپنی صوابدید سے (وزیر اعظم کے مشورے سے نہیں) چیفس آف اسٹاف، اٹارنی جنرل، اکأنٹنٹ جنرل، چیف جسٹسز، چیرمین بورڈ آف ریوینیو اور سفیروں جیسے آئینی عہدے پر تقرری کرے۔ نیشنل اسمبلی کے منظور شدہ قانون کو واپس بھیج سکے اور اس کے دوسری دفعہ انکار کے باوجود بل پاس نہ ہو بلکہ اسمبلی کاروائی جاری رکھے۔ مزید یہ کہ صدر قانون بنانے کے لیے اسمبلی کو خطاب کرسکے اور ہدائیتی نوٹ بھی بھیج سکے۔ البتہ صدر کو اسمبلیوں کی مخصوص تعداد برخاست کرسکتی ہو۔
مشورہ ہے! مانو یا نہ مانو مرضی ہے!!!

Wednesday, 22 August 2018

پاکستان میں مولوی کا کردار

پاکستان میں مولوی کا کردار
میرا خیال ہے کہ ایک اعتبار سے موضوع نامکمل اور ادھورا ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع کا ٹائٹل ہونا چاہیے تھا کہ پاکستان میں مذہب کا کردار۔ اس لیے کہ پاکستان میں مذہب اور مولوی ایک دوسرے کا مترادف بن چکے ہیں اور یہ ۱۹۴۷ کے بعد نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں خاصی گہری ہیں جو قیام پاکستان سے پہلے مغل بادشاہت کے آخری زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ میں اپنے مقالے میں مولوی کو ان تمام مذہبی عمائدین کا شمار کرتی ہوں جو کسی بھی مذہب سے متعلق ہوں۔
برصغیر میں وادی سندھ کی تہذیب پر شمال وسطی حملہ آواروی کے نتیجے میں یہاں کہ مقامی آبادی جو زیادہ تر کول اور دراوڑ قبائل پر مشتمل تھی مغربی برصغیر سے منتقل ہوکر جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں وادی گنگا کی تہذیب کا محرک بنے۔ یہ حلمہ آور آریا تھے یا نہیں اب ایک بحث کا موضوع بن چکا ہے جس کا میں ابھی آگے ذکر کروں گی، بہرحال اس صورت نے مغربی برصغیر کو وسطی، جنوبی اور شمالی برصغیر سے ایک گونا علحیدہ کردیا۔ یہ خلیج آج تک اپنا اثر رکھتی ہے۔ دوسری طرف ایک نئی دنیا فتح کرنے کے جذبے نے برصغیر سے باہر کی دنیا کے طاقتور اقوام کو برصغیر کےوافر تعداد میں دستیاب وسائل ہتھیانے کی ایک مظبوط تحریک ملی۔نا صرف شمال وسطی اور بعد میں وسطی ایشیا کے سہاشکوں نے یکے بعد دیگرے برصغیر میں مہم جوئیاں کیں بلکہ خود یہاں کی اقوام میں بھی ایک دوسرے کے وسائل ہتھیانے کی تحریک مظبوط ہوئی۔ ۵۵۰۰ قبل مسیح سے ۳۵۰۰ قبل مسیح کے دوران ویدوں کی تاریخ ہمیں، مہابھارت اور رامائن کے زریعے، یہاں ہونے والی جنگوں کا حال بڑی تفصیل سے سناتی ہے۔ کسی خارجی تاریخی حوالے کی غیر موجودگی کے باوجود یہاں کی مقامی اور آبادکار افراد میں اس کی بو ابھی بھی پائی جاتی ہے۔ ویدوں کے بعد گندھارا تہذیب کے بانیوں نے بدھ مت کی میانہ روی کی تعلیمات کو جس شدت اور تشدد سے پھیلایا وہ تاریخ کے اوراق میں خون کے آنسو رلاتی ہے۔ میرا خیال ہے کے بدھ خود بھی اس پر شرمندہ ہوگا۔ جین مت اور بدھ مت کی شانتی اگر اتنی خاموش ہی رہتی جتنی خود سدھارتھ اور ویر کے ذاتی ملاقات کے دوران رہی تھی تو شائید وہ دونوں اس دھرتی میں پیدا ہونے پر کبھی دکھی نہ ہوتے۔ سائرس کا برصغیر پر قبضہ اور دارا کی چندرا گبتا موریہ سے شکست اور سکندر کا دارا سے ایران اور برصغیر کا چھین لینا سب ہی وسائل پر قبضہ اپنی مذہبی ترویج کے نام پر ہی ہوا۔
انہی حلمہ آروں میں ایک نام عربی یلغار کا بھی ہے جو قریبا ۷۰۰ عیسوی میں ابن قاسم نے شروع کی۔ محمد قاسم کی مرتبہ انسائکلوپیڈیا تاریخ ہند کے مطابق ۶۷۸ میں بنو امیہ سے اختلاف کی پاداش میں بنو اسامہ کو علاقہ پابند کردیا گیا تھا۔ بنو اسامہ کا سربراہ محمد علافی اپنے قبیلہ کو لے کر راجہ داہر کے پاس  مکران کے علاقے میں آباد ہوگیا تھا اور راجہ داہر نے اسے نوابیت دی تھی۔ اسی دوران سعید بن اسلم کلابی کو حجاج نے مکران کا حکمران بنایا۔ محمد علافی کی جانب سے  سنھوی بن لام الحمادی مکران کا حکمران تھا جسے سعید نے دھوکے سے قتل کردیا۔ اس پر محمد علافی نے مکران پر حملہ کرکے سعید کو شکست دی اور سعید اس جنگ میں مارا گیا۔ محمد علافی کا قبضہ سارے مکران پر ہوگیا۔ یعنی جن علاقوں پر عربوں نے خلیفہ عثمانؓ کے زمانے سے قبضہ کررکھا تھا وہ ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اور یہی بنیادی وجہ محمد بن قاسم کے حملے بنی۔ تاریخ فرشتہ میں مہلب بن ابی صفرہ کو پہلا مہم جو قرار دیا گیا ہے جو  پشاور کے راستے۶۶۴میں برصغیر پر حملہ آور ہوا۔ کابل کی فتح کے بعد ایک کماندار خالد بن عبداﷲ نے سیاسی وجوہات کی بنا پر واپس عرب نہ جانے میں مصلحت جانی اور کابل کے نئے حاکم کے خوف سے کابل چھوڑ کر کوہ سلیمان کے علاقے میں آباد ہوگیا۔ تاریخ فرشتہ کی تحقیق کے مطابق لودھی اور سوری خاندان اسی خالد بن عبداﷲ کی نسل سے ہیں۔ بہرحال مسلمان محمد بن قاسم کے حملے سے قبل برصغیر آچکے تھے۔ یہ مسلمان جن میں ربیع بن صبحیح بصری اور اسرائیل بن موسی ہندی اورمالک بن دینار کا نام سر فہرست ہے۔ ربیع تو خیر خلیفہ عمرؓ کی برصغیر پر فوجی مہم کا حصہ تھے جو یہاں ہی مدفون ہوئے البتہ اسرائیل ایک تاجر تھے اور مالک ایک عالم تھے۔
برصغیر آنے والے مسلمان عالم وہ لوگ تھے جنہوں نے برصغیر میں پہلے سے موجود مذہبی تشدد کا تدارک کیا اور تمام انسانوں میں ایک دوسرے کے نظریات برداشت کرنے کا قرینہ سکھایا بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ بدھ اور جین کی تعلیمات سے جس بےحسی اور یاسیت کا سبق مل رہا تھا اسے ایک امید میں بدل دیا۔ یہ عالم ہی تھے جنہوں نے بعد برصغیر کے صوفیا کا نام اختیار کیا۔ ان اولین اکابر کے جو لوگ قائل ہوئے اور معتقد بنے وہ یہیں کے رہاھائشی تھے اور ان کے انتقال کے بعد جس طرح وہ اپنے بزرگوں کی قبور کی رکھوالی کرتے تھے اسی طرح ان لوگوں کی بھی کی۔ بعد میں آنیوالے مسلمان علما نے اس روایئت کو توڑنے کی بجائے جاری رکھنے کو درست سمجھا اس لیے کہ ان  کے ذہنوں میں اللہ کے بارے میں کسی شرک کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور وہ اپنی ذہنی روش میں کافی واضع تھے۔
یہاں کے رہنے والے سبھی مذاہب کے ماننے والے انہی بزرگوں سے اپنے سماجی مسائل، مثلاً شادی بیاہ، جینا مرنا، جائیداد و کاروبار وغیرہ کے حل پوچھا کرتے تھے اور ان کی ہدایات پر عمل بھی کرتے تھے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے قبل، جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکی ہوں، مذہبی تنافر کی ایک فضا قائم رہی ہے جسے مسلمان صوفیا نے تقریباً ختم کردیا تھا جس کی جھلک ہمیں سلاطین دہلی کی یہاں شدت سے موجود رہی جس میں امیر خسرو کا ایک بہت بڑا کردار رہا ہے۔ تاہم اس روادری کی انتہا ہمیں آئین اکبری میں نظر آتی ہے۔ اور یہی وہ زمانہ ہے جب برصغیر میں مسلمانوں میں اس رواداری کے خلاف ایک کروٹ لی گئی۔
یہ تکلیف دینے والی کروٹ، شیخ احمد سرہندی کی تحریک تھی جسے برصغیر کی تاریخ میں نشاۃ ثانیہ کا نام دیا گیا اور شیخ مجدد الف ثانی کے نام سے مشہور ہوئے۔ شیخ کے والد شیخ عبدالاحد ایک صوفی بزرگ تھے اور سلسلہ چشتیہ سے منسوب رہے تاہم خواجہ باقی اللہ سے بعیت کے بعد شیخ نے تینوں دوسرے صوفیا سلسلے، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی کمان بھی خود حاصل کرلی اور عوام کو بتایا کہ یہ سعادت انہیں سعودی عرب کے مشہور وھابی عالم امداد اللہ مہاجر مکی کے حکم سے عطا ہوئی ہے اور انہیں یہ ہدائیت شیخ عبدالقادر جیلانی کے فیضِ روحانی سے ملی ہے۔ واضع ہو کہ خواجہ باقی اللہ سے عبدالحق محدث دہلوی بھی بیعت تھے جو مجدد الف ثانی کسی حد تک ہم عصر ہیں۔ محدث دہلوی کی مشہور تصنیف مدارج النبوہ ہے جس پر بحث کا یہ موقع نہیں ہے۔ تاہم اتنا کہنا درست ہے کہ محدث دہلوی کا انداز بہرحال صوفیانہ رہا ہے اور وہ نیاز و نذر کے قائل رہے ہیں جو برصغیر کی تہذیب کا حصہ ہے۔
