Research

Know the Truth of your Faith

Tuesday, 20 June 2023

چاندنی کے بھوت


چاندنی کے بھوت

گرمیوں کی سہ پہر میں کچے صحن پر چھڑکاؤ ہوجاتا تھا اور کھری چارپائیاں بچھا دی جاتی تھیں۔ مٹی کی سوندھی خوشبو ہمارے بچپن کو اس لیے بے چین کردیتی تھی کہ اب دادی ماں سے کہانی سنیں گے۔ شام کے شروع ہوتے ہی صحن میں بنے ہوئے گرمیائی چولہے پر بوا سالن چڑھا دیتی تھیں۔ چولہے کی دھندلی آگ اندھیرے کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی جاتی اور ہماری بےچینی بڑھتی جاتی۔ ہم بار بار دادی ماں سے پوچھتے کہ کہانی کب سنائیں گیں؟ کبھی کبھی تو ماں جی ہمیں ڈنپٹ دیتیں کہ دادی کو زیادہ تنگ نہیں کرو۔
سچ پوچھو تو کہانی سننے تک رات کے کھانے میں بھی مزہ نہیں ہوتا تھا۔ سرشام ہی کھری چارپائیوں پر سفید چاندنیاں اور خوب موٹے تکیے لگا دیئے جاتے۔ رات ہونے تک چارپائی پرسفید چاردیں ٹھنڈی ہوجاتیں۔ رات کے کھانے کے بعد ہی جب بڑے موڑھوں پر بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے تو ہم اس وقت تک بڑوں کی گھرکیوں کے باوجود تکیوں سے ایک دوسرے کو مار مار کر ادھ موئے ہوچکے ہوتے۔ بوا بے چاری چادریں ازسرنو سیدھی کرتی۔ بہت زیادہ تنگ ہونے پر کبھی کبھی دادی کو وقت سے پہلے ہی کہانی سنانے کا مشورہ دیا جاتا۔
کہانی سے پہلے روشنیاں ضرور گل ہوجاتیں۔ کہانی سناتے ہوئے دادی کی ایک شرط ہوتی کہ ہنکارہ تو بھرو۔ یعنی کہانی کے دوران ہوں ہاں تو کرتے رہو۔ اب احساس ہوتا ہے کہ ہماری بے چینی سے دادی کو موٹیویشن ملتی تھی۔ دلیر شہزادے، رحمدل بادشاہ کی حسین اور نازک شہزادیوں کو خوفناک دیو اور ظالم جادوگروں سے آذاد کروانے کی تڑپ پیدا ہوتی یا اپنے سے زیادہ طاقتور عفریت سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ دادی جب کہانی سناچکتیں چاروں طرف پھیلی چاندنی میں اپنا ہی گھر کسی دیو کا سیاہ قلعہ بن جاتا۔ ہم اپنی چارپائی کو ہی اڑن قالین بنا لیتے اور کچھ ہی دیر میں یہ قالین جھاڑو والی جادوگرنی کا پیچھا کررہا ہوتا۔ اندھیری راتوں میں آنگن میں کھڑے شیشم اور نیم کے بڑئے بڑئے درخت خوفناک دیو بن جاتے۔ کئی مرتبہ بکریوں کے گھنگرو پریوں کی پائیل کی آوازوں میں ڈھل جاتے اور راجہ اندر خود پریوں سمیت ہمارے آنگن میں آاترتے۔ کئی مرتبہ ظالم جادوگر شیشیم کے درختوں سے اتر کر ہماری چارپائی پع آدھمکتا تو خوف کے مارے گھگھی بندھ جاتی اور پیشاب کرنے بھی اماں کا ہاتھ تھام کر ہی جاتے اور اس دوران بھی ادھر ادھر چڑیلوں کے حملے سے ہوشیار رہتے۔
آج ہم جانتے ہیں کہ پریاں، دیو، جادوگر، چڑیلیں کہانیوں میں بستے ہیں۔ یہ کہانیوں میں ہی رہتے ہیں اور کہانیوں سے نکل آئیں تو پریاں اور چڑیلیں دونوں ہی مرجاتے ہیں۔ کہانیاں تخیل سے جنم لیتی ہیں اور تصور کو بناتی ہیں۔ یہی تصور بعد میں حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔ نیل آرم آسڑانگ نے چاند پر پہنچ کر پہلا جملہ یہی کہا تھا،
"ہیلو دادی ماں میں تمہارا چرغہ ٹھیک کرنے آیا ہوں"
اپنے بچوں کے تخیل کو ہرگز مت ماریے۔ انہیں کہانیاں سنائیے۔ ان کا بچپن حقیقی دنیا سے ماورا آباد ہونا چاہیے۔ یہی تخیل انہیں اپنا تصور بنانے میں مددگار ہوگا۔ ممکن ہے کوئی کارل سیگال پیدا ہو۔ ممکن ہے ظالم دیو کو سر کرنے کی دھن میں وہ سماج کی غربت دور کرنے میں دلیر شہزادے کا روپ بھرلے۔ ہوسکتا ہے کہ حسین شہزادی کی آس میں برادری کے دیو کو خاتمہ کردے۔ ممکن ہے کوئی ہینسل ظالم ریاست کی قید میں اپنے بھائی گریٹل کو آزاد کروا لے۔ ممکن ہے ممکن ہے۔
بس کہانیوں کو زندہ رکھیں۔

اقوام عالم ور گلوبل ولیج کا تصور



اقوام عالم ور گلوبل ولیج کا تصور

میں کہیں جارہا تھا کہ میں نے نہر کے کنارے لوگوں کا ہجوم دیکھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پانی میں ڈوب رہا ہے وہ شخص پانی میں ابھرتا تھا کھلی کھلی آنکھوں سے لوگوں کو تکتا تھا اور پھر ڈوب جاتا تھا۔لوگ شور کر رہے تھےہاتھ دو ہاتھ دو ہم تمہیں کھینچ لیں گے مگر وہ تھا کہ کھلی کھلی آنکھوں سے دیکھتا تھا اور ڈوب جاتا تھا ۔اسی دوران بحیڑ کو چیرتے ہوئے ملا نصیرالدین نمودار ہوئے '' آہ!میں اسے جانتا ہوں ''وہ بولے۔یہ فلاں جگہ کا مالدار شخص ہےیہ کہہ کہ وہ نہر کہ اندر جھکے اور کھینچ کر ڈوبتے ہوئےشخص سے گویا ہوئے۔''یہ لو پکڑو اور کھینچ لو''اس شخص نے فوراً ملا کا ہاتھ پکڑا اور کھےنچا تو کنارے پر آگیا۔لوگوں نے ملا کی تعریف کی۔میں نے ملا سے پوچھا ''حضرت یہ کیا بول رہا تھا''ملا بولے ''میں اس کو جانتا ہوں۔یہ بہت مالدار شخص ہے۔کبھی کسی کو کچھ نہیں دیتا۔لوگ اس سے ہاتھ مانگ رہے تھے۔میں نے اس کو ہاتھ دے دیا
مالدار اقوام بھی ایسا ہی کرتی ہیں۔
مسلہ کشمیر میں یہی بہت اہمیت کی بات ہے۔ کون مالدار اقوام کو زیادہ مال دے سکتا ہے۔ مال یا ایسا فائدہ جو مال دے سکے، ایک ہی بات ہے، مال ہی ہے۔ صدر ٹرمپ ایک کامیاب اور زیرک کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ ان کا ملک مغربی دنیا کی ۷۰ فیصد سے زیادہ معیشت سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ جو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، وہی سب دیکھتے ہیں، سنتے ہیں اور درست سمجھتے ہیں۔ انہیں ثالثی کا خیال آیا ہے، سب کو آیا ہے۔ اس ثالثی میں بھارت انہیں ایک بہت بڑی منڈی بے بھاؤ دینے کو تیار ہے۔ پاکستان کیا دے سکتا ہے؟ بےحد غور کرنے کی بات ہے۔ انہیں پاکستان کیا دیتا نظر آیا ہے؟ پاکستان اپنی منڈی چین کو دے چکا ہے اور کیا دے سکتا ہے؟ کیا ڈھائی ارب کی آبادی کی منڈی کا ناراض کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسی شکست جو پاکستان کا پلہ بھارت پر بھاری کردے، ممکن ہوگی؟ کیا جنگ میں کشمیر لینے کا مطلب بھارت کی ۲۴ ڈویزن فوج کو شکست دینے کے مترادف نہیں ہوگا؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ خام خیالی جتنی بھی کی جائے حقیقت نہیں بن سکتی۔
مجھے نظر آتا ہے کہ ثالثی میں مکمل کشمیر، کنٹرول لائن کے دونوں اطراف، بشمول لداخ ۲۰ سال کے لیے اقوام متحدہ کی حفاظت میں دے دیا جائے تاکہ "استصواب رائے" کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔ اقوام متحدہ کی مشترکہ فوج مغربی ممالک پر مشتمل ہو۔ یہ تعیناتی چین کو آسانی سے مانیٹر کرسکے گی۔ یہی "آسانی" پاکستان، صدر ٹرمپ کو دے سکتا ہے۔
مالدار ''قوم'' قوم وہ لفظ ہے جسے شاید آج کسی Definition کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔جب بھی گروہ انسانی کہیں پر بھی یکجا ہوا ہے اس نے کسی بنیاد پر خود دوسرے موجود گروہوں سے خود کو الگ تصور کیا ہے۔مذہب بھی اس بات کا شاہد ہے۔آدم کے دو بیٹوں کا قصہ تو اب بچوں کو بھی ازبر ہے۔ظاہر ہے کہ جب افراد کا ایک گروہ کسی خاص بنیاد پر اکھٹا ہوجائے تو وہ دوسرے گروہوں سے خود کو شناخت کرنے کا بھی طلب گار ہوگا۔تاریخ مرقوم ہونے سے ہت پہلے سے جب حصہ کیا بچوں کو پڑحا جانا ہے تب بھی قوم کا تصور موجد رہتا تھا۔تاہم اس وقت شاید اس لفظ کو Exclusive کرنے کی اس قدر شدید ضرورت نہیں رہی ہو جس قدر آج ہوچکی ہے تاریخ میں ہمیں قوم کا تصور اپنے اصطلاحی معنوں میں سب سے پہلے یونان تہذیب میں ملتا ہے۔وہ لوگ ایک علاقہ میں ،ایک لباس میں ، ایک رنگ ،ایک تمدّن اور ایک زبان بولنے والے مختصر افراد تھے۔ اپنے علاقے کے علاوہ دیگر علاقے ان کی نظر میں قابل توجہ نہیں تھے۔باہر کے علاقے میں صرف علاقوں کے حصول کے لئے مہم کشی کی جاتی تھی۔پھر ضرورت کے تحت افراد زیادہ ہوتے گئے اور افراد کے لئے وسائل کی کمی ہوتی گئی لہذا ان لوگوں کی طرف نظر اٹھی جو ان وسائل کو استعمال کر رہے تھے جن کی ضرورت یونانی قوم کو تھی۔لہذا وسائل کے حصول کے لئے یونانی قوم ور غیر قوم ووجود پذیر ہوئیں۔یونانی قوم اس سے قبل بھی تھی لیکن امتیاز صرف''شہری'' اور ''غلام'' میں تھا غلام کو قوم کا حصہ خیال نہیں کیا جاتاتھا۔اسوقت شاید قوم اور شہری ہم معنی خیال کئے جاتے ہیں۔لفظ ''قوم'' Nationبہت بعد کی پیداوار ہپے۔قوم میں ''ضرورت وسائل'' کے لئے مفادات جنم لیتے رہے اور افراد میں اضافہ ہوتا رہا۔
میں اس گفتگو میں ابن فاران کی بیان کردہ اصطلاح ''عمیت''کو استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ان کے خیال میں قوم کی تشکیل میں ''عمیت'' ہی واحد عنصر ہے۔عمیت میں پوشیدہ وہ عنصر بھی شامل ہیں جو ایک قوم حسد یا رشک کی بنیاد پر دوسری قوم سے رکھتی ہے۔عمیت کے اس عامل سے مسلم حکمرانوں اور ملائیت نے مسلم حمیت کے نام سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔اور مشترکہ مفادات کی یہ کونسل، حکومت، ملائیت اور دولت آج بھی فاءدہ اٹھا رہی ہے۔تاریخ کے ادوار کا پیہم مسلم حکمرانوں کے عروج کو کچلتا ہوا آگے بڑھ گیا ہے۔مگر مفادات کی آئینی طوق قوموں کی گردنوں سے کب اترسکے گاکوئی نہیں جانتا۔ اقوام کی شناخت کا مرحلہ ایشیاء کے بعد یورپ میں بھی دوبارہ کھڑا ہوگیا۔کوئی سلطنت کے زوال کے بعد عطاردے اپنے تمام تر علمی ذخیرے کے ساتھ قسطنطنیہ سے بھاگ کر وہاں جاکر براجمان ہوگئے۔علم میں ایک بڑی مصیبت ہے روشنی کی طرح وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔یہی کچھ یور پ میں ہوا۔عین 1415ء کی بات ہے ادبی علم کہ وہ علم کہ جو ایشیاء کو منور کرچکا تھا۔یورپ میں سرائیت کرگیا۔یورپ میں احےائے علوم اور احےائے سخن سے تحریکوں نے ایک نئی روح پھونک دی۔اقوام کی شناخت کا مرحلہ شروع ہوا قومی مفادات کی کونسل نے بھی ایک کام شروع کردیا۔یورپ میں اقتدارکی ہوس،دولت کی تقسیم، مذاہب کی تنظیم نو اور ادب نے معاشرے میں ایک Clair Reactor شروع کردیا۔وہ علوم جو ادبی علماء نے خود تک محدود کئے ہوئے تھے۔یورپی زبانوں میں مدون ہوئے اور عوام الناس تک پھیل گئے۔علاقوں کی جغرافیائی حیثیت اور انفرادی تقاضوں کے درمیان سرحدوں کا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ سلطنتوں، قوموں، زبانوں اور مذاہب کی جغرافیائی، عقلی اور جذباتی تقسیم شروع ہوگئی۔یہ الزام دیا جاسکتا ہے کہ علوم کی آمد نے معاشرتی کھنچائو پیدا کردیا مگر یاد رکھئیے کہ علوم جہاں معاشرتی تقاضوں کو پورا کرتے ہیںوہاں کم علمی جذباتیت میں پیدا ہوتا ہے۔علم کو جب تک مقید رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے معاشرتی بہائو یکساں سست رفتار ہی کے ساتھ ایک سفر میں جاری رکھتا ہے۔
اقوام کی سیاسی تاریخ کے جدید دور دوسری عالمگیر جنگ کے بعد شروع ہوتے ہیں۔جہاں قوموں کا عروج وزوال ، تاریخی پس منظر کی تحقیق، نظریات اور طاقت و مفادات کے حصول کے ذرائع سبھی تبدیل ہوگئے۔ گو معاشیات انسانی تاریخ کے اولین قدم سے لیکر آج تک غیر اہم کبھی بھی نہیں رہی۔ تاہم دوسری عالمگیر جنگ کے بعد معاشیات نے وہ اہم حیثیت حاصل کرلی۔جس نے معک آتی بہائو کے دریا کا رخ ہی تبدیل کردیا۔ چند دہاءِوں قبل اورک برائیس نے قوم کے لفظ کو نیا آہنگ دیا یا یوں کہیئے کہ جہاں دوسری عالمگیر جنگ نے نسل انسانی کو قتل کیا وہاں جغرافیائی ،مذہبی، لسانی بنیادوں پر قائم اقوام ان سرحدوں کو پائمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب بھی آئیں۔ان میں باہم اختلاف پیدا ہوا۔یہ بات تو اب صد فیصد ثابت ہے کہ دوسری عالمگیر جنگ صرف اور صرف معاشیات کے دبائو پر کری گئی۔تاہم مذہب کو اب بھی اس بات پر یقین ہے کہ دوسری عالمگیر جنگ معاشیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ نسلی بنیاد پر لڑی گئی۔بڑی سادہ سی بات ہے اگر دوسری عالمگیر جنگ نسلی بنیاد پر لڑی گئی ہوتی تو UHO وجود میں نہ آتی۔تاہم یہ بات بہت حیرت کی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں دنیا میں وہ اہم اور نمایاں عمل کاری وجود پذیر ہوئی۔ایک UHO کا قیام اور دوسری نسلی بنیاد پر اسرائیل کا قیام۔کہاں UHO ، نسلی بنیاد پر لڑی جانیوالی جنگ کے بعد نسلی رد عمل کو روکنے کے لئے وجود میں آئی ہو اور کہاں خود UHO کے بڑوں کے جھندے تلے نسلی بنیاد پر اسرائیل کا قیام۔معدوم انسانی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے۔اس کے سرسری جائزہ سے اس بات کا علم ہوجاتا ہے۔کہ گروہ اپنی اعزازئیت کو کھودینا نہیں چاہتے۔قوموں کی تشکیل بے خودی میں پروان چڑھے تمدن سے ہوتی ہے۔اس میں شعوری کوشش کا معمولی حصہ ہوتا ہے جو مسلسل متغیر اور مستعدی رہتا ہے۔ادرک برائیس کی اصطلاحی تفسیر سے قطع نظر قوم صرف علاقہ، لسان، رنگ، نسل وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بنتی،مشترکہ مفادات کی بھی قوم ہوتی ہے۔فرق صرف اتا ہے کہ عام روایتی اقوام جو علاقے، زبان، رنگ ونسل کی بنیاد پر قائم ہوجاتی ہیں۔عیاں میں اور نظر آتی ہیں۔مشترکہ مفادات کی کونسل بظاہر نظر نہیں آتی۔مشترکہ مفادات کی کونسل ہر شخص قوم کی خاص علاقہ، زبان یا رنگ سے نہیں بنتی۔اس کا اقتدار اعلیٰ تمام اقوام سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اس قوم کے افراد میں ایک خاموش مگر قاتل ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔انسانی تاریخ کے اس منظر میں چند نہایت اہم سوالات اٹھتے ہیں۔ جن کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔مگر آج کی تمدن دنیا کو کیا واقعی شعوری کوشش کے ذریعے ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کردینا چاہئیے؟کیا ایک قوم خود کو برتر اور بہتر گردانتے ہوئے دیگر تمام اقوام کو ایک چارٹر کے ذریعے ایک گلوبل ویلیج میں رہنے پر بزور مجبور کرنے میں حق بجانب ہوسکتی ہیں؟ ایسے گلوبل ویلیج کی شعوری کوششیں معاشی بنیاد پر ہیں یا نسلی بنیاد پر ؟ یہی وہ سوال ہیں جن کا جواب ابھی اقوام عالم سے آنا باقی ہے۔
اس زمانے نے بہت جید اور عظیم علماء پیدا کئے۔عقلی اور فکری رجحانات جو بے مہار تھے ان کو نظم وضبط میں کردیا گیا۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلہ کن اور مطلق الفان فیصلوں کی راہ میں واضح اور مدلل توجیہات مرتب ہوئیں۔زمانوں اور تجربات نے معابر، روسو، ادک جیسے علمائے سیاست نے ''اقتدار علمی''کا لفظ سیکھا ور سکھایا۔ اقتدار علمی کے لفط کی وعیان کے ساتھ ہی حکمرانوں نے طاقت، دولت اور ملائیت نے خدا کے نام اور اختیار سے پوری کی پوری اقوام کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا۔عیسائیت اور اسلام دونوں جغرافیائی حصوں میں تقسیم ہوئےاور ان سرحدوں میں موجود اقوام کے درمیان مفادات کے بچائو اور حصول کی کشمکش کا آغاز ہوگیا۔ اس ضمن میں دنیا مفادات کا تحظ کرتے ہوئے عالمگیر جنگوں سے آلودہ ہوئی۔غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن، وہی سوچہ ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن۔۔۔۔۔۔
کیا شعوری کوشش سی صرف ایک قوم کے معاشی اقدار کو تحفظ دیا جائے اور تمام دیگر معاشرتی اقدار کو تباہ ہونے دیا جائے؟ کیا دیگر قوموں کے معاشرتی اقدار کو بھی تحفظ دینے کا حق حاصل ہونا چاہئیے؟

