Research
Tuesday, 20 June 2023
چاندنی کے بھوت
اقوام عالم ور گلوبل ولیج کا تصور
کتے کی موت
یہ کہانی میں نے مہابھارت کے سب سے مستند نسخے، "پونا کی مہابھارت" سے لیا ہے۔ پونا کی مہابھارت، "پربھارکر تحقیقی مرکز، پونا" سے نقل کیا ہے۔ ۲۷ جلدوں میں مہابھارت کا یہ نسخہ ۳۹ سال کی تحقیق کے بعد تیار ہوا۔
وادی، رات اور ہم
یہ مرض لاعلاج نہیں
پتہ چلا کہ یہ وہ بیماری نہیں ہے جس کا علاج نہیں ہو سکتا، یہ جذبات ہے۔
درحقیقت، پیٹ کے مسائل جسم پر جذبات کے اثرات میں آئس برگ کا صرف ایک سرہ ہیں۔ جب آپ کو پہچانا نہیں جاتا ہے، آپ کو اپنے چھپے ہوئے پہلو کے دریافت ہونے سے ڈر لگتا ہے، آپ ناواقف لوگوں کو ہیلو کہنے سے ڈرتے ہیں، آپ براہ راست دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کرتے، اور آپ خود کو کھولنے کی ہمت نہیں کرتے... گھبراہٹ، افسردہ ، خوفناک، خود سے انکار کرنے والے جذبات کو وہاں ذخیرہ کیا گیا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈپریشن، سماجی گھبراہٹ اور یہاں تک کہ آٹزم کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ لوگ کبھی نہیں تھکتےصرف وہ لوگ جو اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔جب ہمارا ذہن سمندر کی طرح وسیع ہوتا ہے تو ہمارے جذبات سمندر کے ایک چھوٹے سے بلبلے کی طرح ہوتے ہیں، جو اٹھتے ہی مر جائے گا، طوفان بننے کے لیے کافی نہیں۔ دماغ کی عظمت اپنے اور بیرونی دنیا کے درمیان مفاہمت اور انضمام سے آتی ہے۔ جسم اور دماغ متحد ہیں، دل کھلا ہے، اور جسم جڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیے لوگ تھکن سے نہیں مر سکتے لیکن صرف سانس کی کمی سے۔ جسمانی صحت صرف ورزش سے نہیں آتی۔ جب آپ اپنے دل کو کھولیں گے اور مثبت توانائی کو اندر آنے دیں گے، آپ صحت مند رہیں گے۔ جب ہم اپنے عمل میں کافی مضبوط نہیں ہوتے ہیں، تو ہم اکثر جذبات اور خیالات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے عمل اور خیالات کا ایک سا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت، آپ دیکھیں گے کہ "جذبات" سے نمٹنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا اور آپ کو ملنے اور ساتھ رہنے کے مراحل سے گزرنا چاہیے۔
پہلا مرحلہ: "آگاہی"
جب "انا" نسبتاً سنجیدہ ہوتی ہے، تو دوسروں کی طرف سے ایک لفظ یا ایک نظر ہمیں مزاحمت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اور غصے میں بھی آ جاتی ہے۔ تناؤ بھرا جسم، سانس بند سینے یا گرم کان اور سر پر وزن؛ یہ سب سرگرمی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارا تصادم بڑھا دیتے ہیں۔
آرام کرنے کی کوشش کریں اور اس حالت سے آگاہ رہیں۔
یہ ٹھیک ہے، آپ کو پہلے اس جذبے کے وجود سے آگاہ ہونا چاہیے، جس میں آپ کے جسم کے کسی بھی حصے میں ہوا کے بہاؤ کا واضح اشارہ شامل ہے، اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس وقت جذبات سے متاثر ہوئے ہیں۔
راز: جتنی تیزی سے ہم اپنے جذبات سے واقف ہوں گے، اتنی ہی تیزی سے ہم ان سے باہر نکل سکتے ہیں۔ آئندہ فیصلہ سازی اور رویے جذبات سے کم پریشان ہوں گے۔