بہرحال مجدد الف ثانی نے دین کی بقا کے لیے اکبر بادشاہ کے خلاف بغاوت کی اور اسے آئین اکبری کا  نافذ کرنے نہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہ قانون برصغیر کی رواداری کے لیے ایک مثبت قدم تھا۔ تاہم مجدد کی تحریک اس حد تک بڑھی کہ انہیں جہانگیر کے دربار میں طلب کیا۔ اس وقت تک بھی علما کا صوفیا سے جدا تشخص قائم نہیں ہوا تھا اس لیے صوفیا کے عوامی اثر کے باعث جہانگیر، مجدد کو قتل نہیں کرواسکا۔ تاہم مجدد کے دین کی اصلاحی کوشش اور بدعتوں کی نشاندہی نے برصغیر میں شیعہ سنی اختلاف کو ابھارنے میں کافی کردار ادا کیا اور مجدد کا سارا غصہ جہانگیر کے مرکزی قاضی نوراللہ شوستری (شہید ثالث) کو شعیہ ہونے کی بنا پر بہانے سے قتل کردیا گیا۔ اس واقعے نے برصغیر میں اسی پرانے افتراق کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مجدد کے لگائے گئے پودے جب تناور درخت بنے تو میرہاشم، ملا صالح اور سید محمد جیسے علما نے جنم لیا اور یہ تینوں افراد مغل بادشاہ اورنگ زیب کے استاد بنے۔ ان کی تعلیمات کا اثر تھا کہ بیٹے نے باپ کو اندھا کرکے قید کیا اور بھائیوں کا قتل کیا۔ جبکہ اس کے بڑے بھائی کا استاد صوفی سرمد بھی بادشاہ کے استاد خاص اور مرکزی قاضی شیخ عبدالوی کے فتوی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ یہ وہی سرمد ہے جس کا اپنے قتل سے پہلے کہا گیا مشہور شعرحسب ذیل ہے؛
شورے شد از خوبِ عدم چشم کشودیم ( میں شور سن کرنہ ختم ہونے والے خواب سے جاگ گیا)
دیدم کہ باقیست شبِ فتنہ غنودیم، غنودیم (لیکن جب فتنوں کوموجود دیکھا تو نہ جاگنے کے لیے پھر سوگیا)
برصغیر میں یہ صوفیا کا پہلا باقائدہ قتل تھا جس نے عدم برداشت کی فضا کو پھر سے زندہ کردیا۔ اورنگزیب نے اس کے بعد برصغیر کا پہلا فتاوی تحریر کروایا جس کی ترویج کے لیے ان درباری علما نے بادشاہ کو مجدد کا خطاب دیا اور فتاوی بادشاہ کے نام سے معنون کیا، فتوی عالمگیر۔ یہ وہی فتاوی  ہے جسے برطانوی راج میں مسٹر میکملن نے The Hidaya کے نام سے انگریزی میں ترجمہ کیا اور اسے برصغیر کے مسلمانوں کا مسلمہ قانوں بنادیا گیا۔ اورنگزیب نے مسٹر نیل کے مشہور فرنگی محل کو بحق سرکار ضبط کرلیا۔ یہ محل ایک فرانسیسی تاجر مسٹر روبن نیل Ruban Niel نے جہانگیر کے زمانے میں لکھنو تعمیر کیا تھا اور برصغیر میں نیل کی تجارت کرتے تھے۔ ان کے نام کی مناسبت سے دھلائی کے بعد کپڑوں کے نکھار کے لیے آج بھی یہی رابن نیل استعمال ہوتا ہے البتہ اس پر مسٹر نیل کی تصویر کی بجائے پرندے نیل کنٹھ کی تصویر بنائے جاتی ہے۔ یہ فرنگی محل اورنگزیب نے ضبطی کے بعد اپنے خاص علما سید بن قطب اور اسد بن قطب کی تحویل میں دے دیا جنہوں نے اس محل کو ایک اسلامی مدرسے کی شکل دے دی۔ یہ برصغیر کا پہلا مسلم مدرسہ تھا۔ سید بن قطب کے صاحبزادے نظام الدین سہالوی نے اس مدرسے اس مدرسے میں ایک باقائدہ تعلیمی نصاب ترتیب دیا جو بعد میں درس نظامی کے نام سے معنون ہوا۔ ہرچند کے یہ ایک مدرسہ طریقت کے خلاف شریعت کی پاسداری کے لیے بنایا گیا تھا تاہم اس مدرسے کے زعمأ نے کبھی بھی برصغیر میں رائج مذہبی رسومات جسیے، ۲۲ رجب کے کونڈوں، گیاہرویں شریف کی نیاز، عید میلاد اور محرم، ہولی، دسہرہ، کرسمس اور بسنت وغیرہ کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ ان تمام رسوم کو برصغیر کے تمام شہری بجا لاتے تھے۔
اس مدرسے کی اچھائیوں کے ساتھ ساتھ وہیں کچھ ایسے علما بھی پیدا ہوئے جنہوں نے سرسید احمد خان کی تحریک کی مخالفت بھی کی جس کی ابتدا ۱۸۶۹ میں ہوئی تھی۔ اسی مدسرسے میں یہ تاثر ابھرا کہ  جہاں سے برصغیر میں وہ علما پیدا ہوئے جنہوں نے صوفیائی تہذیب کی نا صرف مخالفت کی بلکہ اسے ختم کرنے کے لیے باقائدہ تحریک بھی چلائی۔ اس تحریک کا ایک خاص اثر یہ ہوا کہ خود مسلم عقائد میں اختلافات نمایاں ہونے شروع ہوگئے اورسب سے پہلے ۱۸۶۷ میں قاسم نانوتوی نے دیوبند میں مدرسہ قائم کیا جو دیوبندی مکتب فکر کا مرکز بنا جو دارالعلوم دیوبند کے نام سے مشہور ہوا۔ اس مدرسے نے شریعت (مولوی) کی پاسداری میں طریقت (تصوف) کی راہ کو خوب مسدود کیا اور وہ عام مذہبی رسومات جو عوام میں رائج تھیں انہیں نا صرف غیر اسلامی قرار دیا بلکہ کفر بھی قرار دے دیا۔ اس تحریک کو عوام میں مقبولیت فوراً تو حاصل نہیں ہوئی تاہم قبولیت اس لیے ملی کے ۱۸۵۷ کی جنگ آذادی کے بعد یہ وہ واحد مذہبی تحریک تھی جو برطانوی راج کے خلاف سیاسی کشمکش میں بھی شریک تھی۔ یہ ایک اہم امر ہے کہ تمام مسلم مذہبی مشائخ خاصکر نقشبندی طریقت نہ صرف تحریک آذادی کو غدر (بغاوت) کہہ رہے تھے بلکہ تحریک علی گڑھ کے ایجینڈے کے خلاف کانگریس سے زیادہ قریب تھے۔ مولانا عبدلباری کے انتقال تک فرنگی محل کسی نی کسی طرح باقی رہا تاہم مولانا حسن کے انتقال کے بعد فرنگی محل کے علمأ میں خود اختلافات پیدا ہوچکے تھے۔ سرسید اور علمائے دیوبند میں اسقدر اخلاف بڑھا کہ سرسید کے کفر کا فتوی بھی وہاں سے جاری ہوگیا۔ اس اختلاف کو مٹانے کے لیے فرنگی محل کے فارغ التحصیل عالم عبدالحق محدث دہلوی نے ۱۸۹۴ میں لکھنو میں ہی ایک اور مدرسہ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں مدرسۃ الندوہ کہلایا۔ تاہم جدید تعلیم کا طرفدار ہونے کے باوجود یہ مدرسہ برصغیر کے مذہبی تشدد کو قلع قمع کرنے میں ناکام رہا اور یہ خود مسلمان ایکدوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار دیتے رہے۔ ان حالات میں احمد رضا خان نے ۱۹۲۰ میں رائے بریلی میں ایک نئے مدرسدے کی بنیاد رکھی جو تاریخ میں آگے چل کر بریلوی مسلک کی بنیاد بنا۔
اس سیاسی اور مذہبی کلچر کے تاریخی پس منظر میں پاکستان وجود میں آیا۔ آج پاکستان میں کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں جو پاکستانی قوم کا ناطہ وادی سندھ کی تہذیب سے جوڑتی ہو۔ ہندوستان تو بجا طور پر اپنا ناطہ گنگا کی تہذیب (وید تمدن) سے جوڑتا ہے تاہم پاکستان کے مسلمان، عرب اور افغان مہم جو لشکر کشی سے باہر نہیں آتے جبکہ یہاں کے مسیحی، نسطوری عیسائیت کے تاریخی پس منظر اور مذہبی رسومات کے باوجود اپنا ناطہ یورپی مسیحیت سے جوڑتے ہیں۔ غیرمسلم آبادی پاکستان میں اتنی کم ہے کہ ان کے رجحان کا براہ راست اثر سماج پر اتنا شدید نہیں ہوپاتا البتہ مسلم آبادی کے برتاؤ کا رد عمل بہت واضع طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
پاکستان کی آذادی کو قرارداد پاکستان کی صورت میں اغوا کرنے کے بعد مذہب کا اثر یہاں اتنا زیادہ بڑھا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو خالصتاً مذہبی تشخص رکھتی ہیں وہ پاریمنٹ میں انتہائی قلیل تعداد رکھنے کے باوجود موئثرترین پریشر گروپ ہیں۔ ضروری ہے کہ قرارداد کا اولین حصہ یہاں نقل کیا جائے جو تحریک آذادی کو اغوا کرنے کا باعث بنی ہے؛