کتے کی موت


کتے کی موت


یہ جو کسی انڈین منسٹر نے کشمیریوں کی اموات کو "کتے کی موت" قرار دیا ہے، انہوں نے خود اپنے مذہب اور مہابھارت کے سپوتوں کی توہیں کی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ کتا کیا ہے؟ مہابھارت کی ساتویں ادھیا میں جب پانڈو بھائی اپنی ارضی ذمہ داریاں پوری کرکے جب سمیرو پہاڑ پر چڑھ رہے تھے تو سب سے آگے یدھشٹر چل رہا تھا۔ اس کے پیچھے بھیم، ارجن، نکل، سہدیو اور دروپدی چل رہے تھے۔ راستہ یخ بستہ اور نہایت دشوارگزار تھا۔ اچانک پیر پھسلا اور دروپدی ہزاروں فٹ گہرائی میں گر گئی۔ یدھشڑ بڑبڑایا کہ دروپدی پانچوں بھائیوں کی بیوی تھی مگر وہ ارجن سے زیادہ پیار کرتی تھی اس لیے ایسے گری ہے۔ کچھ دنوں بعد سہدیو گرا ، یدھشڑ بڑبڑایا کہ سہدیو کو اپنے عقلمند ہونے کا بہت گھمنڈ تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد نکل گرا، یدھشڑ بڑبڑایا کہ نکل کو اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا، پھر کچھ دنوں بعد ارجن گرا، یدھشڑ بڑبڑایا کہ وہ بہت شیخی باز تھا اور وچن دیا تھا کہ سارے دشمنوں کو ایک ہی دن میں ختم کرے گا لیکن نہیں کرسکا۔ پھر کچھ دنوں بعد بھیم گرا، یدھشڑ بڑبڑایا کہ تم اس لیے گرے ہو کہ تمہیں اپنے طاقت پر بہت غرور تھا اور تم بہت پیٹو تھے اور تمہیں اپنے دشمنوں سے خوب نفرت تھی۔ ابھی یدھشڑ کچھ ہی دور چلا تھا کہ اندر دیوتا اپنے رتھ میں نمودار ہوئے اور اسے بتایا کہ اسکے سارے بھائی اور دروپدی سؤرگ (جنت) میں پہنچ چکے ہیں۔ چنانچہ یدھشڑ کو وہ اپنے ساتھ لیجانے آئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حالانکہ یدھشڑ نے کتا پالا ہے چنانچہ وہ جنت کا حقدار نہیں بنتا لیکن اگر وہ اس کتے کے بغیر رتھ میں سوار ہوجائے تو اسے جنت لے جایا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ کوئی کتا جنت میں نہیں جاسکتا۔ مگر یدھشڑ ، جو رتھ میں سوار ہوچکا تھا چھلانگ لگا کر رتھ سے باہر آگیا۔ اس نے اندر دیوتا کو بتایا کہ کس طرح اس کتے نے سفر کے دوران پانڈو بھائیوں سے وفا داری نبھائی ہے، اپنی جان کو پانڈو بھائیوں کے لیے زخمی ہوا ہے، وحشی درندوں سے لڑا ہے، اس لیے وہ جنت کی بجائے اس کتے کے ساتھ رہنا پسند کریگا۔ جونہی یدھشڑ نے یہ کہا وہ کتا غائب ہوگیا اور اس کی جگہ موت اور انصاف کا "یم" دیوتا آموجود ہوا۔ دیوتاؤں نے یدھشڑ کو بتایا کہ وہ اس امتحان میں بھی کامیاب ہوا ہے اور اسی وقت یدھشڑ نے خود کو جنت میں کھڑا پایا۔
یہ کہانی میں نے مہابھارت کے سب سے مستند نسخے، "پونا کی مہابھارت" سے لیا ہے۔ پونا کی مہابھارت، "پربھارکر تحقیقی مرکز، پونا" سے نقل کیا ہے۔ ۲۷ جلدوں میں مہابھارت کا یہ نسخہ ۳۹ سال کی تحقیق کے بعد تیار ہوا۔

وادی، رات اور ہم

میں اس سنسان وادی میں اکیلا ہی تھا۔ مجھے ملنے کے لیے علاقے کا فارسٹ آفیسر اور زرعی افسر اکھٹے آئے تھے۔ میرا مقامی دوست انہیں مجھ سے ملانے والا تھا جنیں سبھوں کو آنے میں دیر ہوگئی تھی اور اندھیرا پھیل رہا تھا آج رات کی چاندنی بہت روشن تھی۔ آسمان بہت واضح تھا اور روشن ستارے چاندنی کی وجہ سے مدہم پڑ چکے تھے۔ طویل وقت سے میں نے ایسی صورت حال کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ برسوں پر محیط اس قسم کا منظر، آج رات اچانک میرے سامنے نمودار ہوا تھا۔
مجھے آسمان تکتے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ سات ستاری جھرمٹ کو چمکتا دیکھنے کے لیے براہِ کرم کسی کھلی وادی میں جائیں۔ یہاں بہت آبادی ہے۔ لیکن دنیا کی خاک کبھی ختم نہیں ہوتی آبادی بڑھانے کی مشق اس کا سیدھا ثبوت ہے۔ انسانوں کی دنیا میں، جب بھی میرا پیچھے ہٹنے کا دل ہوتا ہے، میں خود کو کیچڑ میں دھنسا ہوا سمجھتا ہوں اور تمام مخلوقات میں قدرت کے بارے میں سوچنے کے علاوہ مدد نہیں کرسکتا۔  کیچڑ کے بغیر کنول نہیں اگتا۔ نیچر کو کیسے بغیر جذباتی ماحول کے حاصل کر سکتے ہیں؟ صرف اس طرح تمام دکھ اور خوشی امرت بن جاتی ہے۔
جب لوگ ماہر بننا چاہتے ہیں۔  ہر روز کی نئی سوچ کے ذریعے میں اندر کی پیچیدہ دنیا کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار بھی کرتا ہوں۔  اگر آپ پرسکون ہو جائیں تو آپ اپنے ایک نئے ناقابل یقین چہرے کا مشاہدہ کریں گے۔ خاص طور پر ایسی ویران وادی میں یہ بہت مختلف محسوس ہوتا ہے۔  ذہن کی دنیا ایک چھوٹی سی کائنات ہے لیکن یہ بہت پیچیدہ بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زندگی بھر اس کا علم نہ ہو سکے، یا یہ ایک لمحے میں روشن اور مکمل ہو جائے۔
 کائنات ایک ہی ہے۔  یہ سیارے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟  کائنات میں کون سی دنیا چھپی ہے؟  ہر ستارے میں کیا ہے؟ زمین نے کیا کردار ادا کیا؟  زمین ہوا میں معلق ہے؟ زمین کو کون گھماتا ہے؟  زمین کی گردش کس کے اختیار میں ہے؟
 اس وقت میرا ڈائری لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں، میں روشن ستارے دیکھ رہا ہوں، اپنی سوچ کو مکمل طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ کائنات کی حقیقت سے متوجہ، درحقیقت وسیع کائنات میں، زمین صرف ایک چھوٹی سی نیلی  گیند ہی تو ہے۔ لیکن یہ نیلی گیند بے شمار مخلوقات پر مشتمل ہے۔  جذباتی انسانوں کی قسمت، اتار چڑھاؤ، خوشیاں اور غم، محبتیں اور نفرتیں، سب اسی نیلے نقطے پر پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں۔ میرا مقدر نعمتوں کی سرزمین ہے، جو میں اب کر رہا ہوں، کیا یہ قدم قدم پر سنہری کنول ہے؟ جو بے کیچڑ کے پیدا ہوا ہے؟
 غور کرو، غور کرو، ہر چیز کا سراغ لگاؤ، کیا تمہارا دماغ خالی ہے؟ پاک سرزمین پر واپس آ جاؤ۔ ہرچہ باد آباد۔

یہ مرض لاعلاج نہیں

پتہ چلا کہ یہ وہ بیماری نہیں ہے جس کا علاج نہیں ہو سکتا، یہ جذبات ہے۔

فقرہ "غصے سے پیٹ میں درد" اب کوئی مبالغہ آمیز طنز نہیں ہے، بلکہ جسم کے جذبات کا حقیقی ردعمل

درحقیقت، پیٹ کے مسائل جسم پر جذبات کے اثرات میں آئس برگ کا صرف ایک سرہ ہیں۔ جب آپ کو پہچانا نہیں جاتا ہے، آپ کو اپنے چھپے ہوئے پہلو کے دریافت ہونے سے ڈر لگتا ہے، آپ ناواقف لوگوں کو ہیلو کہنے سے ڈرتے ہیں، آپ براہ راست دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کرتے، اور آپ خود کو کھولنے کی ہمت نہیں کرتے... گھبراہٹ، افسردہ ، خوفناک، خود سے انکار کرنے والے جذبات کو وہاں ذخیرہ کیا گیا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈپریشن، سماجی گھبراہٹ اور یہاں تک کہ آٹزم کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ لوگ کبھی نہیں تھکتےصرف وہ لوگ جو اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔جب ہمارا ذہن سمندر کی طرح وسیع ہوتا ہے تو ہمارے جذبات سمندر کے ایک چھوٹے سے بلبلے کی طرح ہوتے ہیں، جو اٹھتے ہی مر جائے گا، طوفان بننے کے لیے کافی نہیں۔ دماغ کی عظمت اپنے اور بیرونی دنیا کے درمیان مفاہمت اور انضمام سے آتی ہے۔ جسم اور دماغ متحد ہیں، دل کھلا ہے، اور جسم جڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیے لوگ تھکن سے نہیں مر سکتے لیکن صرف سانس کی کمی سے۔ جسمانی صحت صرف ورزش سے نہیں آتی۔ جب آپ اپنے دل کو کھولیں گے اور مثبت توانائی کو اندر آنے دیں گے، آپ صحت مند رہیں گے۔ جب ہم اپنے عمل میں کافی مضبوط نہیں ہوتے ہیں، تو ہم اکثر جذبات اور خیالات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے عمل اور خیالات کا ایک سا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت، آپ دیکھیں گے کہ "جذبات" سے نمٹنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا اور آپ کو ملنے اور ساتھ رہنے کے مراحل سے گزرنا چاہیے۔

پہلا مرحلہ: "آگاہی" 

جب "انا" نسبتاً سنجیدہ ہوتی ہے، تو دوسروں کی طرف سے ایک لفظ یا ایک نظر ہمیں مزاحمت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اور غصے میں بھی آ جاتی ہے۔ تناؤ بھرا جسم، سانس بند سینے یا گرم کان اور سر پر وزن؛  یہ سب سرگرمی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارا تصادم بڑھا دیتے ہیں۔