یہ ایلما کی ایک تکنیک ہے کہ فریبی خیالات سے مت ڈرو، صرف آگاہی میں دیر ہونے سے ڈرو۔
جب آپ اس ابتدائی مرحلے پر ہوتے ہیں تو آپ 'جذباتی بیداری' کی تربیت کیسے کرتے ہیں؟ چاہے وہ خاموشی سے بیٹھنا ہو، مراقبہ کرنا ہو، منتروں کا جاپ کرنا ہو، آیات کی تلاوت کرنی ہو، سانس لینے کا مشاہدہ کرنا ہو، بیداری پیدا کرنا ہو، یا کانوں یا سانس پر توجہ مرکوز کرنا ہو، مقصد یہ ہے کہ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کی جائے، اس لمحے کی ہر حرکت کو واضح طور پر جانا جائے چنانچہ یہ کیسے ہی کریں بس طویل عرصے تک اپنی اس بیداری کی تربیت کی صلاحیت کو جتنا لطیف اور تیز کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔
دوسرا مرحلہ: ساتھ رہنا؛ یا "جذباتی نظم" حاصل کرنا۔
اس حالت کے نوٹس لینے کے بعد اس کا خیال رکھیں۔
جب "جذبات" آپ کو للکارنے کے لیے تیار ہو، اور آپ تھوڑی سی کوشش کے ساتھ "جذباتی" ردعمل سے باہر نکل جائیں، تو اسے مزاحمت یا دبانے کی کوشش نہ کریں، اسے آنے اور جانے دیں۔ اگر آپ اس چال کو قبول نہیں کریں گے تو یہ آپ کے خیالات میں الجھ جائے گی، اور آپ بار بار اپنے آپ کو یا دوسروں کا فیصلہ کرنے لگیں گے، یا خود کو کمتر محسوس کریں گے یا گریز کریں گے، یا نفرت پیدا کریں گے، پھر آپ اس سے شکست کھا جائیں گے، اور آپ فضول باتیں کریں گے۔جب آپ بہت پرسکون رہتے ہیں اور اسے خاموشی سے دیکھتے ہیں،
اصول ہے کہ "استقبال نہ کریں، مسترد نہ کریں، پیروی نہ کریں"
یوں یہ حالت قدرتی طور پر غائب ہو جائے گی، یہ جیتنے کی کوئی چال نہیں ہے بلکہ قدرتی عمل ہے۔ اس وقت آپ جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں اس پر غور کریں، اور اس وقت آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ صرف اس "آگاہی" کو برقرار رکھنے کے لیے بیداری زندگی کے ہر لمحے میں کی جا سکتی ہے، نہ کہ صرف مراقبہ، تلاوت اور جاپ میں۔ آسمان پر تیرتے بادل آسمان کے سکون کو متاثر کیے بغیر آزادانہ آتے اور جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے یہ جان کر کہ جذبات جسم اور دماغ میں آتے اور جاتے ہیں بغیر رکے، کسی کو بالکل متاثر کیے بغیر، یہ بہترین طریقہ ہے ۔ اچھی صحت میں رہنے کے لئے۔
دنیا کی کامیابی
استاد نے بتایا کہ فطرت کی کوئی ظاہری شکل نہیں ہوتی، تمامتر فطرت میں، انسان خود سب سے زیادہ ظاہر ہیں، اور تمامتر فطرت میں خود انسان سب سے بڑی فطرت ہے۔ لیکن کسی چیز میں فکر نہ ہو تو اس کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ جب کوئی شخص اس فطرتی حالت تک پہنچتا ہے جس میں کوئی دماغ اور کوئی شکل نہ ہو تب اس کے پاس فطرت کی کامل روشن خیالی کا دل ہوتا ہے، اور انسانی دل اس قدر آسمانی ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ سوچتا ہے اسے متاثر کر سکتا ہے، اور یوں وہ دنیا کا مالک ہے۔انسان دنیا کا مالک بننے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے تمام چیزوں کی پیدائش اور موت کے بنیادی قانون یعنی دھرمتا پر عبور حاصل کر لیا ہے اور کائنات کی تمام چیزیں اس کی پابندی کرتی ہیں۔ جب ہم اور کائنات کے ماخذ کے ساتھ ایک ہو جائیں گے، تو ہمیں حقیقی فطرت مل جائے گی، جو نہ پیدا ہو سکتی ہے، نہ فنا، نہ گندی، نہ صاف، نہ بڑھ سکتی ہے اور نہ گھٹ سکتی ہے۔