"(يہ قرار داد 12 مارچ 1949ء كو پاكستان كى پہلی دستور ساز اسمبلى نے منظور كى۔يہ قرار داد پاكستان كے آئین کے ليے رہنما اصول متعين كرتى ہے۔) ​
اللہ تعالیٰ ہی کل کا ئنات کا بلا شرکت ِ غیرے حاکم ِمطلق ہے۔اس نے جمہور کے ذریعے مملکتِ پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے،وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیاجائے گا۔"

گویا وہ منتخب نمائندے جو جمہور (عوام)  منتخب کرتے ہیں وہ الہی ہدائیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں یہ اختیار ایک مقدس امانت کے طور پر تفویض ہوتا ہے۔ اس قرارداد نے پاکستان میں مذہب کے استعمال کو بلاشرکت غیرے مولویوں کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔
یہ درست ہے کہ آذادی ہند کے قانون مجریہ ۱۹۴۷ کے مطابق پاکستان برطانوی راج کے ان حصوں پر مشتمل ہونا تھا جہاں مسلم آبادی کی اکژیت تھی اور یہ بھی درست ہے کہ تقسیم ہند ان علاقوں میں ایک عوامی ریفرینڈم کے نتیجے میں معروض وجود میں آنا تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آذادی ہند کے قانون مجریہ ۱۹۴۷کی ریڈ کلف ایوارڈ کے واسطے سے نہایت منظم دھاندلی کے زریعے مجوزہ پاکستان کی ممنکہ شکل بالکل تبدیل کردی گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کو ان مذہبی عناصر کے ہاتھوں بلیک میل ہونا پڑا جوتحریک آذادی کے مخالف رہے تھے اور برصغیر میں مذہب کے نام پر ، تیتومیر، سید احمد شہید، ریشمی رومال اور تحریک خلافت جیسی پرتشدد مہموں کے محرک رہے تھے۔ یہ تحریکیں بلاشبہ انگریزوں کے خلاف منظم ہوئی تھیں تاہم ان کے اسلامی تشخص کی وجہ سے اس میں صرف مسلم آبادی ہی شریک تھی اور برصغیر کے عام اور خود لبرل مسلمان ان سے لاتعلق رہے۔
جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ ان روایات کے ساتھ جنم لیے والے پاکستان میں بہت جلد اس مسلم تشخص نے مسلح جتھے بندی کی شکل اختیار کرلی۔ تاریخ پاکستان میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اطلاع بہت حیران کن ہوگئی کہ پاکستان میں قائم ہونے والی کیمونسٹ تحریک اور ترقی پسند ادیبوں کی انجمن بہت جلد ٹوٹ گئی اور صف ہراول کے کیمونسٹ مسلمان ہوگئے اور ترقی پسند شعرا نعت گوئی۔ غریب پاکستانی خاندانوں کے بچے غذائی قلت کا شکار ہوئے اور حکومتی غیرمسلسل پالیسی کی وجہ سے سوسال سے قائم مذہبی مدرسوں نے ان خاندانوں کا کفیل ہونا قبول کیا۔ افسوس جمہوری پارٹیاں، صوفیائی تحریکیں اور کیمونسٹ پارٹی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکے۔ اس عوامی غربت نے مسیحی مشنوں نے جس میں صف اول میں سالویشن آرمی کا نام شامل ہے، غریب گھرانوں کی کفالت کا بار اٹھایا اور بہت سی مسلم آبادی مسیحیت میں تبدیل ہوگئی۔ اس صورتحال نے مسلم جماعتوں کو مزید سرگرم ہونے کا موقع ملا۔ (دیکھیے پاکستان میں مسیحیت اورجماعت اسلامی کا کردار از آقائی صادق گنجی اسلام آباد اسکول آف اسٹریٹیجی مطبوعہ ۱۹۸۹).