آرام کرنے کی کوشش کریں اور اس حالت سے آگاہ رہیں۔

یہ ٹھیک ہے، آپ کو پہلے اس جذبے کے وجود سے آگاہ ہونا چاہیے، جس میں آپ کے جسم کے کسی بھی حصے میں ہوا کے بہاؤ کا واضح اشارہ شامل ہے، اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس وقت جذبات سے متاثر ہوئے ہیں۔

راز: جتنی تیزی سے ہم اپنے جذبات سے واقف ہوں گے، اتنی ہی تیزی سے ہم ان سے باہر نکل سکتے ہیں۔ آئندہ فیصلہ سازی اور رویے جذبات سے کم پریشان ہوں گے۔ 

یہ ایلما کی ایک تکنیک ہے کہ فریبی خیالات سے مت ڈرو، صرف آگاہی میں دیر ہونے سے ڈرو۔

جب آپ اس ابتدائی مرحلے پر ہوتے ہیں تو آپ 'جذباتی بیداری' کی تربیت کیسے کرتے ہیں؟ چاہے وہ خاموشی سے بیٹھنا ہو، مراقبہ کرنا ہو، منتروں کا جاپ کرنا ہو، آیات کی تلاوت کرنی ہو، سانس لینے کا مشاہدہ کرنا ہو، بیداری پیدا کرنا ہو، یا کانوں یا سانس پر توجہ مرکوز کرنا ہو، مقصد یہ ہے کہ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کی جائے، اس لمحے کی ہر حرکت کو واضح طور پر جانا جائے چنانچہ یہ کیسے ہی کریں بس طویل عرصے تک اپنی اس بیداری کی تربیت کی صلاحیت کو جتنا لطیف اور تیز کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ 

دوسرا مرحلہ: ساتھ رہنا؛ یا "جذباتی نظم" حاصل کرنا۔

اس حالت کے نوٹس لینے کے بعد اس کا خیال رکھیں۔

جب "جذبات" آپ کو للکارنے کے لیے تیار ہو، اور آپ تھوڑی سی کوشش کے ساتھ "جذباتی" ردعمل سے باہر نکل جائیں، تو اسے مزاحمت یا دبانے کی کوشش نہ کریں، اسے آنے اور جانے دیں۔ اگر آپ اس چال کو قبول نہیں کریں گے تو یہ آپ کے خیالات میں الجھ جائے گی، اور آپ بار بار اپنے آپ کو یا دوسروں کا فیصلہ کرنے لگیں گے، یا خود کو کمتر محسوس کریں گے یا گریز کریں گے، یا نفرت پیدا کریں گے، پھر آپ اس سے شکست کھا جائیں گے، اور آپ فضول باتیں کریں گے۔جب آپ بہت پرسکون رہتے ہیں اور اسے خاموشی سے دیکھتے ہیں،

 اصول ہے کہ "استقبال نہ کریں، مسترد نہ کریں، پیروی نہ کریں" 

یوں یہ حالت قدرتی طور پر غائب ہو جائے گی، یہ جیتنے کی کوئی چال نہیں ہے بلکہ قدرتی عمل ہے۔ اس وقت آپ جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں اس پر غور کریں، اور اس وقت آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ صرف اس "آگاہی" کو برقرار رکھنے کے لیے بیداری زندگی کے ہر لمحے میں کی جا سکتی ہے، نہ کہ صرف مراقبہ، تلاوت اور جاپ میں۔ آسمان پر تیرتے بادل آسمان کے سکون کو متاثر کیے بغیر آزادانہ آتے اور جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے یہ جان کر کہ جذبات جسم اور دماغ میں آتے اور جاتے ہیں بغیر رکے، کسی کو بالکل متاثر کیے بغیر، یہ بہترین طریقہ ہے ۔ اچھی صحت میں رہنے کے لئے۔

دنیا کی کامیابی

استاد نے بتایا کہ فطرت کی کوئی ظاہری شکل نہیں ہوتی، تمامتر فطرت میں، انسان خود سب سے زیادہ ظاہر ہیں، اور تمامتر فطرت میں خود انسان سب سے بڑی فطرت ہے۔ لیکن کسی چیز میں فکر نہ ہو تو اس کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ جب کوئی شخص اس فطرتی حالت تک پہنچتا ہے جس میں کوئی دماغ اور کوئی شکل نہ ہو تب اس کے پاس فطرت کی کامل روشن خیالی کا دل ہوتا ہے، اور انسانی دل اس قدر آسمانی ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ سوچتا ہے اسے متاثر کر سکتا ہے، اور یوں وہ دنیا کا مالک ہے۔انسان دنیا کا مالک بننے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے تمام چیزوں کی پیدائش اور موت کے بنیادی قانون یعنی دھرمتا پر عبور حاصل کر لیا ہے اور کائنات کی تمام چیزیں اس کی پابندی کرتی ہیں۔ جب ہم اور کائنات کے ماخذ کے ساتھ ایک ہو جائیں گے، تو ہمیں حقیقی فطرت مل جائے گی، جو نہ پیدا ہو سکتی ہے، نہ فنا، نہ گندی، نہ صاف، نہ بڑھ سکتی ہے اور نہ گھٹ سکتی ہے۔

Tuesday, 20 August 2019

لال بھجکھڑ


لال بھجکھڑ

کہتے ہیں پنڈت لال بھجکھڑ کہیں سے گذررہے تھے کہ ایک آدمی کنویں میں گر گیا۔ لوگوں میں سے ایک دانا نے کنویں میں رسی پھینکی اور آدمی کو کہا کہ اسے کمر سے باندھ لو۔ اس آدمی نے رسی کمر سے باندھ لی۔ دانا نے لوگوں سے کہا کہ اب اس کھینچ لو۔ آدمی کنویں سے باہر آگیا۔
لال بھجکھڑ نے سیکھا کہ پھنسے ہوئے آدمی کو کمر سے رسی باندھ کر کھینچنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
کچھ دن گذرے تھے کہ راہ چلتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی درخت پر پھنس گیا ہے اور اس سے اترا نہیں جارہا۔ لال بھجکھڑ کو دانائی آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لال بھجکھڑ ہمارے سماج میں جابجا پائے جاتے ہیں۔ علاج معالجہ، مذہب، سیاست، عمارت سازی، عدلیہ، دفاع، خارجہ تعلاقات غرض کہ زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لال بھجکھڑ اور ان کے مشورے حاضر ہیں۔ یوٹیوب چینلز پر، فیس بک والز پر، ٹیوٹر الرٹ پر اور حد یہ کہ لنکڈان فیس پر بھی ایسے مشورے حاضر ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ دکھ اس بات پر نہیں ہے کہ ہمارے یہاں خونی بواسیر کا علاج تعویز گنڈوں سے کیا جاتا ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ لوگو صحتمند بھی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
ںہیں ہے تو اس شعبے کا مشورہ نہیں ہے جس میں خود کام کرتے ہیں۔ اپنے ہی کام سے نفرت ہمارا ہی خاصہ ہے!
جہالت کی سب سے افسوسناک حالت وہ ہوتی ہے جہاں خود کسی کو جہل سے نکلنے کی جستجو نہ ہو۔ جس بارے میں مکمل آگہی نہ ہو اس پر رائےزنی مناسب نہیں ہوتی۔ ذاتی تجربہ آفاقی نوعیت کا نہیں ہوتا۔ سب پر، ہر حالت میں، ہروقت لاگو نہیں ہوسکتا۔ ذاتی تجربے سے آفاقی نتائج اخذ کرنا اور سب پر لاگو کرنا اخلاقی جرم ہے۔

پاکستان لیجیٹیمیسی کرائسیس

#pakistanlegitimacycrisis
پاکستان لیجیٹیمیسی کرائسیس ۱۹۴۷ سے ہی مسلہ رہا ہے۔ انڈین اینڈیپینڈنس ایکٹ ۱۹۴۷ کے تحت قائداعظم کو ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کے لیے ایک ایسا گورنر جنرل چاہیے تھا جو ملکہ کی خوشنودی کی بجائے پاکستان کا سوچے۔ اس لیے انہوں نے خود کو اس عہدے کے لیے سب سے مناسب جانا لیکن اس کا ایک اثر یہ ہوا کہ گورنر جنرل کی آئینی حیثیت میں انہیں حکومت کے روزانہ کاموں میں دخل دینا پڑا۔ قائد اعظم کی طاقتور شخصیت آئینی ہونے کے باوجود وزیراعظم کو روزانہ ہدایات دیتے رہے۔ ان کے بعد بھی یہ سلسلہ ۱۹۵۶ تک جاری رہا۔ بالاآخر جنرل ایوب نے الزام لگا کر اسکندر مرزا کی غیرآئینی حکومت باضابطہ طور پر ختم کردی گئی۔
اس کے بعد پارلیمانی نظام کو نقصاندہ قرار دے کر صدارتی نظام نافذ کردیا گیا۔ صدر نے بھی وہی کیا جو وزیراعظم کرتے رہے۔۱۹۷۳ میں صدارتی نظام کو نقصاندہ قرار دے کر دوبارہ پارلیمانی نظام نافذ کردیا گیا۔ معراج خالد اور فضل الہی چوہدری جیسے ملازم صدر وجود میں آئے۔ جنرل ضیا کی آمد کے ساتھ ہی آئین کی دفعہ ۲/۵۸ بی کے ذریعے عملاً صدارتی نظام دوبارہ نافذ ہوگیا۔ اختیارات کے توازن کے نام پر صدر کو پارلیمان توڑنے کا اختیار برقرار رکھنے کا نتیجہ صدر غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری جیسے دخل انداز صدر نمودار ہوئے۔
اسی طرح صدر آصف زرداری جیسے سیاسی قدآور شخصیت نے آئینی صدر کی طاقت اتنی زیادہ بڑھائی کہ وزیراعظم عملی طور پر ایک ملازم کی حِیثیت اختیار کرگیا۔ صدر زرداری نے دوبارہ حکومت کی امید پر ۲/۵۸ بی کو میثاق جمہوریت کے تحت ختم کردیا۔ اس طرح نواز شریف ایک انتہائی طاقتور وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے۔ بالاآخر نواز شریف جیسے طاقتور وزیراعظم نے دوبارہ ملازم صدر کو رواج دیا۔
اس ساری کہانی میں کئی فوجی چیف آف سٹاف کا سیاست میں کردار خاصا نمایاں رہا۔ اس کشمکش کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج کو براہ راست ریاستی سیاست میں مداخلت کرنا پڑی۔ فوج کو حکومتی امور میں مداخلت اس لیے کرنا پڑی کے پاکستان میں ۱۹۴۷ سے اب تک بھی ریاست اور حکومت میں زیادہ فرق نہیں سمجھا جاتا۔ کچھ ریاستی امور ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں حکومتی مفاد سے ریاستی مفاد زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ بریگزیٹ اس کی ایک واضع مثال ہے جہاں ریاست کے مفاد کے لیے تین حکومتیں آناً فاناً چلی گئیں۔
اختیار کے اس توازن میں ایک تو وہ طریق کار تھا جسے ترکی یا بنگلہ دیشی ماڈل کہا جاتا رہا ہے جس میں فوج کی اعلی قیادت کو عملی طور پر حکومت میں شریک کرلیا گیا۔ یہ دونوں ماڈل ترکی اور بنگلہ دیش میں بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ اس لیے وہ آوازیں اب پاکستان میں نہیں آرہی ہیں۔
آئینی طور پر پاکستان کا صدر ہے تو وفاق کا نمائندہ مگر اسے سلیکٹ ہماری اسمبلیاں کرتی ہیں اور وہی شخص صدر بنتا ہے جو منتخب حکومت چاہتی ہے۔ اس طرح ایک ملازم صدر ہی مقرر ہوتا ہے۔
کیا اچھا ہو کہ صدر کے پاس ۲/۵۸ بی کا اختیار یقیناً نہیں ہو لیکن وہ براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو۔ وہی جوائنٹ چیفس آف کمیٹی کا صدر ہو۔ خود اپنی صوابدید سے (وزیر اعظم کے مشورے سے نہیں) چیفس آف اسٹاف، اٹارنی جنرل، اکأنٹنٹ جنرل، چیف جسٹسز، چیرمین بورڈ آف ریوینیو اور سفیروں جیسے آئینی عہدے پر تقرری کرے۔ نیشنل اسمبلی کے منظور شدہ قانون کو واپس بھیج سکے اور اس کے دوسری دفعہ انکار کے باوجود بل پاس نہ ہو بلکہ اسمبلی کاروائی جاری رکھے۔ مزید یہ کہ صدر قانون بنانے کے لیے اسمبلی کو خطاب کرسکے اور ہدائیتی نوٹ بھی بھیج سکے۔ البتہ صدر کو اسمبلیوں کی مخصوص تعداد برخاست کرسکتی ہو۔
مشورہ ہے! مانو یا نہ مانو مرضی ہے!!!