Tuesday, 20 August 2019
لال بھجکھڑ
لال بھجکھڑ نے سیکھا کہ پھنسے ہوئے آدمی کو کمر سے رسی باندھ کر کھینچنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
کچھ دن گذرے تھے کہ راہ چلتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی درخت پر پھنس گیا ہے اور اس سے اترا نہیں جارہا۔ لال بھجکھڑ کو دانائی آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لال بھجکھڑ ہمارے سماج میں جابجا پائے جاتے ہیں۔ علاج معالجہ، مذہب، سیاست، عمارت سازی، عدلیہ، دفاع، خارجہ تعلاقات غرض کہ زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لال بھجکھڑ اور ان کے مشورے حاضر ہیں۔ یوٹیوب چینلز پر، فیس بک والز پر، ٹیوٹر الرٹ پر اور حد یہ کہ لنکڈان فیس پر بھی ایسے مشورے حاضر ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ دکھ اس بات پر نہیں ہے کہ ہمارے یہاں خونی بواسیر کا علاج تعویز گنڈوں سے کیا جاتا ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ لوگو صحتمند بھی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
ںہیں ہے تو اس شعبے کا مشورہ نہیں ہے جس میں خود کام کرتے ہیں۔ اپنے ہی کام سے نفرت ہمارا ہی خاصہ ہے!
جہالت کی سب سے افسوسناک حالت وہ ہوتی ہے جہاں خود کسی کو جہل سے نکلنے کی جستجو نہ ہو۔ جس بارے میں مکمل آگہی نہ ہو اس پر رائےزنی مناسب نہیں ہوتی۔ ذاتی تجربہ آفاقی نوعیت کا نہیں ہوتا۔ سب پر، ہر حالت میں، ہروقت لاگو نہیں ہوسکتا۔ ذاتی تجربے سے آفاقی نتائج اخذ کرنا اور سب پر لاگو کرنا اخلاقی جرم ہے۔
پاکستان لیجیٹیمیسی کرائسیس
پاکستان لیجیٹیمیسی کرائسیس ۱۹۴۷ سے ہی مسلہ رہا ہے۔ انڈین اینڈیپینڈنس ایکٹ ۱۹۴۷ کے تحت قائداعظم کو ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کے لیے ایک ایسا گورنر جنرل چاہیے تھا جو ملکہ کی خوشنودی کی بجائے پاکستان کا سوچے۔ اس لیے انہوں نے خود کو اس عہدے کے لیے سب سے مناسب جانا لیکن اس کا ایک اثر یہ ہوا کہ گورنر جنرل کی آئینی حیثیت میں انہیں حکومت کے روزانہ کاموں میں دخل دینا پڑا۔ قائد اعظم کی طاقتور شخصیت آئینی ہونے کے باوجود وزیراعظم کو روزانہ ہدایات دیتے رہے۔ ان کے بعد بھی یہ سلسلہ ۱۹۵۶ تک جاری رہا۔ بالاآخر جنرل ایوب نے الزام لگا کر اسکندر مرزا کی غیرآئینی حکومت باضابطہ طور پر ختم کردی گئی۔
اس کے بعد پارلیمانی نظام کو نقصاندہ قرار دے کر صدارتی نظام نافذ کردیا گیا۔ صدر نے بھی وہی کیا جو وزیراعظم کرتے رہے۔۱۹۷۳ میں صدارتی نظام کو نقصاندہ قرار دے کر دوبارہ پارلیمانی نظام نافذ کردیا گیا۔ معراج خالد اور فضل الہی چوہدری جیسے ملازم صدر وجود میں آئے۔ جنرل ضیا کی آمد کے ساتھ ہی آئین کی دفعہ ۲/۵۸ بی کے ذریعے عملاً صدارتی نظام دوبارہ نافذ ہوگیا۔ اختیارات کے توازن کے نام پر صدر کو پارلیمان توڑنے کا اختیار برقرار رکھنے کا نتیجہ صدر غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری جیسے دخل انداز صدر نمودار ہوئے۔