عالمی برادری اور دہشت گردی

عالمی برادری اور دہشت گردی
دہشت کوئی نیا لفظ نہیں ہے۔انسان اس لفظ سے بچپن سے آشنا ہوجاتا ہے بچپنے سے لےکر جوانی تک اندھیرے سے دھشت عادی رہتی ہے،خوفناک کہانیاں پڑھنے کے بعد دل ڈرتا ہے کہیں سچ مچ اےسا نہ ہوجاۓ ۔شرتی کہانیوں میں دہشت بہت زیادہ اور نمایاں رہی ہے اس لیے کہ کہانی کے بعدبھی بچوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دہشت ذدہ کمرے کا عام رواج ہے۔
لہذا میں پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ دہشت کویٔ نیا لفظ نہیں ہے۔
برصغیر میں خود کو دوسروں سے دہشت کرنا اور کرانا پرانی اور روایتی بات ہے۔عزّت کی بات کون کرتا ہے،دوسرے کی برایٔ اس کی دہشت ہے۔بڑا سرکاری افسر ہو یا خوفناک مجرم اس کی حیثیت کی شناخت اس کی دہشت ہے۔یہی حال بڑی اور چھوٹی اور بڑی اقوام کا بھی ہےمعاشی برتری بھی اسی وقت تسلیم شدہ ہے جب وہ دوسری چھوٹی قوم کی معاشی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے دہشت تک پہنچ گئے۔ایک زمانے میں تو یہ بھی روایت تھی کہ مائیں بچوں کو سلانے کے لئے فلاں کی دہشت ذدہ دھمکی دیتی تھیں۔
بہر حال یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ دہشت خواہ کیسی رہی ہو ‚باعث افتخار گردانی جاتی رہی ہے۔میرے خیال میں دہشت اور رعب ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔اور ان الفاظ کی علیحدہ علیحدہ شناخت دوبارہ کرنا نہایت اہم اور ضروری ہوسکتا ہے۔ےا رعب کے سامنے ایک مافی الضمیر بیان کردینے رعب کی عزّت نفس مجروح نہیں ہوتی اور نتیجہ بہر حال رعب کے خاتمے پر نہیں ہوتا۔مگر دہشت کے سامنے یہی عمل رعب کے اپنے اختتام تک مزید آتا ہے۔دہشت بظاہر ڈاکو کی ہو ،شیرببر کی ہو،[دادی کی کہانیوں کی ہو، سلطان ایوب کی ہو یا چنگیز خان کی ہو انسانی نفسیات میں ترقی کے عمل کو روکتی ہے۔یہ ایک عمل دہشت کو ہرا قرار دینے کے لئے کافی ہے۔
تمام مذاہب اور تمام تر تمدّن اور نظام ،جدید تہذیبیں جب بھی انسانی ترقی کی بات کرتے ہیں تو جاری ترقی کے پس پردہ انسانی نفسیات کی منطق اس میں حائل ہوتی ہے۔ نفسیاتی طور پر دبا ہوا شخص جاری ترقی کے حصول کرسکتا بھی کیا۔مادی لذتیں ہوں یا روحانی لذتیں،نفسیاتی طور پر دبے ہوئے افراد کماحقہ بہرمند نہیں ہوسکتے ہیں۔افسر کے بیکار لطیفے پر بے دلی سے ہنسنا۔
دہشت کا سلسلہ بڑی اور چھوٹی اقوام کا بھی ہے اور بین الاقوامی بھی ہے۔یہ دہشت بعض اوقات ترقی یافتہ اور پس ماندہ اقوام کے درمیان حسد کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔اور آج کل تو دہشت ایک باقائدہ سلسلہ بن گئی ہے۔دہشت پھیلانا ابھی تک HHOکے عالمی چاٹر میں جرم کے طور پر درج تو نہیں ہوا مگر اس عمل کو جرم مان کر درج کرلیا گیا ہے۔ماضی قریب میں دوجنگجو اقوام کے درمیان اچانک دہشت کردہ عمل کرایا گوریلا عمل کہلاتا ہے۔تب یہ پسندیدہ بھی تھا۔خود انسانی تاریخ ایسے واقعات سے نہ آشنا نہیں ہے۔معدوم تاریخ میںXenophobia 431-350 ق م، میں دشمن کے خلاف دشمن سڑکوں میں نفسیاتی جنگ کا حامی ہے۔اتھارویں صدی میں دشمن کے خلاف دہشت پھیلانا ایک اچھا عمل کہا جاتا رہا ہے۔Robespierre 1973-94 جنگ کے دوران اس عمل کی کھلم کھلا حمایت کرتا رہا ہے۔ردہکی خانہ جنگی
(65-1861)کے دوران KKKفالی تنطیم دہشت کو بھرپور طریقہ سے استعمال کررہی ہے۔
انقلاب روس کے دوران ان کا روائیوں کو نہایت منظم طریقہء کار دستیاب رہا ہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھی انگریزوں کے خلاف Monkey Briefer جیسی تنظیموں نے دہشت کی کاروائیوں خوب بنیاد ڈالی ہے۔اسلامی تاریخوں میں ابوالصفاح، حجاج اور یزید جیسے نام اس عمل میں شہرت یافتہ ہیں۔
بیسویں صدی نے اس دہشت کے عمل کو ایک باقائدہ منظم عمل کے طور پر ابھارا ہے ۔اب یہ خالی دہشت کا عمل نہیں رہ گیا ہے۔اب یہ دہشت گردی بن گیا ہے۔اطلاعات کی بروقت اور جلد ترسیل نے ان عوامل کو عوام تک پہنچانے اور اس پر تفصیلی ،تصویری رپورٹوں نے اس عمل کے خوف میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔انقلاب روس کے دوران اوپس کی کامیابی کے بعد ویت نام، کمپوڈیا، اآسام ، سری لنکا ، ملائیشیا اور فلپائن میں جن تحریکوں نے جنم لیا وہ دہشت گردی میں کسی نہ کسی طرح ملوث رہی ہیں۔
مشرق بعید نے یہ سبق یورپ سے سیکھا تھا اور مشرق بعید نے یہ سبق مشرق وسطی کو بھی سکھادیا۔دہشت گردی کا یہ عمل مذہبی بھی رہا ہے قومی بھی رہا ہے اور نسلی بھی رہااور مادقاءی بھی۔مگر حیرت کی بات ہے کہ جب یہ عمل مشرق وسطی سے نمودار ہوا تو اس کو اسلامی دہشت گردی کہا جانے لگاابوفدال، ابوسہان ، حماس، الجہاد، القاءدہ اور طالبان اسی نوعیت کی جماعتیں ہیں جس طرھ فرانس، سہن، امریکہ، روس اور آئرلینڈ میں تھا۔وہ عیسائی نہیں تھےجس طرح کمبوڈیا، ویت نام، جاپان اور فلپائن میں تنظیمیں بدھ مت نہیں تھیں بالکل اسی طرح میڈل ایسٹ کی تنظیموں کو ساری دنیا انہیں تک میں کی ہوں تسلیم کرتی ہیں۔
یہاں پر ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ دہشت گردی کی Definition کی جائے اس بات کو رکھنا بہت ضروری ہے کہ دہشت اور دہشت گردی دونوں سامنے کی بات ہیں۔انسانی تاریخ میں یہ نام اور عمل دونوں کام جانے پہچانے رہے ہیں۔دراصل روس کے گرد حفاظتی دیوار گرجانے کے بعد دنیا کے سہانی افق میں تبدیلی آگئی ہے۔بظاہر امریکہ واحد سپر طاقت ہونے یا رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ اس ضمن میں بے شمار اقدامات کر رہا ہے۔ان اقدامات میں رکاوٹ صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ خود HIT کے بہت سے ملک، اور اس کے اقتصادی ملک بھی اس عمل کی مخالفت کرتے چلے آئے ہیں۔ایک مطالبہ اور بگڑتا جارہا ہے۔کہ دہشت گردی اور تشدّد یعنی الفاظ قبال یت کر لئے جائیں۔تشدّد دہشت گردی کاحصّہ ہوتا ہے خود دہشت نہیں ہوتا۔دہشت کی وجہ ہوتا ہے لہذا یہ بات ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ دہشت گردی کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں یعنی اگر ان وجوہات کو جان لیا جائے تو مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہےدہشت گردی کی وجوہات کیا ہیں؟
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی اور تحریک آزادی میں امتیاز کیا جانا ضروری ہے۔جب کوئی آپ کی بات نہیں سنتا،آپ کو کہیں سے الفات نہیں ملتا آپ کو کوئی داد رسی نہیں ہوتی آپ تنہا کرہے جاتے ہیں تو آپ کے پاس لڑائی کے عادوں کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔یہ درست ہے کہ لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہوتی تمام مسائل Table پر آنے سے حل ہوئے ہیں مگر یہ بات کتنی غلط کہی جائے گی کہ دو متحارب گروہوں کو Table تک لانے میں لڑائی نے کتنا کردار ادا کیا ہے۔نکارگوا، ایکوئے ڈور، آئرلینڈ، آسام جیسی مثالیں موجود ہیںجو کبھی متحارب تھے اور بعد میں Tableپر آنے سے مسائل حل ہوئے۔
حالیہ دور میں حماس اور حزب اللہ کے Tableپر آنے کی زندہ مثال موجود ہے۔ Tableتک آنے میں ان تحریکوں نے کیا قربانیاں دی ہیں یا ان کو Tableتک لانے میں دوسری قوموں نے کیا قربانیاں دی ہیں ایک اور سوال ہے۔
کون اس بات کو تسلیم کریگا کہ ایک مسلمان عورت یہ چاہتی ہو کہ اس کا شوہر کمانے کے لئے نکلے اور ایک بم دھماکے میں مارا جائے۔کیا واقعی ایک یہودی خاندان یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچّے تعلیم حاصل کرنے اسکول جائیں اور دہشت گردی کی نظر ہوجائیں۔دنیا کا کون سا خطہ ایسا ہوگا جہاں لوگ اپنے پیاروں کو اس آگ یں جلانا پسند کریں گے۔
دہشت گردی کی Definitionکی ضمن میں ریاستی دہشت گردی کا لفظ امریکی نقادوں کی ایجاد ہے۔کیبا اور ایران، عراق، لیبیا، شمالی کوریا اور شام وہ ممالک ہیں جنہیں امریکی قیادت دہشت گردی کا الزام دیتی ہے۔میں نے امریکی ریاست اس لئے کہا ہے کہ باقی بہت سے اقوام اس امریکی الزام کو نا صرف مسترد کرتی ہیں بلکہ اس امریکی الزام کو سرے سے ہی تسلیم نہیں کرتی۔مثلاً حال میں جاری ایران کا ایٹمی پروگرام بظاہر اس نوعیت کا ہے جو بھارت کا ہے۔امریکی قیادت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہےکہ وہ دہرا معیار دے رہی ہے جبکہ امریکی قیادت اس بارے میں صرف Defensive ہے ۔اس ریاستی دہشت گردی کی اصلاح نے خود امریکی فوجی ایکشن کے خلاف ایک مضبوط رد عمل پیدا کیا ہے۔میں عراق اور افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہرگز جاءز قرار نہیں دیتا مگر دوسرے کے گھر پر حملے نے ان گھروں کو بھی غیر محفوظ بنادیا ہےجو اس میں سے کسی آگ میں نہیں جلتے تھے۔
اب تک کی گفتگو میں ہمیں اس بات کا اندازہ تو ہوگیا کہ دہشت گردی ایک انجانا خوف ہے جو تشدّد کے ذریعے نہیں بڑھا کسی بھی وقت رونما ہو ہی سکتا ہے۔کیا یہ انجانا خوف صرف نامعلوم دہشت گرد کی ہی ہوگا یا وہ طاقتیں جو دہشت گردی کے خلاف نبرد آزماہیں انجانے میں شہریوں کو بھی نشانہ بناتی رہے گی؟
کیا عراق میں یہ ہی نہیں ہورہا۔ان ساری باتوں ،تحقیق، تجربوں اور مشاہدوں کے ذریعے یہ بات عیاں نہیں ہوتی کہ ریاستیں اب تک دہشت گردی کی Defensive پر متفق کیوں نہیں ہوسکیں۔اور یہ بھی بات دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مشکوک بناتی ہے۔ابھی حالیہ STCمیں دہشت گردی اور تحریک آزادی کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے امریکی قیادت اس بارے میں ابھی خاموش ہے اس لئے کہ خود اس کے مضبوط اتحادی بھی اس کانفرنس میں تائیدی نسبت سے شریک تھے۔
کرشن صغیر لکھتے ہیں کہ تم عقلمند سیاستدانوں ، مبصروں نے یہ دنیا بہت جلادی ہے اور دنیا کو بہت دکح دے دئیے ہیں اب یہ دنیا ہم دل والوں کے سپرد کرو یقین کرو ہم مرہم رکھ دیں گے۔کہتے ہیں جب گوتھم ابھی بدھ نہیں تھا بچہ تھاایک استاد اسے تلوار چلانے کی مشق کرانے پر بار بار ناکام ہوا جارہا تھا۔ایک روز وہ جھنجنلا گیااسے گوتھم نے جو ابھی بدھ نہیں تھا استاد سے سوال کیا کہ تلوار چلانی ضروی ہے استاد نے جو نہ بدھ تھا اور نا مہاتما مگر عقلمند تھا جواب دیا کہ دشمن کو مارنے کے کام آتہ ہے گوتھم جو بدھ نہیں تھا مگر مہاتما تھا ،پوچھا کہ دشمن بناتے ہی کیوں ہیں کہ جنہیں مارنا پڑے؟مگر گوتھم کا یہ سوال آج بھی ایک جواب مانگ رہا ہے۔
دشمن بنائے جاتے ہیں کہ بن جاتے ہیں؟
کیاآزادی کے لئے جدوجہد ضروری ہے؟
کیا آزادی کے لئے کسی کو جدوجہد کی بھرپور تقرر کیجاسکتی ہے؟
کیا آج کسی ایک ریاست کو یہ کھلا حق حاصل ہے کہ وہ طاقت کہ بل پر ہر دوسری ریاست میں کوشش امن کا کردار ادا کرے؟
کیا ایران اور شمالی کوریا کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہے؟
کیا حالیہ دہشت گردی کا نشانہ صرف امریکہ ہے؟
اگر حالیہ دہشت گردی کا نشانہ صرف امریکہ ہے تو کیا اس کو دفاع کا حق حاصل نہیں؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتھادی بن جانے پر تاریخ ہمیں کس طرح شناخت کرے گی؟