Wednesday, 22 August 2018

پاکستان میں مولوی کا کردار

پاکستان میں مولوی کا کردار
میرا خیال ہے کہ ایک اعتبار سے موضوع نامکمل اور ادھورا ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع کا ٹائٹل ہونا چاہیے تھا کہ پاکستان میں مذہب کا کردار۔ اس لیے کہ پاکستان میں مذہب اور مولوی ایک دوسرے کا مترادف بن چکے ہیں اور یہ ۱۹۴۷ کے بعد نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں خاصی گہری ہیں جو قیام پاکستان سے پہلے مغل بادشاہت کے آخری زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ میں اپنے مقالے میں مولوی کو ان تمام مذہبی عمائدین کا شمار کرتی ہوں جو کسی بھی مذہب سے متعلق ہوں۔
برصغیر میں وادی سندھ کی تہذیب پر شمال وسطی حملہ آواروی کے نتیجے میں یہاں کہ مقامی آبادی جو زیادہ تر کول اور دراوڑ قبائل پر مشتمل تھی مغربی برصغیر سے منتقل ہوکر جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں وادی گنگا کی تہذیب کا محرک بنے۔ یہ حلمہ آور آریا تھے یا نہیں اب ایک بحث کا موضوع بن چکا ہے جس کا میں ابھی آگے ذکر کروں گی، بہرحال اس صورت نے مغربی برصغیر کو وسطی، جنوبی اور شمالی برصغیر سے ایک گونا علحیدہ کردیا۔ یہ خلیج آج تک اپنا اثر رکھتی ہے۔ دوسری طرف ایک نئی دنیا فتح کرنے کے جذبے نے برصغیر سے باہر کی دنیا کے طاقتور اقوام کو برصغیر کےوافر تعداد میں دستیاب وسائل ہتھیانے کی ایک مظبوط تحریک ملی۔نا صرف شمال وسطی اور بعد میں وسطی ایشیا کے سہاشکوں نے یکے بعد دیگرے برصغیر میں مہم جوئیاں کیں بلکہ خود یہاں کی اقوام میں بھی ایک دوسرے کے وسائل ہتھیانے کی تحریک مظبوط ہوئی۔ ۵۵۰۰ قبل مسیح سے ۳۵۰۰ قبل مسیح کے دوران ویدوں کی تاریخ ہمیں، مہابھارت اور رامائن کے زریعے، یہاں ہونے والی جنگوں کا حال بڑی تفصیل سے سناتی ہے۔ کسی خارجی تاریخی حوالے کی غیر موجودگی کے باوجود یہاں کی مقامی اور آبادکار افراد میں اس کی بو ابھی بھی پائی جاتی ہے۔ ویدوں کے بعد گندھارا تہذیب کے بانیوں نے بدھ مت کی میانہ روی کی تعلیمات کو جس شدت اور تشدد سے پھیلایا وہ تاریخ کے اوراق میں خون کے آنسو رلاتی ہے۔ میرا خیال ہے کے بدھ خود بھی اس پر شرمندہ ہوگا۔ جین مت اور بدھ مت کی شانتی اگر اتنی خاموش ہی رہتی جتنی خود سدھارتھ اور ویر کے ذاتی ملاقات کے دوران رہی تھی تو شائید وہ دونوں اس دھرتی میں پیدا ہونے پر کبھی دکھی نہ ہوتے۔ سائرس کا برصغیر پر قبضہ اور دارا کی چندرا گبتا موریہ سے شکست اور سکندر کا دارا سے ایران اور برصغیر کا چھین لینا سب ہی وسائل پر قبضہ اپنی مذہبی ترویج کے نام پر ہی ہوا۔
انہی حلمہ آروں میں ایک نام عربی یلغار کا بھی ہے جو قریبا ۷۰۰ عیسوی میں ابن قاسم نے شروع کی۔ محمد قاسم کی مرتبہ انسائکلوپیڈیا تاریخ ہند کے مطابق ۶۷۸ میں بنو امیہ سے اختلاف کی پاداش میں بنو اسامہ کو علاقہ پابند کردیا گیا تھا۔ بنو اسامہ کا سربراہ محمد علافی اپنے قبیلہ کو لے کر راجہ داہر کے پاس  مکران کے علاقے میں آباد ہوگیا تھا اور راجہ داہر نے اسے نوابیت دی تھی۔ اسی دوران سعید بن اسلم کلابی کو حجاج نے مکران کا حکمران بنایا۔ محمد علافی کی جانب سے  سنھوی بن لام الحمادی مکران کا حکمران تھا جسے سعید نے دھوکے سے قتل کردیا۔ اس پر محمد علافی نے مکران پر حملہ کرکے سعید کو شکست دی اور سعید اس جنگ میں مارا گیا۔ محمد علافی کا قبضہ سارے مکران پر ہوگیا۔ یعنی جن علاقوں پر عربوں نے خلیفہ عثمانؓ کے زمانے سے قبضہ کررکھا تھا وہ ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اور یہی بنیادی وجہ محمد بن قاسم کے حملے بنی۔ تاریخ فرشتہ میں مہلب بن ابی صفرہ کو پہلا مہم جو قرار دیا گیا ہے جو  پشاور کے راستے۶۶۴میں برصغیر پر حملہ آور ہوا۔ کابل کی فتح کے بعد ایک کماندار خالد بن عبداﷲ نے سیاسی وجوہات کی بنا پر واپس عرب نہ جانے میں مصلحت جانی اور کابل کے نئے حاکم کے خوف سے کابل چھوڑ کر کوہ سلیمان کے علاقے میں آباد ہوگیا۔ تاریخ فرشتہ کی تحقیق کے مطابق لودھی اور سوری خاندان اسی خالد بن عبداﷲ کی نسل سے ہیں۔ بہرحال مسلمان محمد بن قاسم کے حملے سے قبل برصغیر آچکے تھے۔ یہ مسلمان جن میں ربیع بن صبحیح بصری اور اسرائیل بن موسی ہندی اورمالک بن دینار کا نام سر فہرست ہے۔ ربیع تو خیر خلیفہ عمرؓ کی برصغیر پر فوجی مہم کا حصہ تھے جو یہاں ہی مدفون ہوئے البتہ اسرائیل ایک تاجر تھے اور مالک ایک عالم تھے۔
برصغیر آنے والے مسلمان عالم وہ لوگ تھے جنہوں نے برصغیر میں پہلے سے موجود مذہبی تشدد کا تدارک کیا اور تمام انسانوں میں ایک دوسرے کے نظریات برداشت کرنے کا قرینہ سکھایا بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ بدھ اور جین کی تعلیمات سے جس بےحسی اور یاسیت کا سبق مل رہا تھا اسے ایک امید میں بدل دیا۔ یہ عالم ہی تھے جنہوں نے بعد برصغیر کے صوفیا کا نام اختیار کیا۔ ان اولین اکابر کے جو لوگ قائل ہوئے اور معتقد بنے وہ یہیں کے رہاھائشی تھے اور ان کے انتقال کے بعد جس طرح وہ اپنے بزرگوں کی قبور کی رکھوالی کرتے تھے اسی طرح ان لوگوں کی بھی کی۔ بعد میں آنیوالے مسلمان علما نے اس روایئت کو توڑنے کی بجائے جاری رکھنے کو درست سمجھا اس لیے کہ ان  کے ذہنوں میں اللہ کے بارے میں کسی شرک کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور وہ اپنی ذہنی روش میں کافی واضع تھے۔
یہاں کے رہنے والے سبھی مذاہب کے ماننے والے انہی بزرگوں سے اپنے سماجی مسائل، مثلاً شادی بیاہ، جینا مرنا، جائیداد و کاروبار وغیرہ کے حل پوچھا کرتے تھے اور ان کی ہدایات پر عمل بھی کرتے تھے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے قبل، جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکی ہوں، مذہبی تنافر کی ایک فضا قائم رہی ہے جسے مسلمان صوفیا نے تقریباً ختم کردیا تھا جس کی جھلک ہمیں سلاطین دہلی کی یہاں شدت سے موجود رہی جس میں امیر خسرو کا ایک بہت بڑا کردار رہا ہے۔ تاہم اس روادری کی انتہا ہمیں آئین اکبری میں نظر آتی ہے۔ اور یہی وہ زمانہ ہے جب برصغیر میں مسلمانوں میں اس رواداری کے خلاف ایک کروٹ لی گئی۔
یہ تکلیف دینے والی کروٹ، شیخ احمد سرہندی کی تحریک تھی جسے برصغیر کی تاریخ میں نشاۃ ثانیہ کا نام دیا گیا اور شیخ مجدد الف ثانی کے نام سے مشہور ہوئے۔ شیخ کے والد شیخ عبدالاحد ایک صوفی بزرگ تھے اور سلسلہ چشتیہ سے منسوب رہے تاہم خواجہ باقی اللہ سے بعیت کے بعد شیخ نے تینوں دوسرے صوفیا سلسلے، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی کمان بھی خود حاصل کرلی اور عوام کو بتایا کہ یہ سعادت انہیں سعودی عرب کے مشہور وھابی عالم امداد اللہ مہاجر مکی کے حکم سے عطا ہوئی ہے اور انہیں یہ ہدائیت شیخ عبدالقادر جیلانی کے فیضِ روحانی سے ملی ہے۔ واضع ہو کہ خواجہ باقی اللہ سے عبدالحق محدث دہلوی بھی بیعت تھے جو مجدد الف ثانی کسی حد تک ہم عصر ہیں۔ محدث دہلوی کی مشہور تصنیف مدارج النبوہ ہے جس پر بحث کا یہ موقع نہیں ہے۔ تاہم اتنا کہنا درست ہے کہ محدث دہلوی کا انداز بہرحال صوفیانہ رہا ہے اور وہ نیاز و نذر کے قائل رہے ہیں جو برصغیر کی تہذیب کا حصہ ہے۔
بہرحال مجدد الف ثانی نے دین کی بقا کے لیے اکبر بادشاہ کے خلاف بغاوت کی اور اسے آئین اکبری کا  نافذ کرنے نہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہ قانون برصغیر کی رواداری کے لیے ایک مثبت قدم تھا۔ تاہم مجدد کی تحریک اس حد تک بڑھی کہ انہیں جہانگیر کے دربار میں طلب کیا۔ اس وقت تک بھی علما کا صوفیا سے جدا تشخص قائم نہیں ہوا تھا اس لیے صوفیا کے عوامی اثر کے باعث جہانگیر، مجدد کو قتل نہیں کرواسکا۔ تاہم مجدد کے دین کی اصلاحی کوشش اور بدعتوں کی نشاندہی نے برصغیر میں شیعہ سنی اختلاف کو ابھارنے میں کافی کردار ادا کیا اور مجدد کا سارا غصہ جہانگیر کے مرکزی قاضی نوراللہ شوستری (شہید ثالث) کو شعیہ ہونے کی بنا پر بہانے سے قتل کردیا گیا۔ اس واقعے نے برصغیر میں اسی پرانے افتراق کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مجدد کے لگائے گئے پودے جب تناور درخت بنے تو میرہاشم، ملا صالح اور سید محمد جیسے علما نے جنم لیا اور یہ تینوں افراد مغل بادشاہ اورنگ زیب کے استاد بنے۔ ان کی تعلیمات کا اثر تھا کہ بیٹے نے باپ کو اندھا کرکے قید کیا اور بھائیوں کا قتل کیا۔ جبکہ اس کے بڑے بھائی کا استاد صوفی سرمد بھی بادشاہ کے استاد خاص اور مرکزی قاضی شیخ عبدالوی کے فتوی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ یہ وہی سرمد ہے جس کا اپنے قتل سے پہلے کہا گیا مشہور شعرحسب ذیل ہے؛
شورے شد از خوبِ عدم چشم کشودیم ( میں شور سن کرنہ ختم ہونے والے خواب سے جاگ گیا)
دیدم کہ باقیست شبِ فتنہ غنودیم، غنودیم (لیکن جب فتنوں کوموجود دیکھا تو نہ جاگنے کے لیے پھر سوگیا)
برصغیر میں یہ صوفیا کا پہلا باقائدہ قتل تھا جس نے عدم برداشت کی فضا کو پھر سے زندہ کردیا۔ اورنگزیب نے اس کے بعد برصغیر کا پہلا فتاوی تحریر کروایا جس کی ترویج کے لیے ان درباری علما نے بادشاہ کو مجدد کا خطاب دیا اور فتاوی بادشاہ کے نام سے معنون کیا، فتوی عالمگیر۔ یہ وہی فتاوی  ہے جسے برطانوی راج میں مسٹر میکملن نے The Hidaya کے نام سے انگریزی میں ترجمہ کیا اور اسے برصغیر کے مسلمانوں کا مسلمہ قانوں بنادیا گیا۔ اورنگزیب نے مسٹر نیل کے مشہور فرنگی محل کو بحق سرکار ضبط کرلیا۔ یہ محل ایک فرانسیسی تاجر مسٹر روبن نیل Ruban Niel نے جہانگیر کے زمانے میں لکھنو تعمیر کیا تھا اور برصغیر میں نیل کی تجارت کرتے تھے۔ ان کے نام کی مناسبت سے دھلائی کے بعد کپڑوں کے نکھار کے لیے آج بھی یہی رابن نیل استعمال ہوتا ہے البتہ اس پر مسٹر نیل کی تصویر کی بجائے پرندے نیل کنٹھ کی تصویر بنائے جاتی ہے۔ یہ فرنگی محل اورنگزیب نے ضبطی کے بعد اپنے خاص علما سید بن قطب اور اسد بن قطب کی تحویل میں دے دیا جنہوں نے اس محل کو ایک اسلامی مدرسے کی شکل دے دی۔ یہ برصغیر کا پہلا مسلم مدرسہ تھا۔ سید بن قطب کے صاحبزادے نظام الدین سہالوی نے اس مدرسے اس مدرسے میں ایک باقائدہ تعلیمی نصاب ترتیب دیا جو بعد میں درس نظامی کے نام سے معنون ہوا۔ ہرچند کے یہ ایک مدرسہ طریقت کے خلاف شریعت کی پاسداری کے لیے بنایا گیا تھا تاہم اس مدرسے کے زعمأ نے کبھی بھی برصغیر میں رائج مذہبی رسومات جسیے، ۲۲ رجب کے کونڈوں، گیاہرویں شریف کی نیاز، عید میلاد اور محرم، ہولی، دسہرہ، کرسمس اور بسنت وغیرہ کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ ان تمام رسوم کو برصغیر کے تمام شہری بجا لاتے تھے۔
اس مدرسے کی اچھائیوں کے ساتھ ساتھ وہیں کچھ ایسے علما بھی پیدا ہوئے جنہوں نے سرسید احمد خان کی تحریک کی مخالفت بھی کی جس کی ابتدا ۱۸۶۹ میں ہوئی تھی۔ اسی مدسرسے میں یہ تاثر ابھرا کہ  جہاں سے برصغیر میں وہ علما پیدا ہوئے جنہوں نے صوفیائی تہذیب کی نا صرف مخالفت کی بلکہ اسے ختم کرنے کے لیے باقائدہ تحریک بھی چلائی۔ اس تحریک کا ایک خاص اثر یہ ہوا کہ خود مسلم عقائد میں اختلافات نمایاں ہونے شروع ہوگئے اورسب سے پہلے ۱۸۶۷ میں قاسم نانوتوی نے دیوبند میں مدرسہ قائم کیا جو دیوبندی مکتب فکر کا مرکز بنا جو دارالعلوم دیوبند کے نام سے مشہور ہوا۔ اس مدرسے نے شریعت (مولوی) کی پاسداری میں طریقت (تصوف) کی راہ کو خوب مسدود کیا اور وہ عام مذہبی رسومات جو عوام میں رائج تھیں انہیں نا صرف غیر اسلامی قرار دیا بلکہ کفر بھی قرار دے دیا۔ اس تحریک کو عوام میں مقبولیت فوراً تو حاصل نہیں ہوئی تاہم قبولیت اس لیے ملی کے ۱۸۵۷ کی جنگ آذادی کے بعد یہ وہ واحد مذہبی تحریک تھی جو برطانوی راج کے خلاف سیاسی کشمکش میں بھی شریک تھی۔ یہ ایک اہم امر ہے کہ تمام مسلم مذہبی مشائخ خاصکر نقشبندی طریقت نہ صرف تحریک آذادی کو غدر (بغاوت) کہہ رہے تھے بلکہ تحریک علی گڑھ کے ایجینڈے کے خلاف کانگریس سے زیادہ قریب تھے۔ مولانا عبدلباری کے انتقال تک فرنگی محل کسی نی کسی طرح باقی رہا تاہم مولانا حسن کے انتقال کے بعد فرنگی محل کے علمأ میں خود اختلافات پیدا ہوچکے تھے۔ سرسید اور علمائے دیوبند میں اسقدر اخلاف بڑھا کہ سرسید کے کفر کا فتوی بھی وہاں سے جاری ہوگیا۔ اس اختلاف کو مٹانے کے لیے فرنگی محل کے فارغ التحصیل عالم عبدالحق محدث دہلوی نے ۱۸۹۴ میں لکھنو میں ہی ایک اور مدرسہ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں مدرسۃ الندوہ کہلایا۔ تاہم جدید تعلیم کا طرفدار ہونے کے باوجود یہ مدرسہ برصغیر کے مذہبی تشدد کو قلع قمع کرنے میں ناکام رہا اور یہ خود مسلمان ایکدوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار دیتے رہے۔ ان حالات میں احمد رضا خان نے ۱۹۲۰ میں رائے بریلی میں ایک نئے مدرسدے کی بنیاد رکھی جو تاریخ میں آگے چل کر بریلوی مسلک کی بنیاد بنا۔
اس سیاسی اور مذہبی کلچر کے تاریخی پس منظر میں پاکستان وجود میں آیا۔ آج پاکستان میں کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں جو پاکستانی قوم کا ناطہ وادی سندھ کی تہذیب سے جوڑتی ہو۔ ہندوستان تو بجا طور پر اپنا ناطہ گنگا کی تہذیب (وید تمدن) سے جوڑتا ہے تاہم پاکستان کے مسلمان، عرب اور افغان مہم جو لشکر کشی سے باہر نہیں آتے جبکہ یہاں کے مسیحی، نسطوری عیسائیت کے تاریخی پس منظر اور مذہبی رسومات کے باوجود اپنا ناطہ یورپی مسیحیت سے جوڑتے ہیں۔ غیرمسلم آبادی پاکستان میں اتنی کم ہے کہ ان کے رجحان کا براہ راست اثر سماج پر اتنا شدید نہیں ہوپاتا البتہ مسلم آبادی کے برتاؤ کا رد عمل بہت واضع طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
پاکستان کی آذادی کو قرارداد پاکستان کی صورت میں اغوا کرنے کے بعد مذہب کا اثر یہاں اتنا زیادہ بڑھا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو خالصتاً مذہبی تشخص رکھتی ہیں وہ پاریمنٹ میں انتہائی قلیل تعداد رکھنے کے باوجود موئثرترین پریشر گروپ ہیں۔ ضروری ہے کہ قرارداد کا اولین حصہ یہاں نقل کیا جائے جو تحریک آذادی کو اغوا کرنے کا باعث بنی ہے؛