اسی طرح صدر آصف زرداری جیسے سیاسی قدآور شخصیت نے آئینی صدر کی طاقت اتنی زیادہ بڑھائی کہ وزیراعظم عملی طور پر ایک ملازم کی حِیثیت اختیار کرگیا۔ صدر زرداری نے دوبارہ حکومت کی امید پر ۲/۵۸ بی کو میثاق جمہوریت کے تحت ختم کردیا۔ اس طرح نواز شریف ایک انتہائی طاقتور وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے۔ بالاآخر نواز شریف جیسے طاقتور وزیراعظم نے دوبارہ ملازم صدر کو رواج دیا۔
اس ساری کہانی میں کئی فوجی چیف آف سٹاف کا سیاست میں کردار خاصا نمایاں رہا۔ اس کشمکش کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج کو براہ راست ریاستی سیاست میں مداخلت کرنا پڑی۔ فوج کو حکومتی امور میں مداخلت اس لیے کرنا پڑی کے پاکستان میں ۱۹۴۷ سے اب تک بھی ریاست اور حکومت میں زیادہ فرق نہیں سمجھا جاتا۔ کچھ ریاستی امور ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں حکومتی مفاد سے ریاستی مفاد زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ بریگزیٹ اس کی ایک واضع مثال ہے جہاں ریاست کے مفاد کے لیے تین حکومتیں آناً فاناً چلی گئیں۔
اختیار کے اس توازن میں ایک تو وہ طریق کار تھا جسے ترکی یا بنگلہ دیشی ماڈل کہا جاتا رہا ہے جس میں فوج کی اعلی قیادت کو عملی طور پر حکومت میں شریک کرلیا گیا۔ یہ دونوں ماڈل ترکی اور بنگلہ دیش میں بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ اس لیے وہ آوازیں اب پاکستان میں نہیں آرہی ہیں۔
آئینی طور پر پاکستان کا صدر ہے تو وفاق کا نمائندہ مگر اسے سلیکٹ ہماری اسمبلیاں کرتی ہیں اور وہی شخص صدر بنتا ہے جو منتخب حکومت چاہتی ہے۔ اس طرح ایک ملازم صدر ہی مقرر ہوتا ہے۔
کیا اچھا ہو کہ صدر کے پاس ۲/۵۸ بی کا اختیار یقیناً نہیں ہو لیکن وہ براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو۔ وہی جوائنٹ چیفس آف کمیٹی کا صدر ہو۔ خود اپنی صوابدید سے (وزیر اعظم کے مشورے سے نہیں) چیفس آف اسٹاف، اٹارنی جنرل، اکأنٹنٹ جنرل، چیف جسٹسز، چیرمین بورڈ آف ریوینیو اور سفیروں جیسے آئینی عہدے پر تقرری کرے۔ نیشنل اسمبلی کے منظور شدہ قانون کو واپس بھیج سکے اور اس کے دوسری دفعہ انکار کے باوجود بل پاس نہ ہو بلکہ اسمبلی کاروائی جاری رکھے۔ مزید یہ کہ صدر قانون بنانے کے لیے اسمبلی کو خطاب کرسکے اور ہدائیتی نوٹ بھی بھیج سکے۔ البتہ صدر کو اسمبلیوں کی مخصوص تعداد برخاست کرسکتی ہو۔
مشورہ ہے! مانو یا نہ مانو مرضی ہے!!!
Wednesday, 22 August 2018
پاکستان میں مولوی کا کردار
عالمی برادری اور دہشت گردی
Friday, 26 August 2016
راوی رات اور میں: افسانہ
Friday, 29 January 2016
رحمت العالمین
رحمت العالمین
Saturday, 4 October 2014
استاد نے کہا
جلن، پیار، دھکاوا، بھلاوا، پکار سب ایک طرح سے لگن ہے۔ مگر یہ لگن چھید کرتی ہے۔ ایسی لگن ہے جو گول گھوماتی ہے کہیں جانے نہیں دیتی ہمیشہ اپنے پاس رکھتی ہے اسی لیے چپ سادھ بھی ایک لگن ہے، ہمیشہ دوسرے کو اپنے بھیتر آنے دیتی ہے۔ سب کو انہیں سے ملا دیتی ہے۔ ایسے من خالی ہوجاتا ہے، کہیں انت نہیں ہوتا۔ اس لیے آنکھیں خالی دکھتی ہیں۔ جلن ہو تو آگ برساتی ہیں، دکھ ہو تو راکھ ۔
بات چپ سادھ کی ہے۔