Friday, 26 August 2016

راوی رات اور میں: افسانہ

راوی، رات اور میں

14 شعبان، 1400 عیسوی کی ایک قدرے خنک رات کو میں چاندنی کی ٹھنڈک میں خاموش کھڑا ہوں۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر آباد خیموں کے شہر کا آخری خیمہ ہے۔ لگتا ہے آج سارا لاہور راوی کے کنارے آجما ہے۔ گو بظاہر یہ تقریب کسی خاص فرقے سے تعلق رکھتی ہے مگر اکثریہاں تمام فرقوں کے افراد ہوتے ہیں۔ امام عصؑر کے حضورعریضے ڈالنے کی رسم نجانے شروع تو کس نے کی بہت خوب کی، نفسیاتی اور اعتقادی دونوں لحاظ سے۔ میں خیموں کی طرف مڑکر دیکھتا ہوں۔ شب برآت کی خوشی میں مسرور چہروں کے پیچھے اصل خوفزدہ چہرے نظرآتے ہیں۔ یہ ظہور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہم ایک اور ہولناک جنگ عظیم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں امن و امان کی فضا یکسر غائب ہے۔ ہر شخص اپنے تئیں غیر محفوظ ہے۔ خود میرے چاروں طرف ایک بےیقینی کی فضا ہے۔ ہم دشمن قوتوں سے اپنے حقوق کے بازیابی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابتک میرے وطن میں امن ہے مگر کیا بھول جاؤں کہ ساکن جمود طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ میں سن رہا ہوں کہ کیا میں بھول جاؤں دجال کبیر کا فتنہ موضع یہودیہ، خراسان میں اقوام متحدہ کے فوڈایڈ پروگرام سے شروع ہوچکا ہے۔ یاجوج ماجوج روس کے پہاڑوں کی ہرہر بلندی سے پھسلتے چلے آرہے ہیں۔ کفار ہند شکتی کے بہانے میرے خون کے پیاسے ہیں اور ہرے راما ہرے کرشن کی آڑ میں میری جڑیں کاٹ رہے ہیں۔
لیکن میرے ہم غم جانتے نہیں شائید۔ یہ 14 شعبان کی شب برآت کے باوجود رات کے دشمن ہیں۔ یہ کارل مارکس کی صبح کے منتظر ہیں۔ یہ روسو کی صبح کے انتظار کرنے والے ہیں۔ یہ بے جانے بوجھے رات کے دشمن ہیں حالانکہ رات تو ان کے اور دشمن کے مابین رکاوٹ ہے۔ جب اجالا پھیلے گا تو یہ لوگ چن چن کر مارڈالے جائیں گے۔ کیونکہ یہ اجالا روشن سورج سے نہیں ہوگا اور بھلا سورج کے بغیر روشنی حقیقی ہوتی ہے؟ یہ اتنا نہیں جانتے کہ دن محض برے کاموں سے دن نہیں بنتا اور رات صرف سوجانے سے مختصر نہیں ہوجاتی۔ دن کی پہلی دلیل سورج ہے مگر وہ تو ابھی غیب میں ہے۔ یہ ایسے دن کے طالب ہیں جس میں سورج کا تصور نہیں۔ یہ رات کے دشمن ہیں مگر رات اور ظلمت کے فرق کو جانتے ہی نہیں۔ یہ جاننا نہیں چاہتے کہ ہر جھوٹ میں کچھ نہ کچھ سچ شامل ہوتا ہے۔ ان کے دشمنوں نے ان کے منہ سچ سے موڑ کر اپنے طرف کرلیے ہیں۔ سچ ان کی پشت پر ہے اور اس سے نکلنے والی شعاعیں دشمن کے ہاتھوں میں موجود شفاف شعبدوں سے منعکس ہوکر ان کی آنکھیں خیرہ کررہی ہیں۔ اور یہ اتنے نادان ہیں کہ ان عکسوں کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں حالانکہ سچ ان کے زیادہ قریب ہے۔
میں خاموشی سے اپنے اطراف کا جائزہ لیتا ہوں۔ میں اپنے اطراف کا جائزہ لیتا ہوں۔ میرے چاروں طرف عفریت جیسے مسائل شیطان کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ میں ان ابلیسی جنگلوں سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔ ان مسائل کو کوئی عام آدمی حل نہیں کرسکتا۔ میں آج جاہلیت کا دھندلا سا عکس دیکھ رہا ہوں۔ گویا میں جانتا ہوں کہ ان عریضوں میں کیا لکھا جاتا ہے۔ کیسی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ان عریضوں کو پڑھ پائے تو جان جائے کہ اس نفسا نفسی کا دور آن پہنچا ہے جس سے کبھی خبردار کیا گیا تھا۔ مگر شائید ابھی کچھ عریضے ایسے ہوں جو محض خود کے لیے نہ ہوں۔ صرف کالے دھن والے ہی ان میں شامل نہ ہوں۔
میں بےچارگی کے عالم میں گھٹنوں کے بل ٹھنڈی ریت پرجھکتا ہوں۔ چاندنی مزید نکھر گئی ہے۔ میری آنکھیں بند ہوئی جارہی ہیں۔ راوی کا پانی جوش پر ہے۔ اس کی لہریں ریت پربکھررہی ہیں۔ میری شہادت کی انگلی شمال کی جانب اشارہ کررہی ہے۔ میں بڑبڑا رہا ہوں، میرے مسائل کا حل۔۔۔۔ پریشانیوں سے نجات۔۔۔۔ عجل اللہ فرجک۔۔۔۔۔۔۔عجل اللہ فرجک۔۔۔۔۔عجل اللہ فرجک
ڈاکڑ عنبر تاجور
(یہ افسانہ ماہنامہ، "تجدید نو" کی اشاعت ، سال 1982 میں شائع ہوچکا ہے)