"(يہ قرار داد 12 مارچ 1949ء كو پاكستان كى پہلی دستور ساز اسمبلى نے منظور كى۔يہ قرار داد پاكستان كے آئین کے ليے رہنما اصول متعين كرتى ہے۔) ​
اللہ تعالیٰ ہی کل کا ئنات کا بلا شرکت ِ غیرے حاکم ِمطلق ہے۔اس نے جمہور کے ذریعے مملکتِ پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے،وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیاجائے گا۔"

گویا وہ منتخب نمائندے جو جمہور (عوام)  منتخب کرتے ہیں وہ الہی ہدائیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں یہ اختیار ایک مقدس امانت کے طور پر تفویض ہوتا ہے۔ اس قرارداد نے پاکستان میں مذہب کے استعمال کو بلاشرکت غیرے مولویوں کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔
یہ درست ہے کہ آذادی ہند کے قانون مجریہ ۱۹۴۷ کے مطابق پاکستان برطانوی راج کے ان حصوں پر مشتمل ہونا تھا جہاں مسلم آبادی کی اکژیت تھی اور یہ بھی درست ہے کہ تقسیم ہند ان علاقوں میں ایک عوامی ریفرینڈم کے نتیجے میں معروض وجود میں آنا تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آذادی ہند کے قانون مجریہ ۱۹۴۷کی ریڈ کلف ایوارڈ کے واسطے سے نہایت منظم دھاندلی کے زریعے مجوزہ پاکستان کی ممنکہ شکل بالکل تبدیل کردی گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کو ان مذہبی عناصر کے ہاتھوں بلیک میل ہونا پڑا جوتحریک آذادی کے مخالف رہے تھے اور برصغیر میں مذہب کے نام پر ، تیتومیر، سید احمد شہید، ریشمی رومال اور تحریک خلافت جیسی پرتشدد مہموں کے محرک رہے تھے۔ یہ تحریکیں بلاشبہ انگریزوں کے خلاف منظم ہوئی تھیں تاہم ان کے اسلامی تشخص کی وجہ سے اس میں صرف مسلم آبادی ہی شریک تھی اور برصغیر کے عام اور خود لبرل مسلمان ان سے لاتعلق رہے۔
جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ ان روایات کے ساتھ جنم لیے والے پاکستان میں بہت جلد اس مسلم تشخص نے مسلح جتھے بندی کی شکل اختیار کرلی۔ تاریخ پاکستان میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اطلاع بہت حیران کن ہوگئی کہ پاکستان میں قائم ہونے والی کیمونسٹ تحریک اور ترقی پسند ادیبوں کی انجمن بہت جلد ٹوٹ گئی اور صف ہراول کے کیمونسٹ مسلمان ہوگئے اور ترقی پسند شعرا نعت گوئی۔ غریب پاکستانی خاندانوں کے بچے غذائی قلت کا شکار ہوئے اور حکومتی غیرمسلسل پالیسی کی وجہ سے سوسال سے قائم مذہبی مدرسوں نے ان خاندانوں کا کفیل ہونا قبول کیا۔ افسوس جمہوری پارٹیاں، صوفیائی تحریکیں اور کیمونسٹ پارٹی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکے۔ اس عوامی غربت نے مسیحی مشنوں نے جس میں صف اول میں سالویشن آرمی کا نام شامل ہے، غریب گھرانوں کی کفالت کا بار اٹھایا اور بہت سی مسلم آبادی مسیحیت میں تبدیل ہوگئی۔ اس صورتحال نے مسلم جماعتوں کو مزید سرگرم ہونے کا موقع ملا۔ (دیکھیے پاکستان میں مسیحیت اورجماعت اسلامی کا کردار از آقائی صادق گنجی اسلام آباد اسکول آف اسٹریٹیجی مطبوعہ ۱۹۸۹).

عالمی برادری اور دہشت گردی

عالمی برادری اور دہشت گردی
دہشت کوئی نیا لفظ نہیں ہے۔انسان اس لفظ سے بچپن سے آشنا ہوجاتا ہے بچپنے سے لےکر جوانی تک اندھیرے سے دھشت عادی رہتی ہے،خوفناک کہانیاں پڑھنے کے بعد دل ڈرتا ہے کہیں سچ مچ اےسا نہ ہوجاۓ ۔شرتی کہانیوں میں دہشت بہت زیادہ اور نمایاں رہی ہے اس لیے کہ کہانی کے بعدبھی بچوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دہشت ذدہ کمرے کا عام رواج ہے۔
لہذا میں پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ دہشت کویٔ نیا لفظ نہیں ہے۔
برصغیر میں خود کو دوسروں سے دہشت کرنا اور کرانا پرانی اور روایتی بات ہے۔عزّت کی بات کون کرتا ہے،دوسرے کی برایٔ اس کی دہشت ہے۔بڑا سرکاری افسر ہو یا خوفناک مجرم اس کی حیثیت کی شناخت اس کی دہشت ہے۔یہی حال بڑی اور چھوٹی اور بڑی اقوام کا بھی ہےمعاشی برتری بھی اسی وقت تسلیم شدہ ہے جب وہ دوسری چھوٹی قوم کی معاشی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے دہشت تک پہنچ گئے۔ایک زمانے میں تو یہ بھی روایت تھی کہ مائیں بچوں کو سلانے کے لئے فلاں کی دہشت ذدہ دھمکی دیتی تھیں۔
بہر حال یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ دہشت خواہ کیسی رہی ہو ‚باعث افتخار گردانی جاتی رہی ہے۔میرے خیال میں دہشت اور رعب ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔اور ان الفاظ کی علیحدہ علیحدہ شناخت دوبارہ کرنا نہایت اہم اور ضروری ہوسکتا ہے۔ےا رعب کے سامنے ایک مافی الضمیر بیان کردینے رعب کی عزّت نفس مجروح نہیں ہوتی اور نتیجہ بہر حال رعب کے خاتمے پر نہیں ہوتا۔مگر دہشت کے سامنے یہی عمل رعب کے اپنے اختتام تک مزید آتا ہے۔دہشت بظاہر ڈاکو کی ہو ،شیرببر کی ہو،[دادی کی کہانیوں کی ہو، سلطان ایوب کی ہو یا چنگیز خان کی ہو انسانی نفسیات میں ترقی کے عمل کو روکتی ہے۔یہ ایک عمل دہشت کو ہرا قرار دینے کے لئے کافی ہے۔
تمام مذاہب اور تمام تر تمدّن اور نظام ،جدید تہذیبیں جب بھی انسانی ترقی کی بات کرتے ہیں تو جاری ترقی کے پس پردہ انسانی نفسیات کی منطق اس میں حائل ہوتی ہے۔ نفسیاتی طور پر دبا ہوا شخص جاری ترقی کے حصول کرسکتا بھی کیا۔مادی لذتیں ہوں یا روحانی لذتیں،نفسیاتی طور پر دبے ہوئے افراد کماحقہ بہرمند نہیں ہوسکتے ہیں۔افسر کے بیکار لطیفے پر بے دلی سے ہنسنا۔
دہشت کا سلسلہ بڑی اور چھوٹی اقوام کا بھی ہے اور بین الاقوامی بھی ہے۔یہ دہشت بعض اوقات ترقی یافتہ اور پس ماندہ اقوام کے درمیان حسد کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔اور آج کل تو دہشت ایک باقائدہ سلسلہ بن گئی ہے۔دہشت پھیلانا ابھی تک HHOکے عالمی چاٹر میں جرم کے طور پر درج تو نہیں ہوا مگر اس عمل کو جرم مان کر درج کرلیا گیا ہے۔ماضی قریب میں دوجنگجو اقوام کے درمیان اچانک دہشت کردہ عمل کرایا گوریلا عمل کہلاتا ہے۔تب یہ پسندیدہ بھی تھا۔خود انسانی تاریخ ایسے واقعات سے نہ آشنا نہیں ہے۔معدوم تاریخ میںXenophobia 431-350 ق م، میں دشمن کے خلاف دشمن سڑکوں میں نفسیاتی جنگ کا حامی ہے۔اتھارویں صدی میں دشمن کے خلاف دہشت پھیلانا ایک اچھا عمل کہا جاتا رہا ہے۔Robespierre 1973-94 جنگ کے دوران اس عمل کی کھلم کھلا حمایت کرتا رہا ہے۔ردہکی خانہ جنگی
(65-1861)کے دوران KKKفالی تنطیم دہشت کو بھرپور طریقہ سے استعمال کررہی ہے۔
انقلاب روس کے دوران ان کا روائیوں کو نہایت منظم طریقہء کار دستیاب رہا ہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھی انگریزوں کے خلاف Monkey Briefer جیسی تنظیموں نے دہشت کی کاروائیوں خوب بنیاد ڈالی ہے۔اسلامی تاریخوں میں ابوالصفاح، حجاج اور یزید جیسے نام اس عمل میں شہرت یافتہ ہیں۔
بیسویں صدی نے اس دہشت کے عمل کو ایک باقائدہ منظم عمل کے طور پر ابھارا ہے ۔اب یہ خالی دہشت کا عمل نہیں رہ گیا ہے۔اب یہ دہشت گردی بن گیا ہے۔اطلاعات کی بروقت اور جلد ترسیل نے ان عوامل کو عوام تک پہنچانے اور اس پر تفصیلی ،تصویری رپورٹوں نے اس عمل کے خوف میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔انقلاب روس کے دوران اوپس کی کامیابی کے بعد ویت نام، کمپوڈیا، اآسام ، سری لنکا ، ملائیشیا اور فلپائن میں جن تحریکوں نے جنم لیا وہ دہشت گردی میں کسی نہ کسی طرح ملوث رہی ہیں۔
مشرق بعید نے یہ سبق یورپ سے سیکھا تھا اور مشرق بعید نے یہ سبق مشرق وسطی کو بھی سکھادیا۔دہشت گردی کا یہ عمل مذہبی بھی رہا ہے قومی بھی رہا ہے اور نسلی بھی رہااور مادقاءی بھی۔مگر حیرت کی بات ہے کہ جب یہ عمل مشرق وسطی سے نمودار ہوا تو اس کو اسلامی دہشت گردی کہا جانے لگاابوفدال، ابوسہان ، حماس، الجہاد، القاءدہ اور طالبان اسی نوعیت کی جماعتیں ہیں جس طرھ فرانس، سہن، امریکہ، روس اور آئرلینڈ میں تھا۔وہ عیسائی نہیں تھےجس طرح کمبوڈیا، ویت نام، جاپان اور فلپائن میں تنظیمیں بدھ مت نہیں تھیں بالکل اسی طرح میڈل ایسٹ کی تنظیموں کو ساری دنیا انہیں تک میں کی ہوں تسلیم کرتی ہیں۔
یہاں پر ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ دہشت گردی کی Definition کی جائے اس بات کو رکھنا بہت ضروری ہے کہ دہشت اور دہشت گردی دونوں سامنے کی بات ہیں۔انسانی تاریخ میں یہ نام اور عمل دونوں کام جانے پہچانے رہے ہیں۔دراصل روس کے گرد حفاظتی دیوار گرجانے کے بعد دنیا کے سہانی افق میں تبدیلی آگئی ہے۔بظاہر امریکہ واحد سپر طاقت ہونے یا رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ اس ضمن میں بے شمار اقدامات کر رہا ہے۔ان اقدامات میں رکاوٹ صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ خود HIT کے بہت سے ملک، اور اس کے اقتصادی ملک بھی اس عمل کی مخالفت کرتے چلے آئے ہیں۔ایک مطالبہ اور بگڑتا جارہا ہے۔کہ دہشت گردی اور تشدّد یعنی الفاظ قبال یت کر لئے جائیں۔تشدّد دہشت گردی کاحصّہ ہوتا ہے خود دہشت نہیں ہوتا۔دہشت کی وجہ ہوتا ہے لہذا یہ بات ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ دہشت گردی کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں یعنی اگر ان وجوہات کو جان لیا جائے تو مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہےدہشت گردی کی وجوہات کیا ہیں؟
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی اور تحریک آزادی میں امتیاز کیا جانا ضروری ہے۔جب کوئی آپ کی بات نہیں سنتا،آپ کو کہیں سے الفات نہیں ملتا آپ کو کوئی داد رسی نہیں ہوتی آپ تنہا کرہے جاتے ہیں تو آپ کے پاس لڑائی کے عادوں کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔یہ درست ہے کہ لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہوتی تمام مسائل Table پر آنے سے حل ہوئے ہیں مگر یہ بات کتنی غلط کہی جائے گی کہ دو متحارب گروہوں کو Table تک لانے میں لڑائی نے کتنا کردار ادا کیا ہے۔نکارگوا، ایکوئے ڈور، آئرلینڈ، آسام جیسی مثالیں موجود ہیںجو کبھی متحارب تھے اور بعد میں Tableپر آنے سے مسائل حل ہوئے۔
حالیہ دور میں حماس اور حزب اللہ کے Tableپر آنے کی زندہ مثال موجود ہے۔ Tableتک آنے میں ان تحریکوں نے کیا قربانیاں دی ہیں یا ان کو Tableتک لانے میں دوسری قوموں نے کیا قربانیاں دی ہیں ایک اور سوال ہے۔
کون اس بات کو تسلیم کریگا کہ ایک مسلمان عورت یہ چاہتی ہو کہ اس کا شوہر کمانے کے لئے نکلے اور ایک بم دھماکے میں مارا جائے۔کیا واقعی ایک یہودی خاندان یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچّے تعلیم حاصل کرنے اسکول جائیں اور دہشت گردی کی نظر ہوجائیں۔دنیا کا کون سا خطہ ایسا ہوگا جہاں لوگ اپنے پیاروں کو اس آگ یں جلانا پسند کریں گے۔
دہشت گردی کی Definitionکی ضمن میں ریاستی دہشت گردی کا لفظ امریکی نقادوں کی ایجاد ہے۔کیبا اور ایران، عراق، لیبیا، شمالی کوریا اور شام وہ ممالک ہیں جنہیں امریکی قیادت دہشت گردی کا الزام دیتی ہے۔میں نے امریکی ریاست اس لئے کہا ہے کہ باقی بہت سے اقوام اس امریکی الزام کو نا صرف مسترد کرتی ہیں بلکہ اس امریکی الزام کو سرے سے ہی تسلیم نہیں کرتی۔مثلاً حال میں جاری ایران کا ایٹمی پروگرام بظاہر اس نوعیت کا ہے جو بھارت کا ہے۔امریکی قیادت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہےکہ وہ دہرا معیار دے رہی ہے جبکہ امریکی قیادت اس بارے میں صرف Defensive ہے ۔اس ریاستی دہشت گردی کی اصلاح نے خود امریکی فوجی ایکشن کے خلاف ایک مضبوط رد عمل پیدا کیا ہے۔میں عراق اور افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہرگز جاءز قرار نہیں دیتا مگر دوسرے کے گھر پر حملے نے ان گھروں کو بھی غیر محفوظ بنادیا ہےجو اس میں سے کسی آگ میں نہیں جلتے تھے۔
اب تک کی گفتگو میں ہمیں اس بات کا اندازہ تو ہوگیا کہ دہشت گردی ایک انجانا خوف ہے جو تشدّد کے ذریعے نہیں بڑھا کسی بھی وقت رونما ہو ہی سکتا ہے۔کیا یہ انجانا خوف صرف نامعلوم دہشت گرد کی ہی ہوگا یا وہ طاقتیں جو دہشت گردی کے خلاف نبرد آزماہیں انجانے میں شہریوں کو بھی نشانہ بناتی رہے گی؟
کیا عراق میں یہ ہی نہیں ہورہا۔ان ساری باتوں ،تحقیق، تجربوں اور مشاہدوں کے ذریعے یہ بات عیاں نہیں ہوتی کہ ریاستیں اب تک دہشت گردی کی Defensive پر متفق کیوں نہیں ہوسکیں۔اور یہ بھی بات دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مشکوک بناتی ہے۔ابھی حالیہ STCمیں دہشت گردی اور تحریک آزادی کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے امریکی قیادت اس بارے میں ابھی خاموش ہے اس لئے کہ خود اس کے مضبوط اتحادی بھی اس کانفرنس میں تائیدی نسبت سے شریک تھے۔
کرشن صغیر لکھتے ہیں کہ تم عقلمند سیاستدانوں ، مبصروں نے یہ دنیا بہت جلادی ہے اور دنیا کو بہت دکح دے دئیے ہیں اب یہ دنیا ہم دل والوں کے سپرد کرو یقین کرو ہم مرہم رکھ دیں گے۔کہتے ہیں جب گوتھم ابھی بدھ نہیں تھا بچہ تھاایک استاد اسے تلوار چلانے کی مشق کرانے پر بار بار ناکام ہوا جارہا تھا۔ایک روز وہ جھنجنلا گیااسے گوتھم نے جو ابھی بدھ نہیں تھا استاد سے سوال کیا کہ تلوار چلانی ضروی ہے استاد نے جو نہ بدھ تھا اور نا مہاتما مگر عقلمند تھا جواب دیا کہ دشمن کو مارنے کے کام آتہ ہے گوتھم جو بدھ نہیں تھا مگر مہاتما تھا ،پوچھا کہ دشمن بناتے ہی کیوں ہیں کہ جنہیں مارنا پڑے؟مگر گوتھم کا یہ سوال آج بھی ایک جواب مانگ رہا ہے۔
دشمن بنائے جاتے ہیں کہ بن جاتے ہیں؟
کیاآزادی کے لئے جدوجہد ضروری ہے؟
کیا آزادی کے لئے کسی کو جدوجہد کی بھرپور تقرر کیجاسکتی ہے؟
کیا آج کسی ایک ریاست کو یہ کھلا حق حاصل ہے کہ وہ طاقت کہ بل پر ہر دوسری ریاست میں کوشش امن کا کردار ادا کرے؟
کیا ایران اور شمالی کوریا کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہے؟
کیا حالیہ دہشت گردی کا نشانہ صرف امریکہ ہے؟
اگر حالیہ دہشت گردی کا نشانہ صرف امریکہ ہے تو کیا اس کو دفاع کا حق حاصل نہیں؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتھادی بن جانے پر تاریخ ہمیں کس طرح شناخت کرے گی؟

Friday, 26 August 2016

راوی رات اور میں: افسانہ

راوی، رات اور میں

14 شعبان، 1400 عیسوی کی ایک قدرے خنک رات کو میں چاندنی کی ٹھنڈک میں خاموش کھڑا ہوں۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر آباد خیموں کے شہر کا آخری خیمہ ہے۔ لگتا ہے آج سارا لاہور راوی کے کنارے آجما ہے۔ گو بظاہر یہ تقریب کسی خاص فرقے سے تعلق رکھتی ہے مگر اکثریہاں تمام فرقوں کے افراد ہوتے ہیں۔ امام عصؑر کے حضورعریضے ڈالنے کی رسم نجانے شروع تو کس نے کی بہت خوب کی، نفسیاتی اور اعتقادی دونوں لحاظ سے۔ میں خیموں کی طرف مڑکر دیکھتا ہوں۔ شب برآت کی خوشی میں مسرور چہروں کے پیچھے اصل خوفزدہ چہرے نظرآتے ہیں۔ یہ ظہور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہم ایک اور ہولناک جنگ عظیم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں امن و امان کی فضا یکسر غائب ہے۔ ہر شخص اپنے تئیں غیر محفوظ ہے۔ خود میرے چاروں طرف ایک بےیقینی کی فضا ہے۔ ہم دشمن قوتوں سے اپنے حقوق کے بازیابی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابتک میرے وطن میں امن ہے مگر کیا بھول جاؤں کہ ساکن جمود طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ میں سن رہا ہوں کہ کیا میں بھول جاؤں دجال کبیر کا فتنہ موضع یہودیہ، خراسان میں اقوام متحدہ کے فوڈایڈ پروگرام سے شروع ہوچکا ہے۔ یاجوج ماجوج روس کے پہاڑوں کی ہرہر بلندی سے پھسلتے چلے آرہے ہیں۔ کفار ہند شکتی کے بہانے میرے خون کے پیاسے ہیں اور ہرے راما ہرے کرشن کی آڑ میں میری جڑیں کاٹ رہے ہیں۔
لیکن میرے ہم غم جانتے نہیں شائید۔ یہ 14 شعبان کی شب برآت کے باوجود رات کے دشمن ہیں۔ یہ کارل مارکس کی صبح کے منتظر ہیں۔ یہ روسو کی صبح کے انتظار کرنے والے ہیں۔ یہ بے جانے بوجھے رات کے دشمن ہیں حالانکہ رات تو ان کے اور دشمن کے مابین رکاوٹ ہے۔ جب اجالا پھیلے گا تو یہ لوگ چن چن کر مارڈالے جائیں گے۔ کیونکہ یہ اجالا روشن سورج سے نہیں ہوگا اور بھلا سورج کے بغیر روشنی حقیقی ہوتی ہے؟ یہ اتنا نہیں جانتے کہ دن محض برے کاموں سے دن نہیں بنتا اور رات صرف سوجانے سے مختصر نہیں ہوجاتی۔ دن کی پہلی دلیل سورج ہے مگر وہ تو ابھی غیب میں ہے۔ یہ ایسے دن کے طالب ہیں جس میں سورج کا تصور نہیں۔ یہ رات کے دشمن ہیں مگر رات اور ظلمت کے فرق کو جانتے ہی نہیں۔ یہ جاننا نہیں چاہتے کہ ہر جھوٹ میں کچھ نہ کچھ سچ شامل ہوتا ہے۔ ان کے دشمنوں نے ان کے منہ سچ سے موڑ کر اپنے طرف کرلیے ہیں۔ سچ ان کی پشت پر ہے اور اس سے نکلنے والی شعاعیں دشمن کے ہاتھوں میں موجود شفاف شعبدوں سے منعکس ہوکر ان کی آنکھیں خیرہ کررہی ہیں۔ اور یہ اتنے نادان ہیں کہ ان عکسوں کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں حالانکہ سچ ان کے زیادہ قریب ہے۔
میں خاموشی سے اپنے اطراف کا جائزہ لیتا ہوں۔ میں اپنے اطراف کا جائزہ لیتا ہوں۔ میرے چاروں طرف عفریت جیسے مسائل شیطان کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ میں ان ابلیسی جنگلوں سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔ ان مسائل کو کوئی عام آدمی حل نہیں کرسکتا۔ میں آج جاہلیت کا دھندلا سا عکس دیکھ رہا ہوں۔ گویا میں جانتا ہوں کہ ان عریضوں میں کیا لکھا جاتا ہے۔ کیسی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ان عریضوں کو پڑھ پائے تو جان جائے کہ اس نفسا نفسی کا دور آن پہنچا ہے جس سے کبھی خبردار کیا گیا تھا۔ مگر شائید ابھی کچھ عریضے ایسے ہوں جو محض خود کے لیے نہ ہوں۔ صرف کالے دھن والے ہی ان میں شامل نہ ہوں۔
میں بےچارگی کے عالم میں گھٹنوں کے بل ٹھنڈی ریت پرجھکتا ہوں۔ چاندنی مزید نکھر گئی ہے۔ میری آنکھیں بند ہوئی جارہی ہیں۔ راوی کا پانی جوش پر ہے۔ اس کی لہریں ریت پربکھررہی ہیں۔ میری شہادت کی انگلی شمال کی جانب اشارہ کررہی ہے۔ میں بڑبڑا رہا ہوں، میرے مسائل کا حل۔۔۔۔ پریشانیوں سے نجات۔۔۔۔ عجل اللہ فرجک۔۔۔۔۔۔۔عجل اللہ فرجک۔۔۔۔۔عجل اللہ فرجک
ڈاکڑ عنبر تاجور
(یہ افسانہ ماہنامہ، "تجدید نو" کی اشاعت ، سال 1982 میں شائع ہوچکا ہے)