Friday, 29 January 2016

رحمت العالمین

رحمت العالمین

میں  نے اسی روز ٹی وی پر خبر سنی اور میں سناٹے میں آگیا۔ کیا خبر تھی ۔ پہلے تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا مگر پھر علم ہوا کہ خبر بالکل صحیح تھی۔
کسی نواحی گاوں میں ایک نو عمر نوجوان نے خود اپنا ہاتھ کاٹ لیا تھا،  چارہ کاٹنے والے ٹوکے سے۔ بظاہر کسی نواحی گاوں کے کسی بھی نوجوان کی کسی بھی خبر کے ساتھ بھلا کیا تعلق ہوسکتا تھا اور ایسے کسی غیر اہم اور غیر دلچسپ موضوع پر کچھ سوچنا بھی کیا فائد ہ دے سکتا تھا۔ جہاں عام لوگ روزانہ  مکھی مچھروں کی طرح مرجاتے ہوں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں انفرادی طور پر پائی جانے والی بیماریوں سے یہاں عام لوگ ان بیماریوں سے اجتماعی طور پر مرجاتے ہوں۔  وہاں کسی ایسے نوجوان کی اس خبر میں کیا اہم ہوسکتا ہے۔ مجھے اس نوجوان کا نام تو بالکل یاد نہیں رہا۔ شائید اس لیے کہ کسی نواحی گاوں میں ایسے بہت سے غیر اہم نوجوان بستے ہیں جنہیں سانپ کاٹ لیتا ہے اور وہ ماندرے سے جھاڑ پھونک کے دوران ہی مر جاتے ہیں۔ وہاں کسی غیر اہم نوجوان کا خود سے ہاتھ کاٹ لینا کہاں قابل توجہ ہوسکتا ہے۔ یہاں تو لوگ خود اپنے اور اپنے بچوں کے ہاتھ پاوں کاٹ کر انہیں بھیک مانگنے سڑکوں پر بٹھا جاتے ہیں۔ 
تاہم جب سے میں نے یہ خبر  سنی میرے ہاتھوں میں ایک عجیب سی اینٹھن شروع ہوگئی تھی۔  میرے ہاتھوں میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس سے پہلے نہیں ہوئی  تھی۔ میں نے کئی بار اپنے ہاتھوں کو ٹٹول کر دیکھا۔ وہ دونوں ہی بے جان سے تھے۔ خبر میں نے سرسری طور رسےسنی تھی اور میں اسے ایسے ہی لینا چاہتا تھا جیسے تھر میں روازنہ مرنے والے بچوں کی خبر سنتا ہوں۔  وہاں تھر میں یہ بچے روازنہ مرتے ہیں۔ میں یہ خبر ناشتا کرتے، کھانا کھاتے، افسانہ لکھتے، ڈرامہ دیکھنے سے پہلے ، سوتے سوتے ہر وقت سنتا ہوں اور لاپرواہی سے بھلا دیتا ہوں۔ یہ بچے تو اس طرح مرتے  ہیں جیسے یہ پیدا ہی فوراً مرنے کے لیے ہوئے تھے۔ کسی کو ان کے مرنے کا کیا دکھ ہوتا ہوگا۔ کیا ان کے ماں باپ ہوتے ہیں، بھائی  بہن ہوتے ہیں۔ کیا کسی کو ان کے دنیا میں آنے کا انتظار بھی ہوتا ہے۔ بھلا گرد سے بنے ان بچوں کو جی کر کرنا بھی کیا ہے۔اسی طرح اس نوجوان کا اگر ہاتھ لگا بھی رہتا تو کیا فرق پڑجاتا۔  لیکن میرے اپنے ہاتھوں کی بےچینی نے مجھے خبر میں دلچسپی پر خوب اکسایا۔ کیا جسم اس طرح بھی ایک دوسرے سے تاثر لیتے ہیں۔
میں کچھ دیر کے لیے گاوں میں چلا گیا۔سرسوں کے ساگ کی بھینی بھینی خوشبو سے میرا مزاج رومانوی ہونے لگا۔ سردی کے موسم کی دھند میرے خیالوں کے چاروں طرف پھیل گئی۔شائید یہ واقعہ سردی کے موسم میں ہوا تھا۔ صبح کے دھندلکے میں ایک سائیہ آہستہ آہستہ نمایاں ہوا۔ یہ کرماں تھا، کرم حسین، کرم علی، محمد کرم، کرم دین، کرموں کچھ بھی۔ بہرحال یہ کرم چند ہرگز نہیں تھا۔ اس کی مسیں ابھی بھیگ رہی تھیں اور حلق کے کوئے کے بڑھنے کی وجہ سے آواز پھٹنا شروع ہورہی تھی۔ اس کی ماں صبح صبح اسے تیار کروا کے اس امید پر ملا کے پاس بھیجتی تھی کہ چار لفظ سیکھ کر اپنے باپ سے زیادہ پیسے کما سکے۔  ملا جی  کے پاس جانے کو کرمے کا بالکل دل نہیں ہوتا تھا مگر باپ کے ڈر سے اسے جانا پڑتا تھا۔ راستے میں اسے کوئی بیلی نہیں ملتا۔ اس وقت سب ملا کے پاس ہی جاتے۔ صرف وہ ہی بچتے تھے جنہیں سارا گاوں برا  کہتا۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس تو کرما جا ہی نہیں سکتا تھا۔ پہلے اسے غلیل چلانے کا بہت شوق تھا۔ کبھی کبھی کوئی چڑیا اس کے نشانے سے مار کھا ہی جاتی  تھی۔ مگر اسے بھی ملا جی نے چھڑا دیا تھا۔ ملا جی نے  لڑکوں کو بتا یا تھا کہ یہ جہان ہمارے ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنا ہے اور ہم سب کو اگلے جہان میں اللہ کے حضور جانا ہے۔ اس لیے اس دنیا سے منہ موڑ لینا چاہیے اور کسی بھی چیز سے دلچسپی نہیں رکھنی چاہیے۔ بس اللہ کو یاد رکھیں، نماز روزے کا دھیان دیں۔ مگر جب کرمے نے پوچھا کہ ملاجی اس طرح تو ہمیں گھر  گھرہستی بھی نہیں کرنی چاہیے اس  سے دنیا میں دل کھنچتا ہے۔ تو ملاجی نے بہت بڑی مسکراہٹ کے ساتھ کرمے کی تائِید کی، تاہم ملاجی بہت ناراض ہوئے جب کرمے نے حیرت سے پوچھا کہ ملا جی کا اپنا گھر ہے، دو بیویاں ہیں، درجن بھر بچے ہیں، کھیت ہیں، ہل ہے ، بیل ہیں۔ تو ملاجی نے اسی شام کرمے کی زبان درازی کی شکایت اس کے باپ سے کی۔ کرمے کی زبان تو بند ہوگئی مگر اس کا ذہن پریشان ہوگیا۔  لیکن یہ شروع شروع کی بات  تھی۔ بعد میں کرمے کا پتہ چلا کہ باقی لوگوں کی طرح وہ بھی مذہب کا ایک سچا اور سیدھا پتلا ہے جسے اس دنیا صرف اس لیے زندہ رہنا ہے تاکہ ایک روز وہ اللہ کے حضور پیش ہوسکے۔ اس کے لیے اسے زیادہ محنت نہیں کرنی بس ملا جی کی بات ماننی ہے۔ اب صبح صبح خواہ چڑیاں چہچہا رہی ہوں، بھنورے مست ہوں، تتلیاں گیت گاتی ہوں، موسم  کیسی بھی انگڑائی لے۔ اسے تو بس قران پڑھنا ہے۔ بڑے پیر کی حاضری دینی ہے۔ اور ہاں اس کی نماز قضا نہیں ہونی چاہیے۔ ملا جی نے اسے بتایا تھا بلکہ روز تاکید کرتے تھے کہ ایک وقت کی قضا نماز کی معافی ساری عمر نہیں ہوتی۔