Friday, 29 January 2016

رحمت العالمین

رحمت العالمین

میں  نے اسی روز ٹی وی پر خبر سنی اور میں سناٹے میں آگیا۔ کیا خبر تھی ۔ پہلے تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا مگر پھر علم ہوا کہ خبر بالکل صحیح تھی۔
کسی نواحی گاوں میں ایک نو عمر نوجوان نے خود اپنا ہاتھ کاٹ لیا تھا،  چارہ کاٹنے والے ٹوکے سے۔ بظاہر کسی نواحی گاوں کے کسی بھی نوجوان کی کسی بھی خبر کے ساتھ بھلا کیا تعلق ہوسکتا تھا اور ایسے کسی غیر اہم اور غیر دلچسپ موضوع پر کچھ سوچنا بھی کیا فائد ہ دے سکتا تھا۔ جہاں عام لوگ روزانہ  مکھی مچھروں کی طرح مرجاتے ہوں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں انفرادی طور پر پائی جانے والی بیماریوں سے یہاں عام لوگ ان بیماریوں سے اجتماعی طور پر مرجاتے ہوں۔  وہاں کسی ایسے نوجوان کی اس خبر میں کیا اہم ہوسکتا ہے۔ مجھے اس نوجوان کا نام تو بالکل یاد نہیں رہا۔ شائید اس لیے کہ کسی نواحی گاوں میں ایسے بہت سے غیر اہم نوجوان بستے ہیں جنہیں سانپ کاٹ لیتا ہے اور وہ ماندرے سے جھاڑ پھونک کے دوران ہی مر جاتے ہیں۔ وہاں کسی غیر اہم نوجوان کا خود سے ہاتھ کاٹ لینا کہاں قابل توجہ ہوسکتا ہے۔ یہاں تو لوگ خود اپنے اور اپنے بچوں کے ہاتھ پاوں کاٹ کر انہیں بھیک مانگنے سڑکوں پر بٹھا جاتے ہیں۔ 
تاہم جب سے میں نے یہ خبر  سنی میرے ہاتھوں میں ایک عجیب سی اینٹھن شروع ہوگئی تھی۔  میرے ہاتھوں میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس سے پہلے نہیں ہوئی  تھی۔ میں نے کئی بار اپنے ہاتھوں کو ٹٹول کر دیکھا۔ وہ دونوں ہی بے جان سے تھے۔ خبر میں نے سرسری طور رسےسنی تھی اور میں اسے ایسے ہی لینا چاہتا تھا جیسے تھر میں روازنہ مرنے والے بچوں کی خبر سنتا ہوں۔  وہاں تھر میں یہ بچے روازنہ مرتے ہیں۔ میں یہ خبر ناشتا کرتے، کھانا کھاتے، افسانہ لکھتے، ڈرامہ دیکھنے سے پہلے ، سوتے سوتے ہر وقت سنتا ہوں اور لاپرواہی سے بھلا دیتا ہوں۔ یہ بچے تو اس طرح مرتے  ہیں جیسے یہ پیدا ہی فوراً مرنے کے لیے ہوئے تھے۔ کسی کو ان کے مرنے کا کیا دکھ ہوتا ہوگا۔ کیا ان کے ماں باپ ہوتے ہیں، بھائی  بہن ہوتے ہیں۔ کیا کسی کو ان کے دنیا میں آنے کا انتظار بھی ہوتا ہے۔ بھلا گرد سے بنے ان بچوں کو جی کر کرنا بھی کیا ہے۔اسی طرح اس نوجوان کا اگر ہاتھ لگا بھی رہتا تو کیا فرق پڑجاتا۔  لیکن میرے اپنے ہاتھوں کی بےچینی نے مجھے خبر میں دلچسپی پر خوب اکسایا۔ کیا جسم اس طرح بھی ایک دوسرے سے تاثر لیتے ہیں۔
میں کچھ دیر کے لیے گاوں میں چلا گیا۔سرسوں کے ساگ کی بھینی بھینی خوشبو سے میرا مزاج رومانوی ہونے لگا۔ سردی کے موسم کی دھند میرے خیالوں کے چاروں طرف پھیل گئی۔شائید یہ واقعہ سردی کے موسم میں ہوا تھا۔ صبح کے دھندلکے میں ایک سائیہ آہستہ آہستہ نمایاں ہوا۔ یہ کرماں تھا، کرم حسین، کرم علی، محمد کرم، کرم دین، کرموں کچھ بھی۔ بہرحال یہ کرم چند ہرگز نہیں تھا۔ اس کی مسیں ابھی بھیگ رہی تھیں اور حلق کے کوئے کے بڑھنے کی وجہ سے آواز پھٹنا شروع ہورہی تھی۔ اس کی ماں صبح صبح اسے تیار کروا کے اس امید پر ملا کے پاس بھیجتی تھی کہ چار لفظ سیکھ کر اپنے باپ سے زیادہ پیسے کما سکے۔  ملا جی  کے پاس جانے کو کرمے کا بالکل دل نہیں ہوتا تھا مگر باپ کے ڈر سے اسے جانا پڑتا تھا۔ راستے میں اسے کوئی بیلی نہیں ملتا۔ اس وقت سب ملا کے پاس ہی جاتے۔ صرف وہ ہی بچتے تھے جنہیں سارا گاوں برا  کہتا۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس تو کرما جا ہی نہیں سکتا تھا۔ پہلے اسے غلیل چلانے کا بہت شوق تھا۔ کبھی کبھی کوئی چڑیا اس کے نشانے سے مار کھا ہی جاتی  تھی۔ مگر اسے بھی ملا جی نے چھڑا دیا تھا۔ ملا جی نے  لڑکوں کو بتا یا تھا کہ یہ جہان ہمارے ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنا ہے اور ہم سب کو اگلے جہان میں اللہ کے حضور جانا ہے۔ اس لیے اس دنیا سے منہ موڑ لینا چاہیے اور کسی بھی چیز سے دلچسپی نہیں رکھنی چاہیے۔ بس اللہ کو یاد رکھیں، نماز روزے کا دھیان دیں۔ مگر جب کرمے نے پوچھا کہ ملاجی اس طرح تو ہمیں گھر  گھرہستی بھی نہیں کرنی چاہیے اس  سے دنیا میں دل کھنچتا ہے۔ تو ملاجی نے بہت بڑی مسکراہٹ کے ساتھ کرمے کی تائِید کی، تاہم ملاجی بہت ناراض ہوئے جب کرمے نے حیرت سے پوچھا کہ ملا جی کا اپنا گھر ہے، دو بیویاں ہیں، درجن بھر بچے ہیں، کھیت ہیں، ہل ہے ، بیل ہیں۔ تو ملاجی نے اسی شام کرمے کی زبان درازی کی شکایت اس کے باپ سے کی۔ کرمے کی زبان تو بند ہوگئی مگر اس کا ذہن پریشان ہوگیا۔  لیکن یہ شروع شروع کی بات  تھی۔ بعد میں کرمے کا پتہ چلا کہ باقی لوگوں کی طرح وہ بھی مذہب کا ایک سچا اور سیدھا پتلا ہے جسے اس دنیا صرف اس لیے زندہ رہنا ہے تاکہ ایک روز وہ اللہ کے حضور پیش ہوسکے۔ اس کے لیے اسے زیادہ محنت نہیں کرنی بس ملا جی کی بات ماننی ہے۔ اب صبح صبح خواہ چڑیاں چہچہا رہی ہوں، بھنورے مست ہوں، تتلیاں گیت گاتی ہوں، موسم  کیسی بھی انگڑائی لے۔ اسے تو بس قران پڑھنا ہے۔ بڑے پیر کی حاضری دینی ہے۔ اور ہاں اس کی نماز قضا نہیں ہونی چاہیے۔ ملا جی نے اسے بتایا تھا بلکہ روز تاکید کرتے تھے کہ ایک وقت کی قضا نماز کی معافی ساری عمر نہیں ہوتی۔
اس روز نجانے کیا ہوا ۔ شائید رات کو کرما دیر سے  سویا۔ یا رات کو آرام سے نہیں سویا۔ یا موسم نے رات ہی رات میں سردی کی طرف بھرپور انگڑائی لی۔ اس کی آنکھ کھلی تو گرم گرم کھیس میں لیٹے لیٹےاس نے بھی نوجوانی کی انگڑائی لی۔ اسے آج سونے میں بہت لطف آیا تھا۔ اس نے اسی نشے میں سر کھجایا۔ شلوار میں ہاتھ ڈال کر ران کھجائی۔ نیم باز آنکھوں سے حیران ہوکر گھر کو دیکھا۔ ایسی روشن صبح تو کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سر واپس تکیے پر رکھا۔ کیا چیز عجیب تھی اس نے سوچا۔ اور پھر اس کے دل میں ایک گھونسا سا لگا ،ا س نے بجلی کی تیزی سے کھیس دور پھینکا اور بھاگتے ہوئے نلکے سے تازہ پانی سے منہ پر پانی ڈالا۔ کرما فجر کی نماز قضا کرگیا تھا۔ اس کا ارادہ وضو کرنے کا تھا۔ مگر اس کا ہاتھ رک گیا۔ اس کے کانوں میں ملاجی کی آواز گونجی کہ ایک وقت کی قضا نماز کی معافی ساری عمر نہیں ہوتی۔ پتہ نہیں مجھے وضو کرنی چاہیے یا نہیں اس نے سوچا۔ اب تو میں معافی کے قابل نہیں رہا۔ وہ ناشتہ کرنا اور فارغ ہونا بھی بھول چکا تھا۔ اس نے باہر جانے کے لیے کھیس بستر سے کھینچا مگر اسےواپس پٹخ دیا۔ اسی کھیس نے اسے گناہگار بنایا تھا۔ وہ ٹھٹرتا ہوا ملاجی کے مدرسے میں داخل ہوا۔سارے لڑکے واعظ سن رہے تھے۔ وہ خود کو کوستا ہوا  طیفے کے برابر میں بیٹھ گیا۔ ملاجی واعظ میں نماز کی ہی اہمیت بتا رہے تھے۔ آج تو انہوں نے کمال کردیا۔ کرما انہیں کم سن رہا تھا اور خود کوکوس زیادہ رہا تھا۔ ملاجی نے بتایا کہ جو نماز نہیں پڑھتا وہ رسالت کو جھٹلاتا ہے۔ ایسا شخص جھوٹا ہے اور جناب رسول   صلوۃ و سلام  پر ایمان نہیں رکھتا۔ یہ اطلاع کرمے کے لیے جان لیوہ تھی۔ اس کے کان بند ہوچکے تھے اور دماغ ماوف۔
اس کے کان میں ملا جی کی گرجتی آواز آئی کہ کون کون ہے جو رسول پر ایمان نہیں لایا۔
کرمے کی آنکھوں میں برسات کی ایک لڑی تھی جو رکتی نہیں تھی۔ ہرچند کہ اس روز دھوپ کھلی ہوئی تھی۔ آسمان صاف نیلا تھا۔ حد یہ کہ ٹھنڈی ہوا بھی بند تھی اور سارے کھلیان سیدھے کھڑے تھے۔ مگر کرمے کی دنوں آنکھوں سے برسات تھی کہ نہیں رکتی تھی۔ کچھ دیر میں کرمے نے محسوس کیا کہ سارا مدرسہ خاموش ہوگیا ہے اور ملا جی کی آواز بھی نہیں آرہی۔ اسے صرف اپنی ہچکیوں کی آواز آرہی تھی جو اب اونچی ہوتی جارہی تھیں۔ اس نے طیفے کو سب سے پہلے دیکھا جو انتہائی حیرت سے کرمے کو دیکھ رہا تھا۔ ایسی نظروں سے جیسے اس نے پہلی مرتبہ کرمے کو دیکھا ہو۔ پھر اس کی نظر باقی جماعت کی طرف گئی جس میں سے اکثر بے یقینی سے اور کچھ صدمے اور غصے سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ملاجی کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور جاتا تھا۔ وہ تذبذب میں تھا۔  کرمے نے سب سے آخر میں خود کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور اس کا الٹا ہاتھ ہوا میں اٹھا ہوا تھا۔
"کیا تیرا رسول پر ایمان نہیں ہے؟" خود ملا جی کی آواز میں بے یقینی تھی۔
"میں نے فجر قضا کردی!!ملاجی" کرما قریباً چیخ رہا تھا۔
"پھر تو نے ہاتھ کیوں اٹھایا  کملے" ملاجی کے اوسان بحال ہوئے، "تو کرما نہیں کملا ہے۔۔ تیرا یہ ہاتھ  تجھ سے بھی زیادہ کملا"
" مگر میرا وجود  خراب ہوگیا ہے ملاجی" کرمے کی تسلی نہیں ہورہی تھی،  " میں خود کو کیا سزا دوں کہ معافی ملے"
" اس سے زیادہ گناہ تو تیرے اس ہاتھ نے کیا ہے کملے" ملاجی پھر بولا
یہ دوسری اطلاع کرمے کے لیے اور روح فرسا تھی۔ اس کے ساتھیوں کی نظروں میں اب حقارت تھی۔ وہ مدرسے سے بھاگتا ہوا نکلا۔ اسے صرف یہ آوازیں آرہی تھیں کہ کرمے نے کیا کیا؟ہر کوئی اسے ملامت کررہا تھا۔اس کے دماغ میں اب کچھ بھی نہیں تھا۔ 
"میں نے یہ  کیا کیا؟ کیا کروں، کیا کروں؟؟؟"اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
بھاگتے بھاگتے سارے راستے میں ہر کوئی اسے کوس رہا تھا۔ وہ سارے پرندے جو راستے میں اسے روز ملتے ، درخت، کھیت کھلیان، راستے کی گرد۔ دور سے گذرتے ہوئے  بیل اور ٹریکٹر سبھی اسے کوس رہے تھے۔ وہ شام تک بیلے میں چھپا رہا اور روتا رہا۔ اسے کوئی یقین  نہیں دلا سکتا تھا کہ اسے معافی مل جائے گی۔ اسے یہ واضع ہوچکا تھا کہ نماز قضا کرکے اس نے پاک رسول صلوۃ و سلام پر ایمان کھودیا ہے اور اس کے ہاتھ نے یہ بات صاف عیاں بھی کردی ہے۔ اسے لوگوں کی آوازیں سارا دن سنائی دیتی رہیں۔
"توں کی کیتا؟"
"توں ہتھ کیوں اٹھایا"
"ایہنوں وڈھ دے"
شام تک ساری آوازیں بند ہوچکی تھیں اور صرف ایک آواز باقی تھی جو اس کے دماغ میں بس گئی تھی۔
"ایہنوں وڈھ دے"
شام کے اندھیرے میں کرما واپس گھر پلٹا۔ اس کے آنگن میں تقریباً سارا گاوں اکٹھا تھا۔ دور سے ہی سب نے اسے شناخت کرلیا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ سارے آج کے واقعے پر اس کے باپ سے جواز پوچھتے رہے ہوں گے۔ اس کے سامنے آتے ہی سب نے اسے لعن طعن کرنا شروع کردی۔ اس کے وہ سارے دوست جو ابھی تک اس کی تما م واہیات باتوں کے ہمراز تھے اسے مارنے کے درپے تھے۔ وہ خاصی دیر خاموش کھڑا انہیں سنتا رہا اس وقت تک جب تک ان کا غصہ تشدد میں بدلتا۔
" میں اس نوں وڈھ دتا ہے " اس نے اپنا کٹا شدہ ہاتھ سب کے سامنے کردیا، " اب مجھے رسول اور اللہ سے معافی مل جائے گی"
اس کا لہجہ سپاٹ اور اونچا تھا۔ محسوس ہورہا تھا کہ آج وہ بڑا ہوگیا ہے۔ سب سے پہلے ملا جی نے بڑھ کر اس کے کٹے ہوئے ہاتھ کو بوسہ دیا،
"اللہ تے اس کا رسول اب تجھ سے راضی ہیں"
میں یہ خبر سنتے سنتے غنودگی میں چلا گیا۔ میرے خواب میں رحمت العالمین صلوۃ و سلام کھڑے تھے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ان کے ہاتھ دعا کے انداز میں بلند تھے اور وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا تمہارے یہاں میرے رحمت ہونے کا یہی مطلب  ہے"

ڈاکٹر عنبر تاجور

Saturday, 4 October 2014

استاد نے کہا

ہم استاد کے پاس پہنچے تب وہ آسمان کو تکے جارہا تھا۔ ایک ٹک اور خاموش۔ اس نے ہمیں آتا دیکھ کر سر نیچا کرلیا اور ہماری طرف دیکھا۔ ہم نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو خالی تھیں ۔ بالکل خالی۔ 
ہم نے استاد سے پوچھا کہ یہ آنکھیں خالی کیوں ہوتی ہیں
استاد نے کہا، مورکھ آنکھیں خالی نہیں ہوتیں، من خالی ہوتے ہیں۔ اگر من میں جلن ہو تو آنکھیں جلتی ہیں شعلے برساتی ہیں۔ من ناچتا ہو تو آنکھیں چنچل ہوجاتی ہیں۔  من سوچتا ہو تو آنکھیں چپ سادھ لیتی ہیں۔ لگتا ہے خالی ہیں۔ 
وہ کہتا رہا
پتہ ہے یہ سب لگن ہے۔ چپ سادھ بھی ایک لگن ہے۔ اپنے سے ملنے کی تڑپ ہے۔ اصل سے بچھڑنے کا غم ہے۔ سب لگن ہے۔ دھک سھک کرتا من بھی اصل کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ شریر میں دوڑتا لہو بھی اصل کی تڑپ میں بھاگتا ہے۔ یہ دھرتی، یہ ساگر۔ یہ امبر، سب اصل کی طرف بھاگتے ہیں پر مورکھ جانتے ہی  نہیں کہ سب گول گول گھومتے ہیں، کہیں نہیں جاتے۔ اصل ان کے بھیتر ہے، وہ اپنے کو کہیں باہر کھوجتے ہیں، اس لیے گول گول گھومتے ہیں۔ پھر تھک کر گر جاتے ہیں،کہتے ہیں یہ جیون تھا، اب انت ہوا ہے۔ میں کہتا ہوں اب شروع ہوا ہے۔ تم گول گھومتے گھومتے اپنے جیون میں چھید کرچکے تھے اور اب اس چھید میں پھنس چکے ہو۔ چھید سے نکلنے کے واسطے گول گھومنا بند کرنا ہوگا۔ تم ہی بتاو یہ جیون کا انت ہے یا شروع؟
جلن، پیار، دھکاوا، بھلاوا، پکار سب ایک طرح سے لگن ہے۔ مگر یہ لگن چھید کرتی ہے۔ ایسی لگن ہے جو گول گھوماتی ہے کہیں جانے نہیں دیتی ہمیشہ اپنے پاس رکھتی ہے اسی لیے چپ سادھ بھی ایک لگن ہے، ہمیشہ دوسرے کو اپنے بھیتر آنے دیتی ہے۔ سب کو انہیں سے ملا دیتی ہے۔ ایسے من خالی ہوجاتا ہے، کہیں انت نہیں ہوتا۔ اس لیے آنکھیں خالی دکھتی ہیں۔ جلن ہو تو آگ برساتی ہیں، دکھ ہو تو راکھ ۔
بات چپ سادھ کی ہے۔

Wednesday, 7 May 2014

کراچی کے مسائل کا حل اور اسلام

کراچی کے مسائل کا حل اور اسلام

ایک زمانہ تھا کہ ہمارے مسائل ہمارا مذہب حل کرتا تھا ۔ یاد کریں اور بتائیں کہ کب ہمارے مسائل کو ہمارے مذہب سے حل کروانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ شائید ابھی آپ پیدا  نہیں ہوئے تھے۔ ہمیں تو یاد ہے کہ ہمارے ہر کام میں رکاوٹ مذہب کا  نام لے کر ہی ڈالی گئی ہے۔ نہیں نہیں میں یہاں مذہب کے خلاف کچھ نہیں کہہ رہا ہوں ، میں تو بس آپ کے سے چند سوال کرنا چاہا رہا ہوں۔ آخر کب یہ فیصلہ ہوگا کہ مذہب اور دنیا دو جدا اعمال نہیں ہیں؟ علمأ نے اپنی پوری توانائیاں دین اور دنیا کو جدا کرنے میں صرف کردیں ہیں اور خوب جانفشانی سے آپ کو یقین دلا دیا ہے کہ دنیا کے کسی کام سے اگر آخرت کا ثواب مل سکتا ہے تو وہ یہ دنیا تیاگ دینے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے ورنہ یہ دنیا تو ہے ہی برائی کی جڑ۔ تاہم آپ پلٹ کر یہ سوال کریں کہ حضرت آپ خود بھی تو دنیا کی آسائشوں سے خوب لطف اُٹھا  رہے ہیں تو ایک کڑکدار آواز میں جواز ملتا ہے کہ دنیا کی نعمتیں نیک انسانوں کے لیے وقف ہیں۔ ویسے بھی علمأ کا خطبۂ جمعہ ہو یا عید کا واعظ ہر عالم آپ کو آپ کے گناہ یاد دلاتا ہے اور آپ پر آشکار ہوتا ہے کہ آپ سے زیادہ منحوس اور کوئی مخلوق اس جگہ ہے نہیں ہے۔ 

علمأ کا بندوں پر کیا حق ہے؟

جی جی میں تو صرف یہ ہی بتا رہا ہوں کہ آپ نے بھلا مذہب کے لیے کیا کیا ہے؟ سال میں چند سکے بڑا احسان کرتے ہوئے علمائے کرام کے پر ہاتھ کر اپنے تئیں نیکی کمائی ہے۔ کیا آپ نے سارا سال نماز مسجد میں ادا کی؟ کیا آپ نے زکات کی رقم علمائے کرام کو ایمانداری سے ادا کی؟ کیا آپ نے اپنی "عیاشی" ترک کرتے ہوئے حج کی کوشش کی؟ کیا آپ نے اپنا نام حضرت مولانا کے پاس برائے جہاد درج کرایا؟ کچھ بھی تو نہیں۔ اب اگر آپ ابھی فوت ہوگئے تو اپنا یہ گناہگار چہرہ لیکر  کیسے حوروں سے معانقے کی امید رکھتے ہیں۔ وہ دودھ اور شہد کی نہریں محض ان جانفشانوں کے حصے میں آئیں گی جو اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں، ان کا اوڑھنا بچھونا صرف عبادت ہے۔ وہ خالص بندے اپنی شلواریں پاکیزگی کی خاطر پنڈلیوں پر باندھتے ہیں اور اپنی بے ترتیب ڈاڑھی کو ہوا میں معلق چھوڑ دیتے ہیں اور اس بات کا ہرگز لحاظ نہیں رکھتے کہ وہ کونسے زمانے میں بستے ہیں اور یہ ملحد دنیا والے ان کے بارے میں کیا ہرزہ سرائی کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس دنیا   کی نعمتوں سے موڑ لیا ہے اورہرگز اس دنیا سے آخرت کا لحاظ نہیں کیا ہے۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ اس دنیا کو آخرت کی کھیتی اسی لیے کہا گیا تھا کہ اس دنیا سے منہ موڑ لیا جائےاور یہاں کی مشقتوں سے آسانی سے نکلنے کا یہ ہی بہتریں حل ہے کہ ساری ذمہ داری سے کترا کر کر خالص عبادت میں غرق ہوا جائے۔

ایمان داروں کے لیے دنیا ایک قید خانہ ہے

یہ پاکباز اور صلے کے حقداران جانتے ہیں کہ انسان کو صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کو آسائش، غذا، سکون، اور نعمتوں کی فراوانی اور سہولت زندگانی اس دنیا میں نہیں بلکہ دوسری دنیا میں ہی نصیب ہوسکتی ہے۔ یہ دنیا کیا ہے بھلا محض اسّی پچاسی سال؟ جس کے لیے پیسہ اکٹھا کیا جائے، تگ و دو اور بےکار محنت اس پیسے کی لیے کی جائے جو آپس میں لڑوادے؟ سارا قصور اس پیسے کا ہی ہے یا اس کے عقب میں شیطان کی کرفرمائی۔ برا ہو شیطان کا کہ انسان کو مسلسل دھوکا دیتا ہے اور بلاوجہ انسان کو راہ سے بھڑکاتا ہے ورنہ تمام انسانوں کی سرشت تو اچھائی پر رکھی گئی ہے۔ اگر ایک یہ کمبخت نہ ہوتا تو سب انسان مسلمان ہی ہوتے اور جنت میں ہی جاتے۔

کراچی کے مسائل کا حل اسلام ہی ہے

یہ تو ضمنی بات تھی اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کراچی کے مسائل کا کیا حل ہے اور ہمارا ٰعظیم مذہب اسلام اس کا کیا حال تجویز کرتا ہے۔ دیکھیے آجکل میڈیا کا دور ہے اور علمائے کرام نے اس ناپاک شعبے کو پاک کرنے کی بھرپور سعی ہے اور اسی میڈیا کے ذریعے ہمارے عظیم مذہب کے عظیم پیغامات نشر کیے ہیں۔ انہی نیک کاموں کی وجہ سےیہ شعبہ ترقی کررہا ہے ورنہ آپ جانتے ہیں کہ کوئی باطل اس وقت تک پنپ نہیں سکتا کہ جبتک اس میں حق کی آمیزی نہ کرلی جائے۔ علمائے کرام جانتے ہیں کہ اخلاقیات کے تمامتر اصول ہمارے عظیم مذہب سے ہی مستعار لیے گئے ہیں اور ان سے پوری دنیا مفت میں افادہ کررہی ہے۔ یہ ہی وہ اصول ہیں جن پر عمل کرنے سے کراچی کے مسائل پلک جھپکتے میں حل ہوسکتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کئی بار بہت سارے جئید علمائے کرام میڈیا پر کرچکے ہیں۔ وہ سب یہ بات کھول کھول کر ان بے تکے اور ناسمجھ عوام کو بتا چکے ہیں ہیں کہ اگر اس ملک میں ایک بار اسلامی نظام نافذ ہوجائے تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ مگر ان عیاش حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔
آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ کیا واقعی امن ہمارا اولین مسلئہ ہے؟ جی نہیں، ہم سب مسلمان بھائِ ہیں اور ہمیں یاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں کہ جب کسی ایک حصے میں بیماری ہو تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے۔ محض ہنود و یہود کی سازش امن کا ہوّا کھڑی کرتی رہتی ہے۔ آپ سارا دن سڑک پر رہتے ہیں کیا کوئی کام رکا؟ کیا واقعی ہمیں گرمی پریشان کرتی ہے؟ ہرگز نہیں ہمیں جہنم کی گرمی یاد رہتی ہے- لہذا یہ لوڈشیڈینگ وغیرہ ہی نہیں بس عیاش حکمران آج حکومت چھوڑیں اور زمام اقتدار علمائے کرام کے حوالے کریں، کل اسلامی نظام نافذ ہو اور ادھر تمام مسائل حل۔ بھلا کیا ہی طنز ہے؟ نہیں ابھی میں اسلامی طرز حکومت کا عملی نظریہ پیش کرتا ہوں آپ خود تسلیم کرلیں گے کہ واقعی سارے  مسائل کس طرح  حل ہوتے ہیں؟سب سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ میں صرف کراچی کی بات کررہا ہوں باقی سارے پاکستان سے مجھے اس لیے غرض نہیں کہ یہ ملک خداداد ہے اور اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اس لیے ہمیشہ قاِم دائم رہے گا۔ ہاں البتہ کراچی مغرب کی اندھادھند تقلید میں اس مقام پر آگیا ہے جہاں سے آگے صرف تباہی کا غار ہے۔

خواتین: اسلام کا سلگتا مسلہ ہیں

پہلا قدم جو ہمیں اٹھانا ہے وہ خواتین کی بلاجھجھک اور بے ہنگم تعلیم ہے۔ خواتیں کا جائز مقام گھر ہے چنانچہ انہیں اس تعلیم تک محدود کرنا ہوگا جو گھر کو جنت بنانے کے کام آئے۔ میڈیکل سائنس، انجنئیرنگ، کامرس، فوجی اور پولیس جیسے مردانہ کاموں میں اس صنف نازک کا کیا کام؟ گھریلو سلیقے کی تعلیم بھی اگر نیک اور باپردہ مدرسات گھر پر ہی جاکر انجام دیں تو برکت اور بڑھ جائے گی۔ ناصرف مردوں کے لیے ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے جنہیں محنت کے کاموں کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ زیادہ مرد زیادہ آمدنی گھر لائیں گے اور اس طرح خوشحالی ہوگی۔ خواتین کو میری اس تجویز سے ناراض نہیں ہونا چاہیے اور مغرب کی نقالی میں اسلام کے زریں اصول کی پامالی کی وجہ نہیں بننا چاہیے تاکہ ان پر فرشے رحم کریں۔ خواتین کو یاد رکھنا چاہیے کہ زیادہ تر خواتین ایسی روش کی وجہ سے پہلے ہی جہنمی قرار دی جاچکی ہیں۔ البتہ وہ خواتین جو اپنے خاوند کی وفاشعار،  اورکفائیت شعار ہیں اور خاوند کے سامنے زبان درازی نہیں کرتیں اور ان کی تابع بن کر رہتی ہیں وہ اپنے خاوند کی نیک اور صالح باندی بن کر جنت میں انہیں واپس مل جائیں گی۔ یہ یاد رکھیں کہ اسلام نے خواتیں کو ایک باعزت مقام عطا کیا ہے اور جو استحصال وقت آمد اسلام کیا جارہا تھا اس میں تخفیف کردی ہے۔ اس طرح خواتین کی شادی کا مسلہ بھی حل ہوجائے گا۔ وہ لڑکیاں جو اچھے رشتے نہ ملنے کی وجہ سے معاشرے میں برائی پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں انہیں اچھا کمانے والے مرد مل جائیں گے۔ مردوں کو ویسے بھی ایک وقت میں چار شادیاں کرنے کی کھلی اجازت ہے۔  چونکہ اسلام دین فطرت ہے اس لیے اس نے ان مسائل کا حل پہلے ہی تجویز کردیا ہے جس کی انسانیت کو ضرورت تھی۔

مذہبی منافرت کا حل

دوسرا اہم مسلہ مذہبی منافرت ہے جس کی واحد وجہ ہنود و یہود کی ایک منظم سازش ہے۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی یہ سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع ہوگئی تھیں۔ یہ سازشیں اتنی طاقتور تھیں کہ ایک عبدﷲ بن سبا جیسے ایک مکار شخص نے اس زمانے کے سادہ لوح اور نیک مسلمانوں کو آپس میں لڑوا دیا تھا اور کئی صحابہ رضوان ﷲ تعالیٰ علیہم سلام اس روش میں بہہ گئے، میں اور آپ تو ہیں کس کھیت کی مولی؟ اس کا آسان حل ہے کہ تمام قبیح اور ناپسندیدہ رسوم و رواج پر یکسر پابندی عائد کردی جائے جو اسلام میں بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں۔ ہنوستان میں بسنے کی وجہ سے اور مسلمانوں کی روائیتی فراخدلی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ریشہ دوان ہندوؤں نے سادہ لوح اور دریا دل مسلمانوں کی عبادت میں کچھ ایسی رسوم داخل کردی ہیں جنہیں آج عام مسلمان اپنی عبادت کا حصہ سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک سنگین حالت ہے۔ بھلا اگر ان رسوم کی بجاآوری کے دوران موت آجائے تو کیا جواب دیں گے؟ لہذا ہمیں آخرت سے ڈرنا چاہیے ناکہ کسی فساد کے اندیشے سے۔ ظاہر ہے جب علمائے حق، آوازہ طلب حق برپا کریں گے تو وہ ناسمجھ مسلمان جو ہنود و یہود کی اس سازش کا شکار ہیں تذبذب کا شکار تو ہوں گے تاہم جلد ہی اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں گے، ہاں البتہ وہ ناپاک شیطانی آلہ کار زندیق جو خود کو مسلمان ظاہر کیے ہوئے ہیں، آشکار ہوجائیں گے۔ کیا آپ ان کو بھی تحفظ دینا چاہیں گے؟ یقیناً نہیں۔ ہاں ہاں آپ جانتے ہیں کہ یہ وہ ٹولہ ہے جو اسلام میں تفریق کا باعث بن رہا ہے اور انسانی بنیادی حقوق جیسے بے بنیاد اور کھوکھلے نعرے سے اسلام جیسی آفاقی حقیقیت کو بدنام کررہا ہے۔ یاد رکھیے کہ اگر کوئی بنیادی انسانی حق ہے تو وہ صرف اور صرف عبادت میں خلوص حاصل کرنے کا نام ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ہمارا کام محض عبادت اور اسلام کا نام روشن کرنا ہے باقی روزگار اور غذا کا بہم بہنچانے کا ذمہ خود خالق کا ہے۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ آپ معاشرے میں ڈاکٹروں، انجئنیروں اور وکیلوں کا تو آبادی کے تناسب سے طے کریں اور مذہب کو نظرانداز کردیں۔ سب سے زیادہ ضرورت اس بےبہرہ اور عاقبت ناندیش انسانوں کو مذہب اور علمأ کی ہے جو آپ کی بخشش کی ضامن ہوتے ہیں۔ اس گوناں گو مصروف دنیا میں جو آج اپنی ٰعظیم آخرت کو یکسر بھلا بیٹھی ہے، ہر دس افراد کو ایک عالم حق کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ اپنی روح کی تشفی کا بندوبست کرسکے اور اس لالچی، خودغرض اور فانی دنیا سے پیچھا چھرانے میں کامیاب ہوسکے۔ ظاہر ہے کہ یہ اس وقت ممکن ہے جب تمام افراد ایک یگانگت سے بہرہ مند ہوں اور آپس کی تفرقہ بازی میں نہ الجھیں بلکہ ایک ہی فرقہ حق سے متعلق ہوں جو کافروں پر شدید اور آپس میں رحمدل ہوں۔

اسلامی معاشرہ ایک طرح کی جنت ہے

آپ خود انصاف سے کام لیں کہ جہاں مرد خوشحال ہوں اور ان کی بیویاں انکے گھروں میں خوش اسلوبی سے ان کی اولاد کی صالح تربیت میں مصروف ہوں۔ تمام افراد کی اولین ذمہ داری نظام صلوۃ قائم کرنا ہو۔ دن میں پانچ وقت ہر قسم کا کاروبار بند ہوجائے۔ افراد رات کو جلدی گھر آجائیں اور اپنی بیویوں کی محبت بھری رفاقت سے فارغ ہوکر نماز تحجد میں مصروف ہوجائیں اور مصلے پر صبح ہوجائے۔ کیا ایسے معاشرے میں امن و امان کا مسلہ پیدا ہوگا؟ کیا ہم بدتہذیب لوگوں کی طرح، جیسے مغرب ہوا کرتا تھا، سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔ ویسے بھی یہ احتجاج کا طریقہ مغرب کی ایجاد ہے۔ ایک سچا کھرا مسلمان اسطرح کی بدتمیزی کا مرتکب نہیں ہوا کرتا بلکہ وہ اپنے مسائل کا حل اپنی نماز میں دعا کی صورت میں ادا کرتا ہے اور وہ بھی شکائیت سے نہیں کہ جیسے اس کا مالک اسے رکھے۔ مسلمان کبھی بےتاب نہیں ہوتا۔

سوال سے مت گھبرائیں

یہ سوال ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے اور آپ کو دعوت دی ہے کہ آپ عقل استعمال کریں اور فیصلہ کریں کہ اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے ووٹ جیسے ملحدانہ عمل کا شکار ہوجائیں گے یا شریعت کے نفاذ کی دعا کرتے ہوئے علمائے کرام کا ساتھ دیں گے۔ یاد رکھیے کہ جو کوئی اپنی مرضی کرے گا وہ خود آخرت کے عذاب کا ذمہ دار ہوگا اور رحمت سے دور کردیا جائے گا۔
وسلام و خیراندیش۔