اس روز نجانے کیا ہوا ۔ شائید رات کو کرما دیر سے  سویا۔ یا رات کو آرام سے نہیں سویا۔ یا موسم نے رات ہی رات میں سردی کی طرف بھرپور انگڑائی لی۔ اس کی آنکھ کھلی تو گرم گرم کھیس میں لیٹے لیٹےاس نے بھی نوجوانی کی انگڑائی لی۔ اسے آج سونے میں بہت لطف آیا تھا۔ اس نے اسی نشے میں سر کھجایا۔ شلوار میں ہاتھ ڈال کر ران کھجائی۔ نیم باز آنکھوں سے حیران ہوکر گھر کو دیکھا۔ ایسی روشن صبح تو کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سر واپس تکیے پر رکھا۔ کیا چیز عجیب تھی اس نے سوچا۔ اور پھر اس کے دل میں ایک گھونسا سا لگا ،ا س نے بجلی کی تیزی سے کھیس دور پھینکا اور بھاگتے ہوئے نلکے سے تازہ پانی سے منہ پر پانی ڈالا۔ کرما فجر کی نماز قضا کرگیا تھا۔ اس کا ارادہ وضو کرنے کا تھا۔ مگر اس کا ہاتھ رک گیا۔ اس کے کانوں میں ملاجی کی آواز گونجی کہ ایک وقت کی قضا نماز کی معافی ساری عمر نہیں ہوتی۔ پتہ نہیں مجھے وضو کرنی چاہیے یا نہیں اس نے سوچا۔ اب تو میں معافی کے قابل نہیں رہا۔ وہ ناشتہ کرنا اور فارغ ہونا بھی بھول چکا تھا۔ اس نے باہر جانے کے لیے کھیس بستر سے کھینچا مگر اسےواپس پٹخ دیا۔ اسی کھیس نے اسے گناہگار بنایا تھا۔ وہ ٹھٹرتا ہوا ملاجی کے مدرسے میں داخل ہوا۔سارے لڑکے واعظ سن رہے تھے۔ وہ خود کو کوستا ہوا  طیفے کے برابر میں بیٹھ گیا۔ ملاجی واعظ میں نماز کی ہی اہمیت بتا رہے تھے۔ آج تو انہوں نے کمال کردیا۔ کرما انہیں کم سن رہا تھا اور خود کوکوس زیادہ رہا تھا۔ ملاجی نے بتایا کہ جو نماز نہیں پڑھتا وہ رسالت کو جھٹلاتا ہے۔ ایسا شخص جھوٹا ہے اور جناب رسول   صلوۃ و سلام  پر ایمان نہیں رکھتا۔ یہ اطلاع کرمے کے لیے جان لیوہ تھی۔ اس کے کان بند ہوچکے تھے اور دماغ ماوف۔
اس کے کان میں ملا جی کی گرجتی آواز آئی کہ کون کون ہے جو رسول پر ایمان نہیں لایا۔
کرمے کی آنکھوں میں برسات کی ایک لڑی تھی جو رکتی نہیں تھی۔ ہرچند کہ اس روز دھوپ کھلی ہوئی تھی۔ آسمان صاف نیلا تھا۔ حد یہ کہ ٹھنڈی ہوا بھی بند تھی اور سارے کھلیان سیدھے کھڑے تھے۔ مگر کرمے کی دنوں آنکھوں سے برسات تھی کہ نہیں رکتی تھی۔ کچھ دیر میں کرمے نے محسوس کیا کہ سارا مدرسہ خاموش ہوگیا ہے اور ملا جی کی آواز بھی نہیں آرہی۔ اسے صرف اپنی ہچکیوں کی آواز آرہی تھی جو اب اونچی ہوتی جارہی تھیں۔ اس نے طیفے کو سب سے پہلے دیکھا جو انتہائی حیرت سے کرمے کو دیکھ رہا تھا۔ ایسی نظروں سے جیسے اس نے پہلی مرتبہ کرمے کو دیکھا ہو۔ پھر اس کی نظر باقی جماعت کی طرف گئی جس میں سے اکثر بے یقینی سے اور کچھ صدمے اور غصے سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ملاجی کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور جاتا تھا۔ وہ تذبذب میں تھا۔  کرمے نے سب سے آخر میں خود کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور اس کا الٹا ہاتھ ہوا میں اٹھا ہوا تھا۔
"کیا تیرا رسول پر ایمان نہیں ہے؟" خود ملا جی کی آواز میں بے یقینی تھی۔
"میں نے فجر قضا کردی!!ملاجی" کرما قریباً چیخ رہا تھا۔
"پھر تو نے ہاتھ کیوں اٹھایا  کملے" ملاجی کے اوسان بحال ہوئے، "تو کرما نہیں کملا ہے۔۔ تیرا یہ ہاتھ  تجھ سے بھی زیادہ کملا"
" مگر میرا وجود  خراب ہوگیا ہے ملاجی" کرمے کی تسلی نہیں ہورہی تھی،  " میں خود کو کیا سزا دوں کہ معافی ملے"
" اس سے زیادہ گناہ تو تیرے اس ہاتھ نے کیا ہے کملے" ملاجی پھر بولا
یہ دوسری اطلاع کرمے کے لیے اور روح فرسا تھی۔ اس کے ساتھیوں کی نظروں میں اب حقارت تھی۔ وہ مدرسے سے بھاگتا ہوا نکلا۔ اسے صرف یہ آوازیں آرہی تھیں کہ کرمے نے کیا کیا؟ہر کوئی اسے ملامت کررہا تھا۔اس کے دماغ میں اب کچھ بھی نہیں تھا۔ 
"میں نے یہ  کیا کیا؟ کیا کروں، کیا کروں؟؟؟"اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
بھاگتے بھاگتے سارے راستے میں ہر کوئی اسے کوس رہا تھا۔ وہ سارے پرندے جو راستے میں اسے روز ملتے ، درخت، کھیت کھلیان، راستے کی گرد۔ دور سے گذرتے ہوئے  بیل اور ٹریکٹر سبھی اسے کوس رہے تھے۔ وہ شام تک بیلے میں چھپا رہا اور روتا رہا۔ اسے کوئی یقین  نہیں دلا سکتا تھا کہ اسے معافی مل جائے گی۔ اسے یہ واضع ہوچکا تھا کہ نماز قضا کرکے اس نے پاک رسول صلوۃ و سلام پر ایمان کھودیا ہے اور اس کے ہاتھ نے یہ بات صاف عیاں بھی کردی ہے۔ اسے لوگوں کی آوازیں سارا دن سنائی دیتی رہیں۔
"توں کی کیتا؟"
"توں ہتھ کیوں اٹھایا"
"ایہنوں وڈھ دے"
شام تک ساری آوازیں بند ہوچکی تھیں اور صرف ایک آواز باقی تھی جو اس کے دماغ میں بس گئی تھی۔
"ایہنوں وڈھ دے"
شام کے اندھیرے میں کرما واپس گھر پلٹا۔ اس کے آنگن میں تقریباً سارا گاوں اکٹھا تھا۔ دور سے ہی سب نے اسے شناخت کرلیا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ سارے آج کے واقعے پر اس کے باپ سے جواز پوچھتے رہے ہوں گے۔ اس کے سامنے آتے ہی سب نے اسے لعن طعن کرنا شروع کردی۔ اس کے وہ سارے دوست جو ابھی تک اس کی تما م واہیات باتوں کے ہمراز تھے اسے مارنے کے درپے تھے۔ وہ خاصی دیر خاموش کھڑا انہیں سنتا رہا اس وقت تک جب تک ان کا غصہ تشدد میں بدلتا۔
" میں اس نوں وڈھ دتا ہے " اس نے اپنا کٹا شدہ ہاتھ سب کے سامنے کردیا، " اب مجھے رسول اور اللہ سے معافی مل جائے گی"
اس کا لہجہ سپاٹ اور اونچا تھا۔ محسوس ہورہا تھا کہ آج وہ بڑا ہوگیا ہے۔ سب سے پہلے ملا جی نے بڑھ کر اس کے کٹے ہوئے ہاتھ کو بوسہ دیا،
"اللہ تے اس کا رسول اب تجھ سے راضی ہیں"
میں یہ خبر سنتے سنتے غنودگی میں چلا گیا۔ میرے خواب میں رحمت العالمین صلوۃ و سلام کھڑے تھے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ان کے ہاتھ دعا کے انداز میں بلند تھے اور وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا تمہارے یہاں میرے رحمت ہونے کا یہی مطلب  ہے"

ڈاکٹر عنبر تاجور

Saturday, 4 October 2014

استاد نے کہا

ہم استاد کے پاس پہنچے تب وہ آسمان کو تکے جارہا تھا۔ ایک ٹک اور خاموش۔ اس نے ہمیں آتا دیکھ کر سر نیچا کرلیا اور ہماری طرف دیکھا۔ ہم نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو خالی تھیں ۔ بالکل خالی۔ 
ہم نے استاد سے پوچھا کہ یہ آنکھیں خالی کیوں ہوتی ہیں
استاد نے کہا، مورکھ آنکھیں خالی نہیں ہوتیں، من خالی ہوتے ہیں۔ اگر من میں جلن ہو تو آنکھیں جلتی ہیں شعلے برساتی ہیں۔ من ناچتا ہو تو آنکھیں چنچل ہوجاتی ہیں۔  من سوچتا ہو تو آنکھیں چپ سادھ لیتی ہیں۔ لگتا ہے خالی ہیں۔ 
وہ کہتا رہا
پتہ ہے یہ سب لگن ہے۔ چپ سادھ بھی ایک لگن ہے۔ اپنے سے ملنے کی تڑپ ہے۔ اصل سے بچھڑنے کا غم ہے۔ سب لگن ہے۔ دھک سھک کرتا من بھی اصل کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ شریر میں دوڑتا لہو بھی اصل کی تڑپ میں بھاگتا ہے۔ یہ دھرتی، یہ ساگر۔ یہ امبر، سب اصل کی طرف بھاگتے ہیں پر مورکھ جانتے ہی  نہیں کہ سب گول گول گھومتے ہیں، کہیں نہیں جاتے۔ اصل ان کے بھیتر ہے، وہ اپنے کو کہیں باہر کھوجتے ہیں، اس لیے گول گول گھومتے ہیں۔ پھر تھک کر گر جاتے ہیں،کہتے ہیں یہ جیون تھا، اب انت ہوا ہے۔ میں کہتا ہوں اب شروع ہوا ہے۔ تم گول گھومتے گھومتے اپنے جیون میں چھید کرچکے تھے اور اب اس چھید میں پھنس چکے ہو۔ چھید سے نکلنے کے واسطے گول گھومنا بند کرنا ہوگا۔ تم ہی بتاو یہ جیون کا انت ہے یا شروع؟
جلن، پیار، دھکاوا، بھلاوا، پکار سب ایک طرح سے لگن ہے۔ مگر یہ لگن چھید کرتی ہے۔ ایسی لگن ہے جو گول گھوماتی ہے کہیں جانے نہیں دیتی ہمیشہ اپنے پاس رکھتی ہے اسی لیے چپ سادھ بھی ایک لگن ہے، ہمیشہ دوسرے کو اپنے بھیتر آنے دیتی ہے۔ سب کو انہیں سے ملا دیتی ہے۔ ایسے من خالی ہوجاتا ہے، کہیں انت نہیں ہوتا۔ اس لیے آنکھیں خالی دکھتی ہیں۔ جلن ہو تو آگ برساتی ہیں، دکھ ہو تو راکھ ۔
بات چپ سادھ کی ہے۔